مصیبت سر سے ٹلتی جا رہی ہے

مصیبت سر سے ٹلتی جا رہی ہے
ہماری عمر ڈھلتی جا رہی ہے


کہاں ہے زندگی اب زندگی میں
فقط اک نبض چلتی جا رہی ہے


مسلسل بھاپ بن کر اڑ رہا ہوں
مسلسل آگ جلتی جا رہی ہے


عجب ہے سانحہ جینے کی خواہش
مرے دل سے نکلتی جا رہی ہے


خفا کیوں ہیں مرے حالات مجھ سے
ہوا کیوں رخ بدلتی جا رہی ہے


یہ سانسیں معجزے میں ڈھل رہی ہیں
کرامت خوں میں چلتی جا رہی ہے


سوا نیزے پہ سورج آ رہا ہے
مری ہر سمت گلتی جا رہی ہے


مجھے دھر کر میرے بے در مکاں میں
وہ گھر کو ہاتھ ملتی جا رہی ہے


یہ کیسے ڈنک ہیں سینے میں طاہرؔ
حلق میں جاں اچھلتی جا رہی ہے