کوشش بھی یہ خلاف طبیعت کبھی نہ کی
کوشش بھی یہ خلاف طبیعت کبھی نہ کی
آسان راستوں کی سیاحت کبھی نہ کی
ہم نے دلوں کو جیتا ہے حسن سلوک سے
تیغ و تبر کے بل پہ حکومت کبھی نہ کی
ہم پاسبان امن و اماں ہی رہے سدا
غارت گری کی ہم نے وکالت کبھی نہ
بے جا نوازشوں کے نہ قائل کبھی تھے ہم
مال و متاع کی کوئی چاہت کبھی نہ کی
گزرے ہیں کتنی بار صنم خانوں سے مگر
اس کے سوا کسی کی عبادت کبھی نہ کی
ہیں محترم ہمارے لئے انبیا تمام
ہم نے کسی نبی کی اہانت کبھی نہ کی
جب بھی چلے ہیں جادۂ حق پر چلے ہیں ہم
ہم نے منافقوں کی اطاعت کبھی نہ کی
کی ہیں زمین دل پہ محبت کی کھیتیاں
فصل حسد کی ہم نے زراعت کبھی نہ کی
مولیٰ سے مغفرت کے علاوہ دعا میں شادؔ
کچھ اور مانگنے کی جسارت کبھی نہ کی