شاعری

دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی

دل سرد ہو گیا ہے طبیعت بجھی ہوئی اب کیا ہے وہ اتر گئی ندی چڑھی ہوئی تم جان دے کے لیتے ہو یہ بھی نئی ہوئی لیتے نہیں سخی تو کوئی چیز دی ہوئی اس ٹوٹے پھوٹے دل کو نہ چھیڑو پرے ہٹو کیا کر رہے ہو آگ ہے اس میں دبی ہوئی لو ہم بتائیں غنچہ و گل میں ہے فرق کیا اک بات ہے کہی ہوئی اک بے کہی ...

مزید پڑھیے

ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتا

ذرہ بھی اگر رنگ خدائی نہیں دیتا اندھا ہے تجھے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتا دل کی بری عادت ہے جو مٹتا ہے بتوں پر واللہ میں ان کو تو برائی نہیں دیتا کس طرح جوانی میں چلوں راہ پہ ناصح یہ عمر ہی ایسی ہے سجھائی نہیں دیتا گرتا ہے اسی وقت بشر منہ کے بل آ کر جب تیرے سوا کوئی دکھائی نہیں ...

مزید پڑھیے

رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے

رخسار کے پرتو سے بجلی کی نئی دھج ہے کیوں آنکھ جھپکتی ہے کیا سامنے سورج ہے دنیا کی زمینوں سے اے چرخ تو کیا واقف اک اک یہاں پنہاں کاؤس ہے ایرج ہے دروازے پہ اس بت کے سو بار ہمیں جانا اپنا تو یہی کعبہ اپنا تو یہی حج ہے اے ابروئے جاناں تو اتنا تو بتا ہم کو کس رخ سے کریں سجدہ قبلے میں ...

مزید پڑھیے

جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے

جان دیتے ہی بنی عشق کے دیوانے سے شمع کا حال نہ دیکھا گیا پروانے سے آتش عشق سے جل جل گئے پروانے سے پہلے یہ آگ لگی کعبہ و بت خانے سے ساقیا گریۂ غم سے مجھے مجبور سمجھ خون رستا ہے یہ ٹوٹے ہوئے پیمانے سے رات کی رات چمن میں ہے نمود شبنم صبح ہوتے ہی بکھر جائیں گے سب دانے سے دم آخر تری ...

مزید پڑھیے

مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں

مسکن وہیں کہیں ہے وہیں آشیاں کہیں دو آڑے سیدھے رکھ لیے تنکے جہاں کہیں پھولوں کی سیج پھولوں کی ہیں بدھیاں کہیں کانٹوں پہ ہم تڑپتے ہیں او آسماں کہیں جاتے کدھر ہو تم صف محشر میں خیر ہے دامن نہ ہو خدا کے لیے دھجیاں کہیں پہرا بٹھا دیا ہے یہ قید حیات نے سایہ بھی ساتھ ساتھ ہے جاؤں ...

مزید پڑھیے

گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائی

گری گر کر اٹھی پلٹی تو جو کچھ تھا اٹھا لائی نظر کیا کیمیا تھی رنگ چہروں سے اڑا لائی خدا کے واسطے سفاکیاں یہ کس سے سیکھی ہیں نظر سے پیار مانگا تھا وہ اک خنجر اٹھا لائی نہ حسرت ہی نکلتی ہے نہ دل کو آگ لگتی ہے مری ہستی مرے دامن میں کیا کانٹا لگا لائی وہ سب بدمستیاں تھیں زر کی اب زر ...

مزید پڑھیے

یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی

یہ کیسے بال کھولے آئے کیوں صورت بنی غم کی تمہارے دشمنوں کو کیا پڑی تھی میرے ماتم کی شکایت کس سے کیجے ہائے کیا الٹا زمانہ ہے بڑھایا پیار جب ہم نے محبت یار نے کم کی جگر میں درد ہے دل مضطرب ہے جان بے کل ہے مجھے اس بے خودی میں بھی خبر ہے اپنے عالم کی نہیں ملتے نہ ملئے خیر کوئی مر نہ ...

مزید پڑھیے

مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہے

مجھ کو آتا ہے تیمم نہ وضو آتا ہے سجدہ کر لیتا ہوں جب سامنے تو آتا ہے یوں تو شکوہ بھی ہمیں آئینہ رو آتا ہے ہونٹ سل جاتے ہیں جب سامنے تو آتا ہے ہاتھ دھوئے ہوئے ہوں نیستی و ہستی سے شیخ کیا پوچھتا ہے مجھ سے وضو آتا ہے منتیں کرتی ہے شوخی کہ منا لوں تجھ کو جب مرے سامنے روٹھا ہوا تو آتا ...

مزید پڑھیے

بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں

بتوں کے واسطے تو دین و ایماں بیچ ڈالے ہیں یہ وہ معشوق ہیں جو ہم نے کعبے سے نکالے ہیں وہ دیوانہ ہوں جس نے کوہ و صحرا چھان ڈالے ہیں انہیں تلووں سے تو ٹوٹے ہوئے کانٹے نکالے ہیں تراشی ہیں وہ باتیں اس ستم گر نے سر محفل کلیجے سے ہزاروں تیر چن چن کر نکالے ہیں جگر دل کے ورق ہیں وعدۂ ...

مزید پڑھیے

کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گا

کیا خبر تھی راز دل اپنا عیاں ہو جائے گا کیا خبر تھی آہ کا شعلہ زباں ہو جائے گا حشر ہونے دے ستم گر ہم دکھا دیں گے تجھے پیارا پیارا یہ گریباں انگلیاں ہو جائے گا رات بھر کی ہیں بہاریں شمع کیا پروانہ کیا صبح ہوتے ہوتے رخصت کارواں ہو جائے گا حشر میں انصاف ہوگا بس یہی سنتے رہو کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4458 سے 4657