شاعری

وہ جو حسن کل کی دلیل تھا وہ خیال آ کے سجا گیا

وہ جو حسن کل کی دلیل تھا وہ خیال آ کے سجا گیا لڑیں یوں نگاہ سے بجلیاں کوئی جیسے پردے اٹھا گیا میں حکایت دل بے نوا میں اشارت غم جاوداں میں وہ حرف آخر معتبر جو لکھا گیا نہ پڑھا گیا میں چراغ حسرت نیم شب میں شرار آتش جاں بہ لب دل پر امید کی لو تھا میں مجھے خود وہ آ کے بجھا گیا میں ...

مزید پڑھیے

جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیں

جب وہ نظریں دو چار ہوتی ہیں تیر سی دل کے پار ہوتی ہیں رنجشیں میری اور اس گل کی رات دن میں ہزار ہوتی ہیں عشق میں بے حجابیاں دل کو کیا ہی بے اختیار ہوتی ہیں تو جو جاتا ہے باغ میں اے گل بلبلیں سب نثار ہوتی ہیں قمریاں بندگی میں تجھ قد کی سر بسر طوق دار ہوتی ہیں آفتابؔ اس کے وصل کی ...

مزید پڑھیے

گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالی

گو سدھ نہیں اس شوخ ستم گر نے سنبھالی تس پر بھی کوئی بات ادا سے نہیں خالی کچھ ہوش نہیں مجھ میں رہا جب سے پلائی اس نرگس مخمور کی ساقی نے پیالی شبنم کے عرق میں ہوا خجلت سیتی گل تر دیکھی جو لب لعل کی اس شوخ کے لالی وے غیر ہی ہیں جن کی ہر اک بات ہو سنتے ہم نے تو جو کچھ عرض کی سو سنتے ہی ...

مزید پڑھیے

گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا

گھر غیر کے جو یار مرا رات سے گیا جی سینے سے نکل گیا دل ہات سے گیا میں جان سے گیا تری خاطر ولیک حیف تو مجھ سے ظاہری بھی مدارات سے گیا یا سال و ماہ تھا تو مرے ساتھ یا تو اب برسوں میں ایک دن کی ملاقات سے گیا دیکھا جو بات کرتے تجھے رات غیر سے دل میرا ہاتھ سیتی اسی بات سے گیا اس رشک مہ ...

مزید پڑھیے

کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کرو

کل کا وعدہ نہ کرو دل مرا بیکل نہ کرو کل پڑے گی نہ مجھے مجھ سے یہ کل کل نہ کرو کہیں جلا دے نہ اسے شعلۂ آہ عاشق پلکوں کی ٹٹی کے تئیں آنکھوں کی اوجھل نہ کرو کر چکی تیغ نگاہ کام تو پل ہی میں تمام تیر پلکوں کا مقابل مرے پل پل نہ کرو اس کو ہر شب ہے زوال اس کو نہیں ہے کچھ نقص بدر کو چہرے سے ...

مزید پڑھیے

عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں

عاجز ہوں ترے ہاتھ سے کیا کام کروں میں کر چاک گریباں تجھے بدنام کروں میں ہے دور جہاں میں مجھے سب شکوہ تجھی سے کیوں کچھ گلہ گردش ایام کروں میں آوے جو تصرف میں مرے مے کدہ ساقی اک دم میں خموں کے خمیں انعام کروں میں حیراں ہوں ترے ہجر میں کس طرح سے پیارے شب روز کو اور صبح کے تئیں شام ...

مزید پڑھیے

میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگے

میرے گلے سے آن کے پیارا جو پھر لگے یہ ابر یہ بہار مجھے خوب تر لگے بن دیکھے اس پیارے کے آنکھوں نے اپنا حال ایسا کیا ہے جیسے کہ باراں کا جھڑ لگے مت اس ادا و ناز سے گلشن میں کر گزر ڈرتا ہوں میں مبادا کسی کی نظر لگے ہو چار چشم کون سکے ایسے یار سے آنکھوں کے دیکھتے ہی پیا کی خطر لگے ہر ...

مزید پڑھیے

دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں

دیکھو تو کس ادا سے رخ پر ہیں ڈالی زلفیں جوں مار ڈستی ہیں دل دلبر کی کالی زلفیں چاہے ہیں جس نہ تس کو باندھیں گرہ میں اپنی دل لینے کو بلا ہیں یہ پیچ والی زلفیں مثل سلاسل اس میں عقدے ہزارہا ہیں ٹک پیچ و تاب سے میں دیکھیں نہ خالی زلفیں مار سیہ جدا کب رہتا ہے گنج زر سے ہوتی نہیں ہیں ...

مزید پڑھیے

پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذت

پاتا نہیں ہوں اور کسی کام سے لذت جو کچھ کہ میں پاتا ہوں ترے نام سے لذت کیفیتیں اس دیدۂ میگوں سے جو پائیں پائی نہ کبھی بادے سے اور جام سے لذت ظاہر ہے تری نرگس مخمور سے مستی ٹپکے ہے ترے لعل مے آشام سے لذت پاتا ہوں مزا بیکلی اور درد کا ایسا پاوے ہے کوئی جیسے کہ آرام سے لذت ؔرکھتا ...

مزید پڑھیے

تیری خوشبو کا تراشا ہے یہ پیکر کس نے

تیری خوشبو کا تراشا ہے یہ پیکر کس نے کر دیا ہے مرا ماحول معطر کس نے آسماں ہمت پرواز سے کچھ دور نہیں اس تمنا کے مگر کاٹ لئے پر کس نے ناسمجھ قطرۂ ناچیز کی وقعت کو سمجھ تو سمندر ہے بنایا ہے سمندر کس نے کس کی پازیب کا سنگیت ہے ہستی میری پاؤں سے باندھ لیا میرا مقدر کس نے پرتو حسن ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4474 سے 4657