کسی شب اس کو بے پردہ تو آنا چاہیے تھا

کسی شب اس کو بے پردہ تو آنا چاہیے تھا
ہمارے ظرف کو بھی آزمانا چاہیے تھا


خیالوں میں نہ آنے کی اسے تاکید کی ہے
مگر پھر بھی شکایت ہے کہ آنا چاہئے تھا


ہم آخر کار شیشے میں اتر جاتے کسی دن
تمہیں اک اور نسخہ آزمانا چاہیے تھے
سبھی سے دل لگی کرنا جو ہے فطرت تمہاری
تو یہ سب کچھ تمہیں پہلے بتانا چاہیے تھا


مجھے امید تھی وہ مان جائے گا بہت جلد
مگر اس کو تو شاید اک زمانہ چاہیے تھا


تمنا تھی مری خوشیوں سے بھر دوں اس کا دامن
اسے لیکن غموں کا کارخانہ چاہیے تھا


بہت مشکل سے بنتا ہے جہاں میں کوئی اپنا
تمہیں ہر حال میں رشتہ نبھانا چاہیے تھا


گماں تھا شادؔ اس کو مجھ سے الفت ہو گئی ہے
اسے رونے کو لیکن میرا شانہ چاہیے تھا