کچھ حشر سے کم گرمئ بازار نہیں ہے
کچھ حشر سے کم گرمئ بازار نہیں ہے
وہ جنس ہوں میں جس کا خریدار نہیں ہے
اس رات کے گمبھیر اندھیرے میں ہے کیا کیا
حاصل تجھے پر دیدۂ بے دار نہیں ہے
ممکن ہو تو سینے میں اتر کر تو مرے دیکھ
وہ لاش ہوں میں جس کا عزا دار نہیں ہے
اک تیرے تغافل نے کمر توڑ کے رکھ دی
ورنہ غم دنیا تو مجھے بار نہیں ہے
ہنستا ہے مرے سینۂ صد چاک پہ کیا کیا
وہ جس کے گریبان میں اک تار نہیں ہے
دل خوگر غم کون سا غم پا کے جئے گا
ورنہ تجھے پانا مجھے دشوار نہیں ہے
کس منہ سے اماں چاہوں گا سورج سے دوبارہ
صد شکر کہ یاں سایۂ دیوار نہیں ہے
چاہے گا کسے کس کا وفادار رہے گا
یہ دل جسے خود سے بھی ابھی پیار نہیں ہے
کیا لطف ہے رکھتا ہے سر لطف و کرم بھی
شہرتؔ کہ ترے غم کا سزاوار نہیں ہے