شاعری

پھر سورج نے شہر پہ اپنے قہر کا یوں آغاز کیا

پھر سورج نے شہر پہ اپنے قہر کا یوں آغاز کیا جن جن کے لمبے دامن تھے ان کا افشا راز کیا زہر نصیحت تیر ملامت درس حقیقت سب نے دیئے ایک وہی تھا جس نے میری ہر عادت پر ناز کیا نقد تعلق خوب کمایا لیکن خرچ ارے توبہ یہ تو بتاؤ کل کی خاطر کیا کچھ پس انداز کیا شہر میں اس کیفیت کا ہے کون محرک ...

مزید پڑھیے

کیا سوچتے رہتے ہو تصویر بنا کر کے

کیا سوچتے رہتے ہو تصویر بنا کر کے کیوں اس سے نہیں کہتے کچھ ہونٹ ہلا کر کے گھر اس نے بنایا تھا اک صبر و رضا کر کے مٹی میں ملا ڈالا احسان جتا کر کے جو جان سے پیارے تھے نام ان نے ہی پوچھا ہے حیران ہوا میں تو اس شہر میں آ کر کے تہذیب مصلیٰ سے واقف ہی نہ تھا کچھ بھی اور بیٹھ گیا دیکھو ...

مزید پڑھیے

روشنی چشم خریدار میں آتی ہی نہیں

روشنی چشم خریدار میں آتی ہی نہیں کچھ کمی رونق بازار میں آتی ہی نہیں اس سے کچھ ایسا تعلق ہے کہ شدت جس کی کسی پیرایۂ اظہار میں آتی ہی نہیں جو نہیں ہوتا بہت ہوتی ہے شہرت اس کی جو گزرتی ہے وہ اشعار میں آتی ہی نہیں سخت حیراں ہوں صلاحیت خیبر شکنی وارث حیدر کرار میں آتی ہی نہیں تم نے ...

مزید پڑھیے

جھکا کے سر کو چلنا جس جگہ کا قاعدہ تھا

جھکا کے سر کو چلنا جس جگہ کا قاعدہ تھا مرے سر کی بلندی سے وہاں محشر بپا تھا قصور بے خودی میں جس کو سولی دی گئی ہے ہمارے ہی قبیلے کا وہ تنہا سرپھرا تھا اسے جس شب مدھر آواز میں گانا تھا لازم روایت ہے کہ اس شب بھی پرندہ چپ رہا تھا فرشتے دم بخود خائف سراسیمہ فضا تھی ہجوم گمرہاں تھا ...

مزید پڑھیے

وفاؤں کے ارادے وسعت منزل میں رہتے ہیں

وفاؤں کے ارادے وسعت منزل میں رہتے ہیں پس و پیش ستم پیش و پس محمل میں رہتے ہیں نقوش رہرو منزل رہ منزل میں رہتے ہیں چکوروں کے نشان غم مہ کامل میں رہتے ہیں غم عشق حقیقی بے اثر ہو جائے نا ممکن نمایاں لغزش و رعشہ کف قاتل میں رہتے ہیں جو ارماں لب پہ آ کے موجب قتل غریباں ہیں وہی ارمان ...

مزید پڑھیے

اچانک کسی نے جو چلمن اٹھا دی

اچانک کسی نے جو چلمن اٹھا دی قیامت سے پہلے قیامت بلا دی کہیں ماہ رخ سے اٹھا جوار بھاٹا کہیں تیغ ابرو نے آفت مچا دی کہیں پر تغافل کہیں پر تبسم کسی کی بگاڑی کسی کی بنا دی کسی کے بیاباں کو گلشن بنایا کسی کے گلستاں پہ بجلی گرا دی نگاہوں میں اس کی بسائی تھی دنیا بدل کر نظر اس نے ...

مزید پڑھیے

یہ تغیر رونما ہو جائے گا سوچا نہ تھا

یہ تغیر رونما ہو جائے گا سوچا نہ تھا اس کا دل درد آشنا ہو جائے گا سوچا نہ تھا نت نئے راگوں کی تھی جس ساز ہستی سے امید وہ بھی بے صوت و صدا ہو جائے گا سوچا نہ تھا یوں سراپا التجا بن کر ملا تھا پہلے روز اتنی جلدی وہ خدا ہو جائے گا سوچا نہ تھا وہ تعلق جس کو دونوں ہی سمجھتے تھے مذاق اس ...

مزید پڑھیے

داستان غم ہم نے کہہ بھی دی تو کیا ہوگا

داستان غم ہم نے کہہ بھی دی تو کیا ہوگا اور بڑھ گئی دل کی بے کلی تو کیا ہوگا عمر رفتہ کے قصے دوستو نہ دہراؤ کوئی یاد خوابیدہ جاگ اٹھی تو کیا ہوگا زندگی تو اپنی ہے لٹ گئی تو پھر کیا غم غم تری امانت ہے چھن گئی تو کیا ہوگا درد سے سنواری ہے روح زندگی ہم نے درد کو نہ راس آئی زندگی تو ...

مزید پڑھیے

زندگی کیا ہے اک سفر کے سوا

زندگی کیا ہے اک سفر کے سوا ایک دشوار رہ گزر کے سوا کیا ملا تشنۂ محبت کو ایک محروم سی نظر کے سوا عشق کے درد کی دوا کیا ہے سب سمجھتے ہیں چارہ گر کے سوا کچھ نہیں غم گساریٔ احباب اہتمام غم دگر کے سوا کتنی تنہا تھیں عقل کی راہیں کوئی بھی تھا نہ چارہ گر کے سوا دولت سجدہ ہو سکی نہ ...

مزید پڑھیے

زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ

زباں کرتی ہے دل کی ترجمانی دیکھتے جاؤ پکار اٹھی ہے میری بے زبانی دیکھتے جاؤ کہاں جاتے ہو الفت کا فسانہ چھیڑ کر ٹھہرو پہنچتی ہے کہاں اب یہ کہانی دیکھتے جاؤ تری ظالم محبت نے جسے بد نام کر ڈالا اسی مظلوم کی رسوا جوانی دیکھتے جاؤ سناتا ہے کوئی محرومیوں کی داستاں سن لو اجڑتی ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 483 سے 4657