شاعری

درماندگوں کی آنکھ سے آنسو جو ڈھل گئے

درماندگوں کی آنکھ سے آنسو جو ڈھل گئے چشمے کسی کے لطف و کرم کے ابل گئے ڈالی جو اس نے ایک اچٹتی ہوئی نظر خستہ دلان راہ محبت بہل گئے ہم اور بارگاہ رسالت پناہ میں مارے خوشی کے آنکھ سے آنسو نکل گئے پہنچے جو ہم دیار مدینہ میں سر کے بل سب اپنے اگلے پچھلے تصور بدل گئے پھر ہم تھے اور ...

مزید پڑھیے

چمن میں گزری کہ صحرا کے درمیاں گزری

چمن میں گزری کہ صحرا کے درمیاں گزری تمہاری یاد سے خالی مگر کہاں گزری فسانہ عمر دو روزہ کا مختصر یہ ہے حرم سے دور جو گزری بہت گراں گزری حیات یوں تو گزر ہی گئی گزرنی تھی تمہارے شوق میں لیکن نہ رائیگاں گزری کھلا ہے غنچہ دل ہر غریب و بے کس کا نسیم کوئے مدینہ جہاں جہاں گزری اسے ...

مزید پڑھیے

ہم تذکرۂ لطف و کرم کرتے رہیں گے

ہم تذکرۂ لطف و کرم کرتے رہیں گے آسائش کونین بہم کرتے رہیں گے یہ گنج سعادت کبھی خالی ہی نہ ہوگا سب آپ کے الطاف رقم کرتے رہیں گے لوٹے جو مدینہ سے تو پچھتاتے ہیں اب تک کب تک نہیں معلوم یہ غم کرتے رہیں گے جائیں گے وہیں چھوڑ کے سب روضۂ رضواں یثرب کو جو وہ رشک ارم کرتے رہیں گے دیکھیں ...

مزید پڑھیے

کالی گھٹا میں چاند نے چہرہ چھپا لیا

کالی گھٹا میں چاند نے چہرہ چھپا لیا پھولوں کی رت نے باغ سے خیمہ اٹھا لیا روٹھے ہیں وہ تو وصل کی رت خواب ہو گئی ہم نے جدائیوں کو گلے سے لگا لیا جشن طرب کی رات بڑی خوش گوار تھی تیرے بدن کی باس کو رت نے چرا لیا اک گلبدن ملی جو سراپا سپاس تھی آنکھوں کے راستے اسے دل میں بٹھا لیا ایسی ...

مزید پڑھیے

کھڑکی میں ایک نار جو محو خیال ہے

کھڑکی میں ایک نار جو محو خیال ہے شاید کسی کے پیار کو پانے کی چال ہے کمرے کی چیز چیز پہ ہے حسرتوں کی گرد آنگن میں اجلی دھوپ کا پھیلا جمال ہے الفاظ کے گہر تری خاطر پرو لیے یہ بھی تو تیرے حسن طلب کا کمال ہے اظہار عشق کرتا ہے اب راہ چلتے بھی اس عہد کا جواں بڑا روشن خیال ہے برسوں کے ...

مزید پڑھیے

شہر کے دیوار و در پر رت کی زردی چھائی تھی

شہر کے دیوار و در پر رت کی زردی چھائی تھی ہر شجر ہر پیڑ کی قسمت میں اب تنہائی تھی جینے والوں کا مقدر شہرتیں بنتی رہیں مرنے والوں کے لیے اب دشت کی تنہائی تھی چشم پوشی کا کسی ذی ہوش کو یارا نہ تھا رت صلیب و دار کی اس شہر میں پھر آئی تھی میں نے ظلمت کے فسوں سے بھاگنا چاہا مگر میرے ...

مزید پڑھیے

کس نے آ کر ہم کو دی آواز پچھلی رات میں

کس نے آ کر ہم کو دی آواز پچھلی رات میں کون ہم کو چھیڑنے آیا ہے ان لمحات میں ہم ملے تھے مال پر کل جس لچکتی ڈال سے کانچ کی تھیں چوڑیاں اس مہ جبیں کے ہات میں روح پرور کیفیت موسم کی تھی پھر اس کا ساتھ یار سمجھے ہم نے دارو پی ہے اس برسات میں سبز پیڑوں کی سنیں یا ان سے پھر اپنی کہیں دیر ...

مزید پڑھیے

کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا

کاغذ پہ تیرا نقش اتارا نہیں گیا مجھ سے کوئی خیال سنوارا نہیں گیا مل کے لگا ہے آج زمانے ٹھہر گئے تجھ سے بچھڑ کے وقت گزارا نہیں گیا طوفان میں بھی ڈوب نہ پائی مری انا ڈوبا مگر کسی کو پکارا نہیں گیا خوشیوں کے قہقہے ہیں ہر اک سمت گونجتے لگتا ہے کوئی شہر میں مارا نہیں گیا انسان ...

مزید پڑھیے

یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا

یہ آنکھ نم تھی زباں پر مگر سوال نہ تھا ہم اپنی ذات میں گم تھے کوئی خیال نہ تھا سجا لیا ہے ہتھیلی پہ ہم نے اس کا نام اس لیے تو بچھڑ جانے کا ملال نہ تھا اگرچہ معتبر ٹھہرے تھے ہم زمانے میں ہمارے پاس تو ایسا کوئی کمال نہ تھا اسی کے ساتھ تھے ہم اس سے بے خبر رہ کر اگرچہ رابطہ اس سے کوئی ...

مزید پڑھیے

خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے

خواب ڈستے رہے بکھرتے رہے کرب کے لمحے یوں گزرتے رہے کھو گئے یار ہم سفر بچھڑے دل میں دکھ ہجر کے اترتے رہے ہے یہی ایک زیست کا درماں اشک آنکھوں کے دل میں گرتے رہے چھا گئیں ظلمتیں زمانے میں لاشے ہر سمت ہی بکھرتے رہے لاکھ ہم تجھ کو بھولنا چاہیں نقش مٹ مٹ کے پھر ابھرتے رہے درد کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 445 سے 4657