شاعری

گانٹھی ہے اس نے دوستی اک پیش امام سے

گانٹھی ہے اس نے دوستی اک پیش امام سے عادلؔ اٹھا لو ہاتھ دعا و سلام سے پانی نے راستہ نہ دیا جان بوجھ کر غوطے لگائے پھر بھی رہے تشنہ کام سے میں اس گلی سے سر کو جھکائے گزر گیا چلغوزے پھینکتی رہی وہ مجھ پہ بام سے وہ کون تھا جو دن کے اجالے میں کھو گیا یہ چاند کس کو ڈھونڈنے نکلا ہے شام ...

مزید پڑھیے

وہ برسات کی شب وہ پچھلا پہر

وہ برسات کی شب وہ پچھلا پہر اندھیرے کے پہلو میں سنسان گھر کھلیں گے ابھی اور کس کس کے در کہاں ختم ہوگا لہو کا سفر کچھ اپنے عقائد بھی کمزور تھے لرزتے تھے سائے بھی دیوار پر اجالے سمٹتے رہے آنکھ میں ستارے بکھرتے رہے فرش پر بدن میں پگھلتی رہی چاندنی لہو میں سلگتی رہی دوپہر کبھی ...

مزید پڑھیے

یہ پھیلتی شکستگی احساس کی طرف

یہ پھیلتی شکستگی احساس کی طرف دریا رواں دواں ہیں مری پیاس کی طرف اس کا بدن جھکا ہوا پتھر کی بنچ پر اپنے قدم بھی مڑتے ہوئے گھاس کی طرف دکھلا رہی ہے دھوپ بشاشت کا آئنہ اور چھاؤں کھینچتی ہے مجھے یاس کی طرف اشیا کی لذتوں میں اٹکتا ہوا بدن اور روح کا کھنچاؤ ہے بن باس کی طرف سب یہ ...

مزید پڑھیے

پانی کو پتھر کہتے ہیں

پانی کو پتھر کہتے ہیں کیا کچھ دیدہ ور کہتے ہیں خوش فہمی کی حد ہوتی ہیں خود کو دانشور کہتے ہیں کون لگی لپٹی رکھتا ہے ہم تیرے منہ پر کہتے ہیں ٹھیک ہی کہتے ہوں گے پھر تو جب یہ پروفیسر کہتے ہیں سب ان کو اندر سمجھے تھے وہ خود کو باہر کہتے ہیں تیرا اس میں کیا جاتا ہے اپنے کھنڈر کو ...

مزید پڑھیے

زمیں چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گا

زمیں چھوڑ کر میں کدھر جاؤں گا اندھیروں کے اندر اتر جاؤں گا مری پتیاں ساری سوکھی ہوئیں نئے موسموں میں بکھر جاؤں گا اگر آ گیا آئنہ سامنے تو اپنے ہی چہرے سے ڈر جاؤں گا وہ اک آنکھ جو میری اپنی بھی ہے نہ آئی نظر تو کدھر جاؤں گا وہ اک شخص آواز دے گا اگر میں خالی سڑک پر ٹھہر جاؤں ...

مزید پڑھیے

آدھوں کی طرف سے کبھی پونوں کی طرف سے

آدھوں کی طرف سے کبھی پونوں کی طرف سے آوازے کسے جاتے ہیں بونوں کی طرف سے حیرت سے سبھی خاک زدہ دیکھ رہے ہیں ہر روز زمیں گھٹتی ہے کونوں کی طرف سے آنکھوں میں لیے پھرتے ہیں اس در بدری میں کچھ ٹوٹے ہوئے خواب کھلونوں کی طرف سے پھر کوئی عصا دے کہ وہ پھنکارتے نکلے پھر اژدہے فرعون کے ...

مزید پڑھیے

بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا

بسمل کے تڑپنے کی اداؤں میں نشہ تھا میں ہاتھ میں تلوار لیے جھوم رہا تھا گھونگھٹ میں مرے خواب کی تعبیر چھپی تھی مہندی سے ہتھیلی میں مرا نام لکھا تھا لب تھے کہ کسی پیالی کے ہونٹوں پہ جھکے تھے اور ہاتھ کہیں گردن مینا میں پڑا تھا حمام کے آئینے میں شب ڈوب رہی تھی سگریٹ سے نئے دن کا ...

مزید پڑھیے

چہرے پہ چمچاتی ہوئی دھوپ مر گئی

چہرے پہ چمچاتی ہوئی دھوپ مر گئی سورج کو ڈھلتا دیکھ کے پھر شام ڈر گئی مبہوت سے کھڑے رہے سب بس کی لائن میں کولہے اچھالتی ہوئی بجلی گزر گئی سورج وہی تھا دھوپ وہی شہر بھی وہی کیا چیز تھی جو جسم کے اندر ٹھٹھر گئی خواہش سکھانے رکھی تھی کوٹھے پہ دوپہر اب شام ہو چلی میاں دیکھو کدھر ...

مزید پڑھیے

کوئی تو آ کے مرے در کو کھٹکھٹائے بھی

کوئی تو آ کے مرے در کو کھٹکھٹائے بھی اندھیری رات میں جگنو سا جگمگائے بھی گماں کے پنجرے میں کب سے کوئی پرندہ ہے کبھی تو کھولے پروں کو کہ پھڑپھڑائے بھی انا کی دھوپ میں گم صم کھڑا ہے کون یہاں میں چھاؤں ہوں مجھے دیکھے وہ مسکرائے بھی وہ میری سانس کا جیسے اٹوٹ حصہ ہے اگر ہے اس کو بھی ...

مزید پڑھیے

سکون دل فنا ہے اور میں ہوں

سکون دل فنا ہے اور میں ہوں غموں کا قافلہ ہے اور میں ہوں کہانی کہہ رہی ہے رات اپنی مقابل آئنہ ہے اور میں ہوں نصاب گردش شام و سحر ہے سر رہ حادثہ ہے اور میں ہوں کہوں کیا ہستئ نا معتبر ہوں ترا ہی آسرا ہے اور میں ہوں وہی نیرنگئ رنگ زمانہ وہی دل کی صدا ہے اور میں ہوں اگرچہ جسم رکھتا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4495 سے 4657