شاعری

ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا

ٹوٹے ہوئے کھلونے نشانی میں دے گیا دھوکہ مجھے وہ عین جوانی میں دے گیا یہ اور بات مصرع اولیٰ میں کچھ نہیں لیکن وہ حسن مصرع ثانی میں دے گیا دریا نے تشنہ لب سے سیاست عجیب کی کچھ زہر بھی ملا کے وہ پانی میں دے گیا لایا ہزار خوشیاں مجھے سونپنے مگر پھر کیوں یہ رنج ریشہ داوانی میں دے ...

مزید پڑھیے

سانس کی آس نگہباں ہے خبردار رہو

سانس کی آس نگہباں ہے خبردار رہو دل چراغ تہ داماں ہے خبردار رہو پھر دو عالم کے اجڑنے کی گھڑی آ پہنچی آج پھر حسن پشیماں ہے خبردار رہو جادۂ شہر تصور کہ رہا رشتۂ جاں صورت گرد پریشاں ہے خبردار رہو پھر کسی دل میں قیامت نے سکوں ڈھونڈ لیا آج پھر وا در زنداں ہے خبردار رہو رنگ و خوشبو ...

مزید پڑھیے

غم کی بھٹی میں بصد شوق اتر جاؤں گا

غم کی بھٹی میں بصد شوق اتر جاؤں گا تپ کے کندن سا میں اک روز نکھر جاؤں گا زندگی ڈھنگ سے میں کر کے بسر جاؤں گا کام نیکی کے زمانے میں میں کر جاؤں گا مر کے جانا ہے کہاں مجھ کو نہیں یہ معلوم رہ کے دنیا میں کوئی کام تو کر جاؤں گا غم اٹھا لوں گا جو بخشے گا زمانہ مجھ کو تیرے دامن کو تو ...

مزید پڑھیے

مسئلے کا حل نہ نکلا دیر تک

مسئلے کا حل نہ نکلا دیر تک رات بھر جاگ بھی سوچا دیر تک مسکرا کر اس نے دیکھا دیر تک دل ہمارا آج دھڑکا دیر تک آپ آئے ہیں تو یہ آیا خیال بام پر کیوں پنچھی چہکا دیر تک ٹوٹتے ہی ان سے امید وفا دل ہمارا پھر نہ دھڑکا دیر تک پھول اپنے رس سے ونچت ہو گیا پھول پر بھنورا جو بیٹھا دیر تک کھل ...

مزید پڑھیے

تیرے ملنے سے ہم کو خوشی مل گئی

تیرے ملنے سے ہم کو خوشی مل گئی یوں لگا اک نئی زندگی مل گئی آپ کے دم سے ہے زندگی زندگی آپ کیا مل گئے زندگی مل گئی ہم تو تنہا چلے تھے مگر راہ میں مل گئے ہم سفر دوستی مل گئی لوگ تاریکیوں میں بھٹکتے رہے دل جلا کر ہمیں روشنی مل گئی زر ملا ہے کسی کو کسی کو زمیں تیرے در کی ہمیں بندگی مل ...

مزید پڑھیے

وہم ثابت ہوئے سب خواب سہانے تیرے

وہم ثابت ہوئے سب خواب سہانے تیرے یاد کرتے ہیں مگر لوگ فسانے تیرے کاش وہ دن نہ کبھی آئے کہ تو آ جائے راس آتے ہیں مرے جی کو بہانے تیرے ایسی افتاد پڑی اپنی خبر بھی نہ رہی ہم تو آئے تھے یہاں رنگ جمانے تیرے کل چھپا رکھتے تھے خود سے بھی محبت اپنی آج آئے ہیں تجھے داغ دکھانے تیرے خلق ...

مزید پڑھیے

آ دل میں تجھے کہیں چھپا لوں

آ دل میں تجھے کہیں چھپا لوں لوگوں کی نگاہ سے بچا لوں کیوں تجھ پہ گمان بے وفائی کیوں اپنے ہی دل کی بد دعا لوں دیوار امید گر رہی ہے تصویر تری کہاں لگا لوں آئنے کی دھند صاف کر کے کیوں خود کو نہ حال دل سنا لوں یہ فاصلے کیسے ختم ہوں گے میں کیسے تجھے یہاں بلا لوں کٹتے ہی نہیں پہاڑ سے ...

مزید پڑھیے

دل نے کس منزل بے نام میں چھوڑا تھا مجھے

دل نے کس منزل بے نام میں چھوڑا تھا مجھے رات بھر خود مرے سائے نے بھی ڈھونڈا تھا مجھے مجھ کو حسرت کہ حقیقت میں نہ دیکھا اس کو اس کو ناراضگی کیوں خواب میں دیکھا تھا مجھے اجنبی بن کے سر راہ ملا تھا جو ابھی یہ وہی شخص ہے جس نے کبھی چاہا تھا مجھے جب بھی تنہائی ملے آئینہ ہے یا میں ...

مزید پڑھیے

میں نے ہی نہ کچھ کھویا جو پایا نہ کسی کو

میں نے ہی نہ کچھ کھویا جو پایا نہ کسی کو اس نے بھی تو پورا نہ کیا میری کمی کو ہے موجزن اک قلزم خوں سینے میں اب تک درکار نہیں اور مری تشنہ لبی کو ہنستے انہیں دیکھا تو بہت پھوٹ کے روئے جو لوگ ترستے رہے اک عمر ہنسی کو کچھ ایسی طبیعت ملی ہم اہل چمن کو برداشت کیا ہے کبھی شبنم نہ کلی ...

مزید پڑھیے

زندگی تجھ پہ گراں ہے تو مرے گا کیسے

زندگی تجھ پہ گراں ہے تو مرے گا کیسے جس کو رونا نہیں آتا وہ ہنسے گا کیسے میری آنکھوں میں کوئی اشک نہ ہونٹوں پہ غزل داستان غم دل کوئی سنے گا کیسے ہاتھ شل ہو گئے دل درد سے محروم ہوا پردہ چھوڑا ہے جو اس نے وہ ہٹے گا کیسے کیسا نادان ہے تو جب مرا دل توڑا تھا یہ نہ سوچا کہ تجھے یاد کرے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 555 سے 4657