اپنے درون جسم سے بد خو نکالیے
اپنے درون جسم سے بد خو نکالیے اک دیوتا کے روپ میں سادھو نکالیے جو تیرگی کے خوف سے خاموش ہو گئی اس رات کے لیے کئی جگنو نکالیے ابلیس گزرے دور کا زندہ ہے آج بھی اس کی قضا کے واسطے چاقو نکالیے کوئی مزہ نہیں ہے سیاست میں آج کل دیر و حرم سے کوئی تو جادو نکالیے اڑتے نہیں ہیں باز کے ...