خالی ہوا گلاس نشہ سر میں آ گیا
خالی ہوا گلاس نشہ سر میں آ گیا دریا اتر گیا تو سمندر میں آ گیا یکجائی کا طلسم رہا طاری ٹوٹ کر وہ سامنے سے ہٹ کے برابر میں آ گیا جا کر جہاں پہ رکھا تھا ہونا کیا درست اتنا سا کام کر کے میں پل بھر میں آ گیا لیکن بڑائی کا کوئی احساس کب رہا چکر تھا دنیا داری کا چکر میں آ گیا آ جا کے ...