جانے کیا بات ہے مانوس بہت لگتا ہے
جانے کیا بات ہے مانوس بہت لگتا ہے
یہ جو اک غیر سا اس بزم میں آ بیٹھا ہے
عمر بھر تو نے زمانے کا کہا مانا ہے
دل کی آواز بھی سن دیکھ تو کیا کہتا ہے
مل بھی جائے جو کوئی ناؤ تو اب کیا حاصل
اب تو دریا مرے دروازے پہ آ پہنچا ہے
اس نے دل جان کے چھیڑا اسے معلوم نہ تھا
میرے پہلو میں دہکتا ہوا انگارا ہے
میرا جی جانے ہے یا میرا خدا جانے ہے
کیا سنا ہے ترے اس شہر میں کیا دیکھا ہے
ہائے کیا دیدہ وری ہے کہ سحر دم یہ کھلا
جس کو ہم شمع سمجھتے رہے پروانہ ہے
کوئی روئے تو ہنسو کوئی ہنسے تو رؤو
آج کے دور میں جینے کا یہی رستہ ہے
میرے سینے میں خنک تیرگیاں چھوڑ گیا
ایک آئینہ کہ سورج کی طرح جلتا ہے
کوئی بستی نہ کوئی پیڑ نہ چشمہ کوئی
قافلہ عمر رواں کا یہ کہاں اترا ہے
جاہ و منصب کی ہوس ہو تو میں کافر شہرتؔ
میں سگ کوئے علی ہوں میرا کیا کہنا ہے