شاعری

اے دل بے ادب اس یار کی سوگند نہ کھا

اے دل بے ادب اس یار کی سوگند نہ کھا توں ہر اک بات میں دل دار کی سوگند نہ کھا روح چندر بدن اے بو الہوس آزردہ نہ کر خوب نہیں تربت مہیار کی سوگند نہ کھا یہ ادا سرو میں زنہار نہیں اے قمری یار کے قامت و رفتار کی سوگند نہ کھا خوف کر خط کی سیاہی ستی اے وعدہ خلاف ہر گھڑی مصحف رخسار کی ...

مزید پڑھیے

ہر طرف یار کا تماشا ہے

ہر طرف یار کا تماشا ہے اس کے دیدار کا تماشا ہے عشق اور عقل میں ہوئی ہے شرط جیت اور ہار کا تماشا ہے خلوت انتظار میں اس کی در و دیوار کا تماشا ہے سینۂ داغ داغ میں میرے صحن گل زار کا تماشا ہے ہے شکار کمند عشق سراجؔ اس گلے ہار کا تماشا ہے

مزید پڑھیے

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی چلی سمت غیب سیں کیا ہوا کہ چمن ظہور کا جل گیا مگر ایک شاخ نہال غم جسے دل کہو سو ہری رہی نظر تغافل یار کا ...

مزید پڑھیے

کون کہتا ہے جفا کرتے ہو تم

کون کہتا ہے جفا کرتے ہو تم شرط معشوقی وفا کرتے ہو تم مسکرا کر موڑ لیتے ہو بھویں خوب ادا کا حق ادا کرتے ہو تم ہم شہیدوں پر ستم جیتے رہو خوب کرتے ہو بجا کرتے ہو تم سرمئی آنکھوں کوں کیا سرمے سیں کام ناحق ان پر توتیا کرتے ہو تم ہر پر بلبل کوں اے خونیں نگاہ خون گل سیں کربلا کرتے ہو ...

مزید پڑھیے

کہاں ہے گل بدن موہن پیارا

کہاں ہے گل بدن موہن پیارا کہ جیوں بلبل ہے نالاں دل ہمارا بساط عشق بازی میں مرا دل متاع صبر و نقد و ہوش ہارا تغافل ترک کر اے شوخ بے باک تلطف کر نوازش کر مدارا ہزارے کا نہیں ہے ذوق مجھ کوں کیا ہوں جب سیں تجھ مکھ کا نظارا سنا ہے جب سیں تیرے حسن کا شور لیا زاہد نے مسجد کا کنارا شب ...

مزید پڑھیے

صنم خوش طبعیاں سیکھے ہو تم کن کن ظریفوں سیں

صنم خوش طبعیاں سیکھے ہو تم کن کن ظریفوں سیں کہ یہ لطف ادا معلوم ہوتا ہے لطیفوں سیں لکھوں وصف اس کی زلفوں کے قلم کر شاخ سنبل کوں دواتوں میں سیاہی بھر گل شبو کی قیفوں سیں تری سیدھی نگاہیں ان دنوں میں گرم الفت ہیں مجھے سیفی لگی ہے ہات کئی ورد اور وظیفوں سیں خیال اس کا ہم آغوش نظر ...

مزید پڑھیے

مجلس عیش گرم ہو یارب

مجلس عیش گرم ہو یارب یار اگر ہووے شمع بزم طرب خون دل آنسوؤں میں صرف ہوا گر گئی یہ بھری گلابی سب مہر ہے داغ غم سیں دل کی برات نقد دیدار ہے ہماری طلب چاہئے زاہدوں کوں حجرۂ تنگ باغ عاشق ہے وسعت مشرب دل مرا ہے ترے تغافل سیں عندلیب گل بہار غضب دل کی جاگیر ہے جمال آباد جب سیں پایا ...

مزید پڑھیے

اس نے سوچا بھی نہیں تھا کبھی ایسا ہوگا

اس نے سوچا بھی نہیں تھا کبھی ایسا ہوگا دل ہی اصرار کرے گا کہ بچھڑنا ہوگا کشتیاں ریت پہ بیٹھی ہیں امیدیں باندھے ایسا لگتا ہے یہ صحرا کبھی دریا ہوگا اک اداسی مری دہلیز پہ بیٹھی ہوگی ایک جگنو مرے کمرے میں بھٹکتا ہوگا تم نے وہ زخم دیا ہے مری تنہائی کو جو نہ آسودۂ غم ہوگا نہ اچھا ...

مزید پڑھیے

اپنے سینے کو مرے زخموں سے بھرنے والی

اپنے سینے کو مرے زخموں سے بھرنے والی تو کہاں کھو گئی خوشبو سی بکھرنے والی میں تو ہو جاؤں گا روپوش تہ خاک مگر ایک خواہش ہے مرے دل میں نہ مرنے والی آنکھیں ویران ہیں ہونٹوں پہ سلگتے ہیں سراب تہہ نشیں ہو گئی ہر موج ابھرنے والی اک سکوں پا گیا جا کر تہہ دریا پتھر اب بلا کوئی نہیں سر ...

مزید پڑھیے

شریک غم کوئی کب معتبر نکلتا ہے

شریک غم کوئی کب معتبر نکلتا ہے سوائے دل کے سو وہ بے خبر نکلتا ہے یہ کیسا شہر ہے کیسی ہے سر زمیں اس کی جہاں کی خاک پلٹتا ہوں سر نکلتا ہے جدھر ہیں پیاسے ادھر بارشیں ہیں تیروں کی جدھر غنیم ہے دریا ادھر نکلتا ہے اسے خبر ہے کہ ظلمت ہے صف بہ صف ہر سو اجالا ہاتھ میں لے کر سپر نکلتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 515 سے 4657