شاعری

عیش دنیا کا جب شمار نہ تھا

عیش دنیا کا جب شمار نہ تھا تب ہمیں دل پہ اختیار نہ تھا ہم بھی کس قافلے میں شامل تھے جس کے پیچھے کوئی غبار نہ تھا عمر بھر عشق کا فریب رہا کب ہمیں اپنا انتظار نہ تھا رات دن ایک ہی رہا عالم کون سا لمحہ سوگوار نہ تھا وہ بھی معصوم تھا اگر شہرتؔ اپنا دامن بھی داغ دار نہ تھا

مزید پڑھیے

جانے کس کس کی توجہ کا تماشا دیکھا

جانے کس کس کی توجہ کا تماشا دیکھا توڑ کر آئنہ جب اپنا ہی چہرا دیکھا آ لگے گور کنارے تو ملا مژدۂ وصل رات ڈوبی تو ابھرتا ہوا تارا دیکھا ایک آنسو میں ہوئے غرق دو عالم کے ستم یہ سمندر تو ترے غم سے بھی گہرا دیکھا یاد آتا نہیں کچھ بھی کہ یہاں دنیا میں کون سی چیز نہیں دیکھی مگر کیا ...

مزید پڑھیے

دل سخت نڈھال ہو گیا ہے

دل سخت نڈھال ہو گیا ہے سانس آنا محال ہو گیا ہے تو تیرا وصال تیری فرقت سب خواب و خیال ہو گیا ہے وہ شوق کہ تھا متاع ہستی اب جی کا وبال ہو گیا ہے کیا ربط ہے میرا روز و شب سے ہر لمحہ سوال ہو گیا ہے جو درد بھلا دیا تھا تو نے وہ درد بحال ہو گیا ہے اب چارہ گری سے فائدہ کیا آغاز مآل ہو ...

مزید پڑھیے

اک عمر فسانے غم جاناں کے گڑھے ہیں

اک عمر فسانے غم جاناں کے گڑھے ہیں تارے افق شعر پہ کیا کیا نہ جڑے ہیں صحرا میں ہے جل تھل تو سمندر میں بگولے ہم وضع کے پابند ہیں چپ چاپ پڑے ہیں آئے کوئی جائے ہمیں کیا کام کہ ہم لوگ کھمبے ہیں کہ سڑکوں کے کنارے پہ گڑے ہیں خود پر جو پڑی ہے تو دھڑکتا نہیں دل بھی غیروں کے لئے کعبے میں جا ...

مزید پڑھیے

دل طلب گار تماشا کیوں تھا

دل طلب گار تماشا کیوں تھا یعنی حسرت کش دنیا کیوں تھا دن بہر حال گزر ہی جاتے دل کا احسان اٹھایا کیوں تھا سخت بیگانہ تھا لیکن یارب اتنا مانوس وہ چہرا کیوں تھا جز غزل خاک تھا دامن میں مرے اس نے پھر پیار سے دیکھا کیوں تھا وہ اگر میری رسائی میں نہ تھا آئینے میں کوئی ویسا کیوں ...

مزید پڑھیے

آ دل میں تجھے کہیں چھپا لوں

آ دل میں تجھے کہیں چھپا لوں لوگوں کی نگاہ سے بچا لوں کیوں تجھ پہ گمان بے وفائی کیوں اپنے ہی دل کی بد دعا لوں تجھ سا کوئی دوسرا نہیں ہے چاہے تو تری قسم اٹھا لوں دیوار امید ڈھے رہی ہے تصویر تری کہاں لگا لوں آئینے کی دھند صاف کر کے کیوں خود کو نہ حال دل سنا لوں کٹتے ہی نہیں پہاڑ ...

مزید پڑھیے

ہم پی گئے سب ہلے نہ اب تک

ہم پی گئے سب ہلے نہ اب تک جی ہار گئے نجوم شب تک ہر چند گھٹائیں چھٹ گئی ہیں پر دل پہ غبار سا ہے اب تک خوش ہو نہ زمانہ میرے غم پر آئے گا یہ دور جام سب تک اشکوں نے فسانہ کر دیا ہے وہ لفظ کہ آ سکا نہ لب تک ہر غم کو اڑا دیا ہنسی میں تم پیش نظر رہے ہو جب تک مے خانہ میں سر چھپائیں آؤ وا ...

مزید پڑھیے

جب منزلوں وہم تھا نہ شب کا

جب منزلوں وہم تھا نہ شب کا میں نکلا ہوا ہوں گھر سے تب کا جس شہر میں بس رہے تھے ہم تم وہ شہر اجڑ چکا ہے کب کا تھی پہلے عجب جدائی ان کی اب خود سے فراق ہے غضب کا اے محو طلسم روز روشن درپیش ابھی سفر ہے شب کا ہر گل سے بھڑک رہے ہیں شعلے یہ عہد مگر ہے بو لہب کا تم کاہے کو اکڑ رہے ہو ...

مزید پڑھیے

ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد

ہم شہر میں اک شمع کی خاطر ہوئے برباد لوگوں نے کیا چاند کے صحراؤں کو آباد ہر سمت فلک بوس پہاڑوں کی قطاریں خسروؔ ہے نہ شیریںؔ ہے نہ تیشہ ہے نہ فرہاد برسوں سے یہی خواب ہیں نیندوں کی سجاوٹ گلشن ہے مگر گل ہے نہ بلبل ہے نہ صیاد ہوں طائر بے بام چراغ سر صحرا امید کرم ہے نہ مجھے شکوۂ ...

مزید پڑھیے

بنا جانے کسی کے ہو گئے ہم

بنا جانے کسی کے ہو گئے ہم غبار کارواں میں کھو گئے ہم رگوں میں برف سی جمنے لگی ہے سنبھالو اپنی یادوں کو گئے ہم تمہاری مسکراہٹ رچ گئی ہے ہر اس غنچے میں جس پر رو گئے ہم کسے معلوم کیا محفل پہ گزری فسانہ کہتے کہتے سو گئے ہم تری چاہت کے سناٹوں سے ڈر کر ہجوم زندگی میں کھو گئے ہم نہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 556 سے 4657