حاصل انتظار کچھ بھی نہیں
حاصل انتظار کچھ بھی نہیں
یعنی انجام کار کچھ بھی نہیں
حسرت وصل کے مقابل میں
کلفت انتظار کچھ بھی نہیں
دشت میں کچھ نہیں سراب تو ہے
باغ میں گل نہ خار کچھ بھی نہیں
کس سے اپنی شناخت لیتے ہو
آئنہ جز غبار کچھ بھی نہیں
دل میں جھانکو مرے اگر تو کھلے
دامن تار تار کچھ بھی نہیں
کون ہم سے ملے کہ پاس اپنے
جز دل داغ دار کچھ بھی نہیں
آ نفس دو نفس کو مل بیٹھیں
سانس کا اعتبار کچھ بھی نہیں