ابھی محبت کی ابتدا ہے دلوں کے ارماں نکل رہے ہیں

ابھی محبت کی ابتدا ہے دلوں کے ارماں نکل رہے ہیں
ابھی ہے آغاز مستیوں کا شراب کے دور چل رہے ہیں


عجیب برسات کا سماں ہے نظر کو ہر وقت یہ گماں ہے
کہ حسن انگڑائی لے رہا ہے حسین کپڑے بدل رہے ہیں


ابھی جوانی پہ ہیں امنگیں دلوں میں ہیں سینکڑوں ترنگیں
جو دو چراغ آج بجھ رہے ہیں تو دس چراغ اور جل رہے ہیں


قدم قدم پر تھا خوف طوفاں جگہ جگہ تھا فنا کا ساماں
مگر رہے عشق تیری ہمت مرے ارادے اٹل رہے ہیں


سلگ رہے ہیں ابھی ہمارے دلوں کے آتش کدے مسلسل
جلا چکے تھے ابھی جو ہم کو اب ان کی باری ہے جل رہے ہیں


نہیں زمانے سے کوئی شکوہ ہمیں گلہ ہے تو صرف یہ ہے
تری نظر میں بھی ہم برنگ شکایت بے محل رہے ہیں


ہوئی سحر ختم پر ہے محفل اٹھو کہ افسرؔ اچاٹ ہے دل
نہ حسن میں اب وہ دل کشی ہے نہ زلف میں اب وہ حل رہے ہیں