دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی
دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی اب کیا ہے وہ اتر گئی ندی چڑھی ہوئی تم جان دے کے لیتے ہو یہ بھی نئی ہوئی لیتے نہیں سخی تو کوئی چیز دی ہوئی اس ٹوٹے پھوٹے دل کو نہ چھیڑو پرے ہٹو کیا کر رہے ہو آگ ہے اس میں دبی ہوئی لو ہم بتائیں غنچہ و گل میں ہے فرق کیا اک بات ہے کہی ہوئی اک بے کہی ...