شاعری

پیاسا جو میرے خوں کا ہوا تھا سو خواب تھا

پیاسا جو میرے خوں کا ہوا تھا سو خواب تھا نیندوں میں زہر گھول رہا تھا سو خواب تھا کانٹا جو دل کے پار ہے تعبیر ہے سو یہ صحرا میں اک گلاب کھلا تھا سو خواب تھا اک التجا تھی آنکھوں میں پتھرا کے رہ گئی اک عکس سنگ در پہ کھڑا تھا سو خواب تھا پہلے زمین خاک ہوئی تھی بہ صد نیاز شب بھر پھر ...

مزید پڑھیے

نشاط غم کے تئیں اک خط مماس ہوں آج

نشاط غم کے تئیں اک خط مماس ہوں آج نصیب دشمناں زندہ ہوں بے ہراس ہوں آج جدائی درد محبت تھی رسم ختم ہوئی نہ وہ اداس ہوا کل نہ میں اداس ہوں آج غریب دل بھی عجب غم نواز ہوتا ہے خوشی ملی ہے تو کس درجہ بد حواس ہوں آج میں در بہ در ہوں کہ مارا ہوا ضمیر کا ہوں میں آئنہ تھا مگر کتنا بے لباس ...

مزید پڑھیے

بس ایک بوند تھی اوراق جاں میں پھیل گئی

بس ایک بوند تھی اوراق جاں میں پھیل گئی ذرا سی بات مری داستاں میں پھیل گئی ہوا نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ لو میری تمام شش جہت جسم و جاں میں پھیل گئی وہ خواب تھا کہ کھلا تھا دریچۂ شب ہجر ترے وصال کی خوشبو مکاں میں پھیل گئی جو اس کے بعد ہوا اس سے بے خبر تھے سب ہوا نے کچھ نہ کہا بادباں ...

مزید پڑھیے

موج خیال یار غم آثار آئی ہے

موج خیال یار غم آثار آئی ہے کیوں چاہتوں کے بیچ یہ دیوار آئی ہے اک بوند ہاتھ آئی ہے پتھر نچوڑ کر آنکھوں سے لب پہ قوت اظہار آئی ہے ہم دشمنوں میں اپنی زباں ہار آئے ہیں جب ہاتھ کٹ چکے ہیں تو تلوار آئی ہے کیوں آسماں نے دست تہی پھر کیا دراز کیوں دھوپ زیر سایۂ دیوار آئی ہے سورج جھلس ...

مزید پڑھیے

میں بھی آوارہ ہوں تیرے سات آوارہ ہوا

میں بھی آوارہ ہوں تیرے سات آوارہ ہوا لا تو میرے ہاتھ میں دے ہات آوارہ ہوا جنگلی پھولوں کی خوشبو رقص سرشاری شباب نذر کر مجھ کو بھی کچھ سوغات آوارہ ہوا ایک سرشاری ہے جسم و روح پر چھائی ہوئی ریزہ ریزہ آسماں برسات آوارہ ہوا اس خرابے میں بھی اک جنت بنا لی ہے جہاں ایک میں ہوں اک خدا ...

مزید پڑھیے

رات ہوئی پھر ہم سے اک نادانی تھوڑی سی

رات ہوئی پھر ہم سے اک نادانی تھوڑی سی دل سرکش تھا کر بیٹھا من مانی تھوڑی سی تھوڑی سی سرشاری نے دی گہری دھند میں راہ بہم ہوئی آنکھوں کو تب آسانی تھوڑی سی بچھڑا وہ تو لوٹ آنے کی راہ نہ کھوٹی کی کنج میں دل کے چھوڑ گیا ویرانی تھوڑی سی یارب پھر سے بھیج طلسم ہوش ربا کوئی وقت عطا کر ...

مزید پڑھیے

نہ کوئی نقش نہ پیکر سراب چاروں طرف

نہ کوئی نقش نہ پیکر سراب چاروں طرف تمام دشت اسیر عذاب چاروں طرف مسیح وقت اب آئے تو بس خدا آئے پیمبروں کی زمیں اور عذاب چاروں طرف میں بیچوں بیچ کھڑا ہوں سلگتے جنگل میں حصار باندھے ہوئے آفتاب چاروں طرف ہمارے نام لکھی جا چکی تھی رسوائی ہمیں تو ہونا تھا یوں بھی خراب چاروں ...

مزید پڑھیے

بے کراں سمجھا تھا خود کو کیسے نادانوں میں تھا

بے کراں سمجھا تھا خود کو کیسے نادانوں میں تھا آسماں بکھرا تو ہر سو شبنمی دانوں میں تھا میں نے جس زینے پہ رکھا پا تو مجھ کو ڈس گیا جب بھی دانہ میں نے پھینکا سانپ کے خانوں میں تھا پھر کوئی موج بلا کیسے مرا سر لے گئی اے خدا میرے خدا تو بھی نگہبانوں میں تھا اک لہو کی بوند تھی لیکن ...

مزید پڑھیے

بھولی بسری بات ہے لیکن اب تک بھول نہ پائے ہم

بھولی بسری بات ہے لیکن اب تک بھول نہ پائے ہم مٹھی بھر تاروں کی خاطر اپنا چاند گنوائے ہم اب تو تمہارے حصے کا بھی پیار ہمیں کرنا پڑتا ہے تم سے سن کر جتنے قصے یاد تھے سب دہرائے ہم تم ہوتے تو بیتابی سے ہم کو لگا لیتے سینے سے جن راتوں میں دکھ جھیلے ہیں جن میں رنج اٹھائے ہم نیند کہاں ...

مزید پڑھیے

آگ دیکھوں کبھی جلتا ہوا بستر دیکھوں

آگ دیکھوں کبھی جلتا ہوا بستر دیکھوں رات آئے تو یہیں خواب مکرر دیکھوں ایک بے چین سمندر ہے مرے جسم میں قید ٹوٹ جائے جو یہ دیوار تو منظر دیکھوں رات گہری ہے بہت راز نہ دے گی اپنا میں تو سورج بھی نہیں ہوں کہ اتر کر دیکھوں خود پہ کیا بیت گئی اتنے دنوں میں تجھ بن یہ بھی ہمت نہیں اب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 517 سے 4657