صدا بام وفا سے ہر کسی کو دی گئی لیکن (ردیف .. د)

صدا بام وفا سے ہر کسی کو دی گئی لیکن
کسی میں بھی یہاں ذوق وفاداری نہیں شاید


خلوص و مہر کے شعلوں میں جو تبدیل ہو جائے
تمہارے دل میں چاہت کی وہ چنگاری نہیں شاید


مسلسل گامزن ہے اپنی دھن میں جانب منزل
بدن کا بوجھ میری روح پر بھاری نہیں شاید


غم الفت کو دنیا سے چھپا کر میں کہاں رکھوں
مرے دل کے مکاں میں کوئی الماری نہیں شاید


جہاں پر تم کھڑے ہو وہ خود آرائی کا پربت ہے
وہاں سے نیچے آنے میں تو دشواری نہیں شاید


مجھے یہ بات کہنے میں جھجھک ہوتی نہیں کچھ بھی
ہمارا دبدبہ دنیا پہ اب طاری نہیں شاید


زمانہ اس کے رونے کی اداکاری کا قائل ہے
مرا دل کہہ رہا ہے یہ اداکاری نہیں شاید


تمہارے چھونے سے دھڑکن ہماری تیز ہوتی ہے
ہمیں اے شادؔ لیکن دل کی بیماری نہیں شاید