شاعری

قلب کا احتجاج ہوتا ہے

قلب کا احتجاج ہوتا ہے اور کیا اختلاج ہوتا ہے سب نتیجہ ہے اپنی کرنی کا یہ جو دنیا میں آج ہوتا ہے یہ بھی رنگت بدلتی ہے اپنی لاش کا بھی مزاج ہوتا ہے محو ہوتے ہیں عشق میں جو لوگ ان سے کب کام کاج ہوتا ہے بچ کے چلتا ہے ہر کوئی اس سے شخص جو بد مزاج ہوتا ہے مسلک عشق میں تو کثرت سے ظلم ...

مزید پڑھیے

ہائے کیا حال کر لیا دل کا

ہائے کیا حال کر لیا دل کا زخم اب تک نہیں سیا دل کا آ کے صورت دکھا ان آنکھوں کو بجھ نہ جائے کہیں دیا دل کا کل تلک تھا وفا کا سودائی آج پڑھتا ہے مرثیہ دل کا تولے احساس کی کسوٹی پر ہے جداگانہ زاویہ دل کا کوئی رف ورک کا نشاں بھی نہیں خالی خالی ہے حاشیہ دل کا کامیابی کا انحصار اس ...

مزید پڑھیے

سحر جب مسکرائی تب کہیں تاروں کو نیند آئی

سحر جب مسکرائی تب کہیں تاروں کو نیند آئی بہت مشکل سے کل شب درد کے ماروں کو نیند آئی سنا ہے شام سے ہی تاک میں بیٹھے ہیں سب گلچیں قیامت گل پہ آئے گی اگر خاروں کو نیند آئی ہمیشہ ذہن و دل میں کچھ نہ کچھ چلتا ہی رہتا ہے ہوئے جو فکر سے خالی تو فنکاروں کو نیند آئی ازل سے پوری شدت سے ...

مزید پڑھیے

تمام خوشیاں تمام سپنے ہم ایک دوجے کے نام کر کے

تمام خوشیاں تمام سپنے ہم ایک دوجے کے نام کر کے نبھائیں الفت کی ساری رسمیں وفاؤں کا اہتمام کر کے نہ دور دل سے کبھی تو جانا دل و جگر میں مقام کر کے پیالۂ عشق الٹ نہ دینا اے ساقیا مے بجام کر کے رہی نہ مجھ میں سکت ذرا بھی کہ ظلم تیرے سہوں مسلسل ملے گا کیا تجھ کو اے ستم گر غموں کا یوں ...

مزید پڑھیے

بے بسی سے ہاتھ اپنے ملنے والے ہم نہیں

بے بسی سے ہاتھ اپنے ملنے والے ہم نہیں مہربانی پر کسی کی پلنے والے ہم نہیں رہ گزر اپنی جدا ہے فلسفہ اپنا الگ جا ترے نقش قدم پر چلنے والے ہم نہیں ایک بس دل کا کیا ہے جان جاں تجھ سے سوال دل لئے بن تیرے در سے ٹلنے والے ہم نہیں ہم کہ سورج کی طرح بزدل نہیں اے ظلمتو تیرگیٔ شب سے ڈر کر ...

مزید پڑھیے

دل پر ستم ہزار کرے بے وفا کے لب

دل پر ستم ہزار کرے بے وفا کے لب برچھی کبھی کٹار لگے دل ربا کے لب گفت و شنید میں بڑے بے باک ہیں مگر دیکھا مجھے تو کھل نہ سکے لب کشا کے لب گفتار و آن بان کا عالم نہ پوچھئے خوش رنگ و جاں فزا ہیں مرے ہم نوا کے لب ہو جائے پل میں خاک وہ جس کو یہ چوم لیں جلتے ہوئے شرارے ہیں جان ادا کے ...

مزید پڑھیے

تو میری منزل ہے تیرا رستہ میں

تو میری منزل ہے تیرا رستہ میں نازاں ہوں ہو کر تجھ سے وابستہ میں جان کے بھی انجان بنی رہتی ہے تو پاس کبھی آ جاؤں جو آہستہ میں پیار کی خوشبو سے مہکاتا ہوں محفل اپنے آپ میں پھولوں کا گلدستہ میں ورنہ کون سنے کم ظرفوں کے طعنے مجبوری کے باعث ہوں لب بستہ میں وہ جو عیاں ہو کر بھی نہاں ...

مزید پڑھیے

نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے

نہ تو اسلوب نہ انداز گراں گزرا ہے اس پہ میرا فن پرواز گراں گزرا ہے یہ الگ بات نتیجہ جو نکلتا لیکن اتنا مایوس کن آغاز گراں گزرا ہے اک نہ اک روز تو کھلنی ہی تھی سچائی مگر فاش اچانک جو ہوا راز گراں گزرا ہے جن میں جرأت نہیں اڑنے کی انہیں کو میرا ہونا یوں مائل پرواز گراں گزرا ہے آتے ...

مزید پڑھیے

حرف اثبات کی تقلید سے آغاز کیا

حرف اثبات کی تقلید سے آغاز کیا صبح کا رات پہ تنقید سے آغاز کیا شعر گوئی کے سفر کا میاں ناصح ہم نے اپنے افکار کی تجدید سے آغاز کیا وہ پس و پیش کہ سوچوں تو لرز جاتا ہوں اس کی ترجیح نے تردید سے آغاز کیا دیکھتا کیا ہے مرا شوق جنوں میں نے تو اپنے ہر دن کا تری دید سے آغاز کیا عرض‌ ...

مزید پڑھیے

ان کی بھی شرارت تو دیکھو ہم کو ہی کہو گے دوشی کیا

ان کی بھی شرارت تو دیکھو ہم کو ہی کہو گے دوشی کیا برداشت سے باہر ہو جائے تو اوڑھے کوئی خموشی کیا جو اپنی ذات میں خود سر ہیں کیا ان کا ضمیر جھنجھوڑے کوئی ظاہر پر کان نہ دیں جو انہیں باطن کی بھلا سرگوشی کیا دنیا کی بنائی رسم ہے یہ جو ہم کو نبھانی ہے ورنہ نازاں جس پر خود گلشن ہو اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 543 سے 4657