شاعری

وفا کر مگر استواری نہ رکھ

وفا کر مگر استواری نہ رکھ کوئی بوجھ سینے پہ بھاری نہ رکھ محبت کے بدلے محبت نہ مانگ کہ یہ سلسلہ کاروباری نہ رکھ کسی اور حیلے سے کر مستفیض فقط رسم بادہ گساری نہ رکھ تو آیا ہے تو حرف مطلب پہ آ زباں پر بہت خاکساری نہ رکھ سلامت نہیں سر تو دستار کیا بہت اونچی اپنی اٹاری نہ ...

مزید پڑھیے

زبان خلق کو چپ آستیں کو تر پا کر

زبان خلق کو چپ آستیں کو تر پا کر میں آب دیدہ ہوا خوں کو در بدر پا کر یہ کس کے قرب کی خوشبو بسی ہے سانسوں میں یہ مجھ سے کون ملا مجھ کو بے خبر پا کر سفر کی شرط کبھی اس قدر کڑی کب تھی تھکن کچھ اور بڑھی سایۂ شجر پا کر وہ سبز تن تھا شفق پیرہن کھلا اس پر بنا گلاب سا وہ لمس یک نظر پا کر وہ ...

مزید پڑھیے

دل ہی گرداب تمنا ہے یہیں ڈوبتے ہیں

دل ہی گرداب تمنا ہے یہیں ڈوبتے ہیں اپنے ہی غم میں ترے خاک نشیں ڈوبتے ہیں دل فقیرانہ تھا مہر و مہ و انجم نہ بنے خس کی مانند رہے ہم کہ نہیں ڈوبتے ہیں ہم اگر ڈوبے تو کیا کون سے ایسے ہم تھے شہر کے شہر جہاں زیر زمیں ڈوبتے ہیں اپنی روپوشی تہ خاک مقدر ہے تو کیا ڈوبنے کو تو ستارے بھی ...

مزید پڑھیے

ہوس مٹتی نہیں خوف خدا پامال رکھتا ہے

ہوس مٹتی نہیں خوف خدا پامال رکھتا ہے عجب سرکش ہے دل میرا کہ حسب حال رکھتا ہے وہی آنکھیں ہیں جو گنج گراں مایہ لٹاتی تھیں وہی دل اب ہے اپنے آپ کو کنگال رکھتا ہے رفاقت کوئی مجبوری نہ اپنی تھی نہ اس کی تھی مگر وہ میرے روز و شب کے سب احوال رکھتا ہے برہنہ شام دھندلے آئنے میں جیسے گھل ...

مزید پڑھیے

ہونٹوں پہ سخن آنکھوں میں نم بھی نہیں اب کے

ہونٹوں پہ سخن آنکھوں میں نم بھی نہیں اب کے اس طرح وہ بچھڑا ہے کہ غم بھی نہیں اب کے خود کو دل سرکش نے بھی رکھا نہ کہیں کا جینے پہ رضامند تو ہم بھی نہیں اب کے تنہا ہیں تو درپیش ہیں خطرات سفر اور یوں بے سر و ساماں یہاں کم بھی نہیں اب کے کیا کہئے کہ جو منہ میں زباں بھی نہیں اپنی افسوس ...

مزید پڑھیے

اب یہی بہتر ہے نقش آب ہونے دے مجھے

اب یہی بہتر ہے نقش آب ہونے دے مجھے یوں ہی رسوا خاطر احباب ہونے دے مجھے نیند آنکھوں میں پرندوں کی طرح اتری ہے آج اے نفس آہستہ چل غرقاب ہونے دے مجھے ایک ٹکڑا ابر کا پھرتا ہے مانند غزال اے مری چشم ہوس سیراب ہونے دے مجھے عمر بھر میں ایک کام ایسا تو کر شوق جنوں میں اگر دریا ہوں تو بے ...

مزید پڑھیے

آرزو جینے کی تھی امکان جینے کا نہ تھا

آرزو جینے کی تھی امکان جینے کا نہ تھا خواہشیں تھیں صف بہ صف سامان جینے کا نہ تھا قرض تھا تیرا سو جیتے جی تجھے لوٹا دیا زندگی ورنہ مجھے ارمان جینے کا نہ تھا دوستی زہراب سے کی رنج و غم سے کی نباہ ورنہ یہ ماحول میری جان جینے کا نہ تھا زندگی تو چھوڑ میرا ساتھ میں بے زار ہوں میرا ...

مزید پڑھیے

دل آئینہ ساماں پارہ پارہ کر کے دیکھا جائے

دل آئینہ ساماں پارہ پارہ کر کے دیکھا جائے ستاروں کو کبھی محو نظارہ کر کے دیکھا جائے کبھی تا دیر شبنم تخت گل پر بھی نہیں رہتی امیر شہر کو اتنا اشارہ کر کے دیکھا جائے چمکتا ہے سر مژگاں نم جو ٹوٹ کر دل سے چلو اس اشک خونی کو ستارہ کر کے دیکھا جائے ہری کانٹوں بھری بیلیں مری سانسوں ...

مزید پڑھیے

سنبھال اے مری مٹی بدل نہ جاؤں کہیں

سنبھال اے مری مٹی بدل نہ جاؤں کہیں مجھے رلا دے کہ پتھر میں ڈھل نہ جاؤں کہیں کمان جاں میں ہوں اک آخری نفس کا تیر میں دسترس سے بھی اپنی نکل نہ جاؤں کہیں سمیٹ لے مرے مہتاب مجھ کو سینے میں جھلس رہی ہے کوئی شے میں جل نہ جاؤں کہیں وفا کے نام پہ دے جو فریب دے مجھ کو تباہ ہونے سے پہلے ...

مزید پڑھیے

وہی رنگ رخ پہ ملال تھا یہ پتہ نہ تھا

وہی رنگ رخ پہ ملال تھا یہ پتہ نہ تھا مرا غم بھی شامل حال تھا یہ پتہ نہ تھا وہی شام آخری شام تھی یہ خبر نہ تھی وہی وقت وقت زوال تھا یہ پتہ نہ تھا مجھے کر گیا جو تہی تہی بھرے شہر میں وہ مرا ہی دست سوال تھا یہ پتہ نہ تھا مجھے بت بنا کے چلے گئے کہ نہ رو سکوں انہیں میرا اتنا خیال تھا یہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 516 سے 4657