شاعری

تھے جو سکون جاں کبھی وہ بار بن کے چل دئے

تھے جو سکون جاں کبھی وہ بار بن کے چل دئے سو ہم وفا کی راہ میں غبار بن کے چل دئے جو رات آنکھ میں رہی تو سب نشہ ہرن ہوا سرور بن کے آئے تھے خمار بن کے چل دئے نگاہ کو بھا رہیں ہیں کب وہ ساعتیں جو عیش تھیں جو خیر بن کے آئے تھے وہ خار بن کے چل دئے قرار تھے خمار تھے ہوا پہ وہ سوار تھے وہ جو ...

مزید پڑھیے

شہر دل بے شباب ہے کم ہے

شہر دل بے شباب ہے کم ہے جتنی حالت خراب ہے کم ہے تجھ کو سنگار کی ضرورت کیا پر ضیا رخ کتاب ہے کم ہے اس تجلی پہ پردہ رکھنے کو یہ جو رخ پر حجاب ہے کم ہے تیری دنیا کے جو دوانے ہیں ان کا خانہ خراب ہے کم ہے ایک امید دل کی ہے مشکل چشم قید سراب ہے کم ہے زندگی تجھ پہ کیوں مرا جائے یہ جو ...

مزید پڑھیے

نام کی اپنے مالا جپنے دو

نام کی اپنے مالا جپنے دو بن کے جوگی کہیں پہ کھپنے دو منظر عام سے ذرا پہلے منظر خاص تک پہنچنے دو ٹھیک ہے چھوڑ کر چلے جانا پر مرا عشق تو پنپنے دو ہو رفاقت بنا محبت ہو چار آنکھیں ہوئیں ہیں سپنے دو دل مرے سیر کیوں نہیں ہوتا اوہ ہو آنکھ تو جھپکنے دو خود ہی اک دن بنوں گا میں ...

مزید پڑھیے

شکست خوردگی کے بعد حوصلہ نہیں ہوا

شکست خوردگی کے بعد حوصلہ نہیں ہوا جو چوکا پہلا وار ہی تو دوسرا نہیں ہوا کہا ہوا سنا ہوا لکھا ہوا نہیں ہوا ہمارے حق میں تو کوئی بھی فیصلہ نہیں ہوا سکوت لب کا وہ سبب ہیں سسکیاں وہ ہچکیاں نگاہ عشق سے فرو وہ حادثہ نہیں ہوا تمام دل کے پارچے بکھر چکے زمین پر حساب رکھنے والے کا محاسبہ ...

مزید پڑھیے

رت بدلے تو آپ بدل لے سب بیوہار ہوا

رت بدلے تو آپ بدل لے سب بیوہار ہوا پگ پگ سانگ رچائے موسم کے انوسار ہوا پیڑ گھروندے لاٹھ اور کھمبے ہیں خاشاک سمان بھیروں ناچ رہی ہے پہنے ناگ کا ہار ہوا اس کی گرہیں کھولے بڑھ کر کوئی دھیان کی لہر من میں لیے پھرتی ہے صدیوں کے اسرار ہوا اس ویرانے میں بھی کھلتے پگ پگ رم کے پھول دل سے ...

مزید پڑھیے

دل انہیں روئے جو سیل تیرگی میں گم ہوئے

دل انہیں روئے جو سیل تیرگی میں گم ہوئے یا انہیں جو آپ اپنی روشنی میں جل بجھے حسن ہو جاتا ہے جس لمحے ضرورت کا اسیر ایک ہو جاتے ہیں اس دم خیر و شر کے دائرے سب ہوا کے رخ پر اڑتے برگ کے ہیں ہم نوا کون لے اس کی خبر رہتا ہے جو پتھر تلے روشنی درکار ہے تو خود ہی روزن وا کرو منتظر کب تک رہو ...

مزید پڑھیے

کی تھی جس کو شکل‌ محبوبی عطا (ردیف .. ہ)

کی تھی جس کو شکل‌ محبوبی عطا سر اسی پتھر سے زخمی ہو گیا ہر گھڑی رہتا تھا آئینہ بدست خود ستائی کے سوا کرتا بھی کیا ہو گیا جب اس کو ادراک‌ جہاں توڑ کر آئینہ اس نے رکھ دیا وہ ہوا ہے پیرہن کا یوں اسیر کھل کے اب ہنسنا بھی مشکل ہو گیا اس سے بڑھ کر اور کیا ہو اس کا وصف آدمی تخلیق‌ و ...

مزید پڑھیے

ایک دیوار سی کہرے کی کھڑی ہے ہر سو

ایک دیوار سی کہرے کی کھڑی ہے ہر سو پر سمیٹے ہوئے بیٹھی ہے چمن میں خوشبو یہ اندھیرے بھی ہمارے لیے آئینہ ہیں روبرو کرتے ہیں کردار کے کتنے پہلو ان سلگتے ہوئے لمحوں سے یہ ملتا ہے سراغ دم بہ دم ٹوٹ رہا ہے شب غم کا جادو دام‌ بردار کوئی دشت وفا سے گزرا صورت خواب ہوا حسن خرام آہو پھر ...

مزید پڑھیے

ہوں بے سراغ راہ ناپتا ہوں

ہوں بے سراغ راہ ناپتا ہوں اس طرف اس طرف کو بھاگتا ہوں وہ کب کا مکاں کر گیا ہے خالی اک لاگ ہے در کو تاکتا ہوں تھا قرب ہی قرب حاصل اک دن اب خواب میں اس کے جاگتا ہوں پنبہ بگوش ہو جائیں سامع میں شور کی حد پھلانگتا ہوں نازک ہے بہت یہ کار نغمہ اس پہ صدا کے سنگ مارتا ہوں

مزید پڑھیے

دیار جاں پہ مسلط عجب زمانہ رہا

دیار جاں پہ مسلط عجب زمانہ رہا کہ دل میں درد لبوں پر رواں ترانہ رہا کسی پہ برق گری شاخ جاں سلگ اٹھی کسی پہ سنگ چلے سر مرا نشانہ رہا قدم قدم پہ ملی گرچہ صرصر‌ خوں ریز ہجوم گل اسی انداز سے روانہ رہا عدوئے دوست کبھی مجھ کو معتبر نہ ہوا ازل سے اپنا یہ معیار دوستانہ رہا جو قدر فن کا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4512 سے 4657