شاعری

ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا

ہر اک جواب کی تہ میں سوال آئے گا گئے یگوں کے بتوں کا زوال آئے گا ہنر کا عکس بھی ہو آئنہ بھی بن جاؤ پھر اس کے بعد ہی رنگ کمال آئے گا حریف جاں ہے اگر وہ تو پھر کہو اس سے گئی جو جان تو دل کا سوال آئے گا یقین ہے کہ ملے گا عروج ہم کو بھی یقین ہے کہ ترا بھی زوال آئے گا ابھی امید کو ...

مزید پڑھیے

بے بسی کی دھوپ ہے غمگین کیا

بے بسی کی دھوپ ہے غمگین کیا پھر رہا ہے در بدر مسکین کیا ہنس رہا ہوں بے بسی کی دھوپ میں ہو رہی ہے ذوق کی تسکین کیا آ رہی ہیں دستکوں پر دستکیں زندگی پھر ہو گئی سنگین کیا آنکھ ہنستے ہنستے کیوں رونے لگی ہر خوشی کرتی ہے بس غمگین کیا اشک عادلؔ پی رہا ہوں آج کل ہو گیا ہے ذائقہ نمکین ...

مزید پڑھیے

یوں میری دعاؤں میں صدا کانپ رہی ہے

یوں میری دعاؤں میں صدا کانپ رہی ہے جیسے کہ ہواؤں میں ردا کانپ رہی ہے ہے تیرے کرم سے ہی خطا کار کی بخشش ہر سانس مری رب علا کانپ رہی ہے دھوئی تھی زباں گرچہ مے لالہ سے میں نے لیتے ہوئے کیوں نام ترا کانپ رہی ہے کہنے کو تجھے دیکھ ہی لیتی ہیں نگاہیں پھر طور پہ کیوں طبع صفا کانپ رہی ...

مزید پڑھیے

ہر اک اٹھان کے لاکھوں ہیں امتحان میاں

ہر اک اٹھان کے لاکھوں ہیں امتحان میاں پکارتا ہے پرندوں کو آسمان میاں نکلنا پڑتا ہے آخر کو اپنے اندر سے وہاں بھی ملتی نہیں مستقل امان میاں ہے کارخانہ توہم کا یہ بقول میرؔ سو جانتے ہیں یقیں کو بھی ہم گمان میاں تھا اس سے پہلے بھی کوئی مکین دل اپنا اور اس کے بعد بھی خالی نہیں مکان ...

مزید پڑھیے

اک دوجے کو آئینہ دکھائیں چلو آؤ

اک دوجے کو آئینہ دکھائیں چلو آؤ یہ آخری تکلیف اٹھائیں چلو آؤ یوں ہے کہ منافع کا تو امکاں ہی نہیں ہے نقصان کا اندازہ لگائیں چلو آؤ مدت سے کھنڈر دل کا بھی ویران پڑا ہے کچھ دیر یہیں خاک اڑائیں چلو آؤ ہیں جال تو یاروں نے بچھائے بھی پر اب کے دشمن کی چلی چال میں آئیں چلو آؤ اس تک ہے ...

مزید پڑھیے

رکھتے تھے تصویروں سے دیوار و در آباد

رکھتے تھے تصویروں سے دیوار و در آباد ایسے بھی کچھ شہر ہوئے ہیں مٹ مٹ کر آباد سر آباد خیالوں سے خوابوں سے نگر آباد ایک جہاں ہے باہر اپنے اک اندر آباد عشق تھا اپنی جگہ اٹل سمجھوتہ اپنی جا ایک سے دل آباد رہا اور ایک سے گھر آباد ساگر ساگر رونے والے رو کر پھر مسکائے رات رہے جو بستی ...

مزید پڑھیے

کاش ہوتی وفا زمانے میں

کاش ہوتی وفا زمانے میں پر حقیقت کہاں فسانے میں لوگ اوقات بھول جاتے ہیں دوسروں کا مذاق اڑانے میں سوچتا ہوں کبھی کبھی یوں ہی حرج کیا تھا اسے منانے میں ہم پڑے ہیں دیار غیر میں یوں جیسے لاشیں ہوں سرد خانے میں کیا کہیں اک ادھورے قصے کو لگ گئی عمر کیوں بھلانے میں روز ہی سانس پھول ...

مزید پڑھیے

اک طرف وہ فکر فردا ذہن پرچھائی ہوئی

اک طرف وہ فکر فردا ذہن پرچھائی ہوئی اک طرف یہ زندگی یادوں کی ٹھہرائی ہوئی لاکھ کوشش کی نہ بڑھ پائیں دلوں کی رنجشیں پر کہاں رکتی ہے شیشے میں دراڑ آئی ہوئی سرد راتوں کی فضا میں گرم رکھتی ہے مجھے شال ماں کے کانپتے ہاتھوں کی پہنائی ہوئی لے اڑی ہے تیری سانسوں کی مہک شاید ہوا کیا ...

مزید پڑھیے

عرصۂ ماہ و سال سے گزرے

عرصۂ ماہ و سال سے گزرے رات راہ وصال سے گزرے تم کہ عہد وفا نبھا کے میرؔ کتنے رنج و ملال سے گزرے آ شب وصل مختصر ہے بہت کون شرط سوال سے گزرے کیا بتائیں کہ تیرے کوچے سے کس ہنر کس کمال سے گزرے کون تھا وہ کہ جس کی چاہت میں خواب بن کر خیال سے گزرے دشت وحشت سے تیرے دیوانے کیسے جاہ و ...

مزید پڑھیے

دل میں ان کا خیال آتا ہے

دل میں ان کا خیال آتا ہے اور پہروں مجھے رلاتا ہے بس تو ہی تو ہے ہر طرف موجود کوئی آتا ہے اور نہ جاتا ہے آنکھوں آنکھوں میں لے لیا دل کو اور دل میں کوئی سماتا ہے ظلمتوں کا گزر کہاں ممکن ان کا روشن خیال آتا ہے اپنی صورت کہاں رہی واصلؔ ان کی صورت کا سب تماشا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 4496 سے 4657