شاعری

رکا تو راز کھلا کب سے اپنے گھر میں تھا

رکا تو راز کھلا کب سے اپنے گھر میں تھا کہ میرا گھر تو مری حالت سفر میں تھا بہت عجیب سا دکھ تھا جو تو نے مجھ کو دیا کہ اک تبسم مخفی بھی چشم تر میں تھا عراق و شام کے پردے میں بے نقاب ہوا تمام دہر کا دکھ ایک ننگے سر میں تھا قدم عروس وفا کے کہاں کہاں پہنچے حنا کا رنگ ستاروں کی رہ گزر ...

مزید پڑھیے

تمہارے نام کر بیٹھے دل و جاں کی خوشی صاحب

تمہارے نام کر بیٹھے دل و جاں کی خوشی صاحب حسین و دل نشیں لگتی ہے اب تو زندگی صاحب ملن کی ساعتوں میں جاں فزا خوشبو انوکھی ہے ہمہ دم رقص کرتی ہے عجب اک بے خودی صاحب تر و تازہ ہوئی مٹی مری بس ایک لمحے میں ہنر اب آزماؤ اور کرو کوزہ گری صاحب تمہارے ایک حرف خوش نما پر وار دوں غزلیں سخن ...

مزید پڑھیے

سفر گماں ہے راستہ خیال ہے

سفر گماں ہے راستہ خیال ہے چلو گے میرے ساتھ کیا خیال ہے اگر جہان خوش نما فریب ہے تو سب فریب ہے خدا خیال ہے نظر کو عکس جان کی للک ہے اور غضب یہ ہے کہ آئنہ خیال ہے کسی نظر کی روشنی سے منسلک یہ طاق میں دھرا دیا خیال ہے کبھی یہاں وہاں بھٹک کے رہ گیا کبھی خیال سے ملا خیال ہے مجھے بھی ...

مزید پڑھیے

زلزلہ آیا مکاں گرنے لگا

زلزلہ آیا مکاں گرنے لگا نیند میں اک خواب داں گرنے لگا باپ کی رخصت کا لمحہ ہائے ہائے اک گھنیرا سائباں گرنے لگا وہ زمیں کی اور بڑھتا ہی رہا آسماں پر آسماں گرنے لگا ہالۂ طاق طلب میں دفعتاً اک چراغ خوش گماں گرنے لگا

مزید پڑھیے

میں کسی کی رات کا تنہا چراغ

میں کسی کی رات کا تنہا چراغ اتنا سننا تھا کہ پھر مہکا چراغ طاق جاں کی گل ہوئی افسردگی آس نے امید کا رکھا چراغ اندرون ذات تک کھلتا ہوا جسم کے جنگل میں اک اگتا چراغ دو ستارے جڑ کے یکجا ہو گئے آخر شب ڈوب کر ابھرا چراغ خواب میں دونوں نے دیکھی روشنی نیند میں مل بانٹ کر ڈھونڈا ...

مزید پڑھیے

سفر گماں ہے راستہ خیال ہے

سفر گماں ہے راستہ خیال ہے چلو گے میرے ساتھ کیا خیال ہے اگر جہان خوشنما فریب ہے تو سب فریب ہے خدا خیال ہے نظر کو عکس جان کی للک ہے اور غضب یہ ہے کہ آئنہ خیال ہے کسی نظر کی روشنی سے منسلک یہ طاق میں دھرا دیا خیال ہے کبھی یہاں وہاں بھٹک کے رہ گیا کبھی خیال سے ملا خیال ہے مجھے بھی ...

مزید پڑھیے

اداسی کے دلدل میں گرتا ہوا دل

اداسی کے دلدل میں گرتا ہوا دل بچاؤں میں کیسے یہ مرتا ہوا دل میں اس کی محبت میں لبریز دریا وہ مجھ میں اتر کے ابھرتا ہوا دل ستارے خلا سے ابھی توڑ لاؤں مگر آسماں سے یہ ڈرتا ہوا دل کبھی تم نے دیکھا ہے بولو بتاؤ کسی آئینے میں سنورتا ہوا دل عیاں اس کی آنکھوں کی شفافیت میں دھلے ...

مزید پڑھیے

محبت میں مرے سر پر یہی الزام لازم تھا

محبت میں مرے سر پر یہی الزام لازم تھا زمانے بھر میں ہو جانا مرا بدنام لازم تھا سناؤں تشنگی کا حال کیا زندہ ہوں میں اب تک مرے ہونٹوں پہ ہر لمحہ تمہارا نام لازم تھا نچوڑا ہے لہو اپنا لکھے تب شعر ہیں میں نے کہیں پر وزن لازم تھا کہیں الہام لازم تھا ہزاروں خواہشوں کا گھر خریدے کون ...

مزید پڑھیے

آنکھوں سے آنکھوں تک کے اشارے سے دور رہ

آنکھوں سے آنکھوں تک کے اشارے سے دور رہ گر ہو سکے تو ایسے شرارے سے دور رہ گندہ کرے گا وہ تجھے پاؤں بچا کے چل اے شخص راہ میں پڑے گارے سے دور رہ کر شکر بس اسی کا جو ہے مل گیا تجھے یہ زیست ہے تو اس کے خسارے سے دور رہ اپنے دلوں میں نفرتیں پالے ہوئے ہیں لوگ اے شخص تو کسی کے سہارے سے دور ...

مزید پڑھیے

اپنے رنگ میں رنگ دوں گا میں عین تمہیں

اپنے رنگ میں رنگ دوں گا میں عین تمہیں حد سے بڑھ کے کر دوں گا بے چین تمہیں اہل قریہ مجھ سے ہیں بیزار بہت دیتا نہیں کیا میرا سنائی بین تمہیں دل میں روح میں ہر اک جا میں رکھا ہے ماتھے پر اور آنکھوں کے مابین تمہیں جان سے بڑھ کر لوگو ان سے پیار کرو شیر خدا نے جب ہیں دیے سبطین تمہیں آ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 523 سے 4657