شاعری

ان کو دیکھا تھا کہیں یاد نہیں

ان کو دیکھا تھا کہیں یاد نہیں آسماں تھا کہ زمیں یاد نہیں چاند تاروں کی مندی تھیں آنکھیں تھا کہاں مہر مبیں یاد نہیں نغمہ ہی نغمہ تھا یا رنگ ہی رنگ ہم مکاں تھے کہ مکیں یاد نہیں عہد و پیماں کی جھمکتی شمعیں کس طرح ڈوب گئیں یاد نہیں اب یہ عالم ہے کہ خود ہم کو بھی کیوں ہوئے برق نشیں ...

مزید پڑھیے

دل اس سے لگا جس سے روٹھا بھی نہیں جاتا

دل اس سے لگا جس سے روٹھا بھی نہیں جاتا کام اس سے پڑا جس کو چھوڑا بھی نہیں جاتا دن رات تڑپتا ہوں اب جس کی جدائی میں وہ سامنے آئے تو دیکھا بھی نہیں جاتا منزل پہ پہنچنے کی امید بندھے کیسے پاؤں بھی نہیں اٹھتے رستہ بھی نہیں جاتا یہ کون سی بستی ہے یہ کون سا موسم ہے سوچا بھی نہیں جاتا ...

مزید پڑھیے

بت بنے راہ تکو گے کب تک

بت بنے راہ تکو گے کب تک آس کی آنچ سہو گے کب تک سر اٹھا کر کبھی دیکھو تو سہی دل کی دنیا میں بسو گے کب تک جس نے اپنی بھی خبر لی نہ کبھی تم اسے یاد کرو گے کب تک ہم سفر ہو تو کوئی اپنا سا چاند کے ساتھ چلو گے کب تک کوئی پتا ہے نہ بوٹا ہے نہ گل دشت کو باغ کہوگے کب تک ہر طرف آگ برستی ہے ...

مزید پڑھیے

اک زمانے سے فلک ٹھہرا ہوا لگتا ہے

اک زمانے سے فلک ٹھہرا ہوا لگتا ہے کوئی جیتا ہے یہاں اور نہ کوئی مرتا ہے آزمائش ہو تو کیا جانیے کس کا نکلے دیکھنے میں تو وہ اپنا ہی کوئی لگتا ہے موت ہی کی ہو پر امید کی صورت ہو کوئی نا امیدی میں کہاں تک کوئی جی سکتا ہے نقش پا ہیں جو بتاتے ہیں کہ گزرا ہے کوئی کون گزرا ہے مگر کس کو ...

مزید پڑھیے

ہر لمحہ تھا سو سال کا ٹلتا بھی تو کیسے

ہر لمحہ تھا سو سال کا ٹلتا بھی تو کیسے لے آئی شب غم کوئی مرتا بھی تو کیسے اک آگ تھی جو پھونک رہی تھی دو جہاں کو وہ دل سے مرے ہو کے گزرتا بھی تو کیسے ہم پیاس کے ماروں نے عبث آس لگائی برسا ہوا بادل تھا برستا بھی تو کیسے گلچیں کی نظر تاک میں رہتی تھی برابر غنچہ کوئی کھلتا بھی مہکتا ...

مزید پڑھیے

وحشت کا کہیں اثر نہیں ہے

وحشت کا کہیں اثر نہیں ہے کچھ بھی ہے یہ میرا گھر نہیں ہے تا حد فلک کھنچی ہے دیوار دیوار میں کوئی در نہیں ہے آغاز سفر میں قافلہ تھا اب ایک بھی ہم سفر نہیں ہے کوفہ ہو دمشق ہو مدینہ سادات کا کوئی گھر نہیں ہے وہ، وہ تو نہیں جو سامنے تھا میرا ہے، مرا مگر نہیں ہے اس عہد کی شناخت ...

مزید پڑھیے

رسم گریہ بھی اٹھا دی ہم نے

رسم گریہ بھی اٹھا دی ہم نے آخری شمع بجھا دی ہم نے ایک موہوم تصور کے لیے روح کی آب گنوا دی ہم نے درمیان دل و گلزار حیات غم کی دیوار اٹھا دی ہم نے راکھ بھی پائے نہ کوئی اپنی اب کے وہ آگ لگا دی ہم نے سنسناتے رہے تارے پہروں کیوں تری بات سنا دی ہم نے ہر کڑی راہ میں ہر منزل پر تیرے ہی ...

مزید پڑھیے

جھونکا نفس کا موجۂ صرصر لگا مجھے

جھونکا نفس کا موجۂ صرصر لگا مجھے رات آ گئی تو خود سے بڑا ڈر لگا مجھے اتنا گداز ہے مرا دل فرط درد سے پھینکا کسی نے پھول تو پتھر لگا مجھے خود ہی ابھر کے ڈوب گیا اپنی ذات میں سورج اک اضطراب کا پیکر لگا مجھے یہ شام وعدہ ہے کہ پڑاؤ ہے وقت کا اک لمحہ اک صدی کے برابر لگا مجھے جیسے میں ...

مزید پڑھیے

ہر چند کہ پیارا تھا میں سورج کی نظر کا

ہر چند کہ پیارا تھا میں سورج کی نظر کا پھر بھی مجھے کھٹکا ہی رہا شب کے سفر کا الجھی ہے بہت جسم سے دریا کی روانی اس چوبی محل کا کوئی تختہ بھی نہ سر کا ڈوبا ہوا ایوان شفق بھی ہے دھوئیں میں بے رنگ سا ہر نقش ہے دیوار سحر کا رستے ہوئے ناسور پہ چلتے رہے نشتر تازہ ہی رہا پھول سدا زخم ہنر ...

مزید پڑھیے

جب دھیان میں وہ چاند سا پیکر اتر گیا

جب دھیان میں وہ چاند سا پیکر اتر گیا تاریک شب کے سینے میں خنجر اتر گیا جب سب پہ بند تھے مری آنکھوں کے راستے پھر کیسے کوئی جسم کے اندر اتر گیا ساحل پہ ڈر گیا تھا میں لہروں کو دیکھ کر جب غوطہ زن ہوا تو سمندر اتر گیا اک بھی لکیر ہاتھ پہ باقی نہیں رہی دست طلب سے نقش مقدر اتر گیا وہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 558 سے 4657