شاعری

خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں

خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں ان کی سجوں کو دیکھ مریں کیوں نہ لولیاں ہونٹوں میں جم رہی ہے ترے آج کیوں دھری بھیجی تھیں کس نے رات کو پانوں کی ڈھولیاں جس دن سے انکھڑیاں تری اس کو نظر پڑیں بادام نے خجل ہو پھر آنکھیں نہ کھولیاں تارے نہیں فلک پہ تمہارے نثار کو لایا ہے موتیوں سے ...

مزید پڑھیے

کوئی بھی نقش سلامت نہیں ہے چہرے کا

کوئی بھی نقش سلامت نہیں ہے چہرے کا بدل گیا ہے کچھ ایسا چلن زمانے کا میں کس لیے تجھے الزام بے وفائی دوں کہ میں تو آپ ہی پتھر ہوں اپنے رستے کا کوئی ہے رنگ کوئی روشنی کوئی خوشبو جدا جدا ہے تأثر ہر ایک لمحے کا وہ تیرگی ہے مسلط کہ آسمانوں پر سراغ تک نہیں ملتا کسی ستارے کا غضب تو یہ ...

مزید پڑھیے

منزلوں اس کو آواز دیتے رہے منزلوں جس کی کوئی خبر بھی نہ تھی

منزلوں اس کو آواز دیتے رہے منزلوں جس کی کوئی خبر بھی نہ تھی دامن شب میں کوئی ستارہ نہ تھا شمع کوئی سر رہ گزر بھی نہ تھی اک بگولہ اٹھا دشت میں کھو گیا اک کرن تھی جو ظلمت میں گم ہو گئی زندگی جس کو سمجھے تھے ہم زندگی زندگی مثل رقص شرر بھی نہ تھی فصل گل سے تھا آباد صحن چمن فصل گل جو ...

مزید پڑھیے

دل کے صحرا میں بڑے زور کا بادل برسا

دل کے صحرا میں بڑے زور کا بادل برسا اتنی شدت سے کوئی رات مجھے یاد آیا جس سے اک عمر رہا دعویٔ قربت مجھ کو ہائے اس نے نہ کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھا تو مری منزل مقصود ہے لیکن ناپید میں تری دھن میں شب و روز بھٹکنے والا پھیل جاتا ترے ہونٹوں پہ تبسم کی طرح کاش حالات کا پہلو کبھی ہو ...

مزید پڑھیے

صبح بہار و شام خزاں کچھ نہ کچھ تو ہو

صبح بہار و شام خزاں کچھ نہ کچھ تو ہو بے نام زندگی کا نشاں کچھ نہ کچھ تو ہو خاموشیوں کی آگ میں جلتا ہے مے کدہ دل دادگان شعلہ رخاں کچھ نہ کچھ تو ہو جینے کے واسطے کوئی صورت تو چاہیے ہو شمع انجمن کہ دھواں کچھ نہ کچھ تو ہو چپ چپ ہے موج اور کنارے اداس ہیں اے زندگی کے سیل رواں کچھ نہ کچھ ...

مزید پڑھیے

ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے

ہوئے ہیں جا کے عاشق اب تو ہم اس شوخ چنچل کے ستم گر بے مروت بے وفا بے رحم اچپل کے غزالوں کو تری آنکھیں سے کچھ نسبت نہیں ہرگز کہ یہ آہو ہیں شہری اور وے وحشی ہیں جنگل کے گرفتاری ہوئی ہے دل کو میرے بے طرح اس سے کہ آئے پیچ میں کہتے ہی ان کی زلف کے بل کے یہ دولت مند اگر شب کو نہیں یارو تو ...

مزید پڑھیے

تری یاد جو میرے دل میں ہے بس اسی کی جلوہ گری رہی

تری یاد جو میرے دل میں ہے بس اسی کی جلوہ گری رہی مرا غم بھی تازہ بہ تازہ ہے مری شاخ فن بھی ہری رہی میں نے اپنے پردۂ شعر میں تجھے اس ہنر سے چھپا لیا کہ غزل کہی تو ہر اک غزل تری خوشبوؤں سے بھری رہی یہی زندگی مری زندگی یہی زندگی مری موت ہے تری یاد بن گئی اک چھری جو مرے گلے پہ دھری ...

مزید پڑھیے

ساز کے موجوں پہ نغموں کی سواری میں تھی

ساز کے موجوں پہ نغموں کی سواری میں تھی بھیروی بن کے لب صبح پہ جاری میں تھی میں جو روتی تھی مرا چہرہ نکھر جاتا تھا آنسوؤں کے لیے پھولوں کی کیاری میں تھی گیت بن جاتی کبھی اور کبھی آنسو بنتی کبھی ہونٹوں سے کبھی آنکھوں سے جاری میں تھی جان دینا تو بڑی چیز ہے دل بھی نہ دیا تو تو کہتا ...

مزید پڑھیے

ان طعنوں میں ان تشنیعوں میں پوشیدہ کوئی مفہوم تو ہو

ان طعنوں میں ان تشنیعوں میں پوشیدہ کوئی مفہوم تو ہو کس بات کا ہم سے شکوہ ہے وہ بات ہمیں معلوم تو ہو میں خون جگر سے کاغذ پر کچھ نقش بناتی رہتی ہوں ہاں تجھ سے کوئی منسوب تو ہو ہاں تجھ سے کوئی موسوم تو ہو وہ لوگ جو بھولے بھالے تھے دل والے محبت والے تھے کس دیس میں ایسے لوگ ہیں اب وہ ...

مزید پڑھیے

انجمؔ پہ جو گزر گئی اس کا بھلا حساب کیا

انجمؔ پہ جو گزر گئی اس کا بھلا حساب کیا پوچھے کوئی سوال کیا لائیں گے ہم جواب کیا خون دل و جگر سے ہے حسن خیال حسن فن اس کے بغیر شعر کیا مجموعہ کیا کتاب کیا تیرا ہی نام لے لیا وقت اشاعت کلام اس کے علاوہ اور ہم ڈھونڈتے انتساب کیا تیری ہی بے رخی سے تو ٹوٹا ہے دل ابھی ابھی اب التفات ...

مزید پڑھیے
صفحہ 479 سے 4657