کوٹھے اجاڑ کھڑکیاں چپ راستے اداس

کوٹھے اجاڑ کھڑکیاں چپ راستے اداس
جاتے ہی ان کے کچھ نہ رہا زندگی کے پاس


دو پل برس کے ابر نے دریا کا رخ کیا
تپتی زمیں سے پہروں نکلتی رہی بھڑاس


مٹی کی سوندھ جاتے ہوئے ساتھ لے اڑی
ڈالی کا لوچ پات کی سبزی کلی کی باس


اشکوں سے کس کو پیار ہے آہوں سے کس کو انس
لیکن یہ دل کہ جس کو خوشی آ سکی نہ راس


ہشیار اے نوید اجل لٹ نہ جائیو
پھرتا ہے کوئی آٹھ پہر دل کے آس پاس


آنسو ہو مے ہو زہر ہو آب حیات ہو
جز خون آرزو نہ مجھے زندگی کی پیاس


جیسے کبھی تعلق خاطر نہ رہا
یوں روٹھ کر چلی گئی شہرتؔ ہر ایک آس