شاعری

خالی ہوا گلاس نشہ سر میں آ گیا

خالی ہوا گلاس نشہ سر میں آ گیا دریا اتر گیا تو سمندر میں آ گیا یکجائی کا طلسم رہا طاری ٹوٹ کر وہ سامنے سے ہٹ کے برابر میں آ گیا جا کر جہاں پہ رکھا تھا ہونا کیا درست اتنا سا کام کر کے میں پل بھر میں آ گیا لیکن بڑائی کا کوئی احساس کب رہا چکر تھا دنیا داری کا چکر میں آ گیا آ جا کے ...

مزید پڑھیے

باغ کیا کیا شجر دکھاتے ہیں

باغ کیا کیا شجر دکھاتے ہیں ہم بھی اپنے ثمر دکھاتے ہیں آ تجھے بے خبر دکھاتے ہیں حالت نامہ بر دکھاتے ہیں کچھ مظاہر ہیں جو نگر میں ہمیں دوسرا ہی نگر دکھاتے ہیں روح مطلق میں عشق جذب ہوا عرش کا کام کر دکھاتے ہیں خود تو پہنچے ہوئے ہیں منزل پر پاؤں کو در بدر دکھاتے ہیں ہم کو مطلوب ...

مزید پڑھیے

راہ پر خار ہے کیا ہونا ہے

راہ پر خار ہے کیا ہونا ہے پاؤں افگار ہے کیا ہونا ہے کام زنداں کے کیے اور ہمیں شوق گلزار ہے کیا ہونا ہے جان ہلکان ہوئی جاتی ہے بار سا بار ہے کیا ہونا ہے پار جانا ہے نہیں ملتی ناؤ زور پر دھار ہے کیا ہونا ہے روشنی کی ہمیں عادت اور گھر تیرہ و تار ہے کیا ہونا ہے بیچ میں آگ کا دریا ...

مزید پڑھیے

پا پیادہ چلتا ہوں

پا پیادہ چلتا ہوں بے ارادہ چلتا ہوں تھک نہ جاؤں اس لئے میں زیادہ چلتا ہوں چشم کور بستی میں بے لبادہ چلتا ہوں رستے حیرت کرتے ہیں اتنا سادہ چلتا ہوں ہو نہ جاؤں پورا میں آدھا آدھا چلتا ہوں مفلسی میں کر کے میں دل کشادہ چلتا ہوں افضلؔ آس کے رستے پر بے مرادہ چلتا ہوں

مزید پڑھیے

بیداری میں سوتے خواب

بیداری میں سوتے خواب دیکھے پاگل ہوتے خواب تیری آنکھ میں رہتے ہم یار اگر ہم ہوتے خواب جانے اب کس حال میں ہوں چھوڑ آئے تھے روتے خواب تعبیروں سے عاری تھے کیسے کامل ہوتے خواب مسکاتی آنکھوں میں اکثر دیکھے ہم نے روتے خواب کچھ نہ کچھ مل جاتا پھل کاش زمیں میں بوتے خواب افضلؔ اتنا ...

مزید پڑھیے

حوصلے کیا اس بت بے جان کے

حوصلے کیا اس بت بے جان کے سارے جھگڑے ہیں دل نادان کے ناز ہے کس بات پر انسان کو کس طرح چلتا ہے سینہ تان کے کھیت جل تھل کر دئے سیلاب نے مر گئے ارمان سب دہقان کے دے رہے ہیں مات اب شیطان کو کارنامے حضرت انسان کے چھپ چھپا کے وار ہم کرتے نہیں ہم کھلاڑی ہیں کھلے میدان کے جب سے بدلی ...

مزید پڑھیے

یادوں کی جاگیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا

یادوں کی جاگیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا گر اس کی تصویر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا اس کے دم سے رانجھا تھا میں وہ ہی مری پہچان بنی وہ گر میری ہیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا قائل کرنا کام تھا مشکل پر وہ قائل ہو ہی گیا لہجے میں تاثیر نہ ہوتی تو میں یارو کیا کرتا میرا کام تمام ...

مزید پڑھیے

خواب بن کر ہر خوشی رہ جائے گی

خواب بن کر ہر خوشی رہ جائے گی بن ترے کیا زندگی رہ جائے گی ہجر کی منظر کشی رہ جائے گی آنکھ میں یارو نمی رہ جائے گی پنچھی سارے پیڑ سے اڑ جائیں گے صحن میں اک خامشی رہ جائے گی یوں تو سب ہی لوگ ہوں گے بزم میں تو نہ ہوگا تو کمی رہ جائے گی جانے والا لوٹ کر نہ آئے گا آنکھ در پر ہی جمی رہ ...

مزید پڑھیے

پرانے سب نظارے جا رہے ہیں

پرانے سب نظارے جا رہے ہیں نئے منظر ابھارے جا رہے ہیں ادھر ہے سرد مہری اور ادھر سے اشاروں پر اشارے جا رہے ہیں سفینہ ہو رہا ہے غرق طوفاں نگاہوں سے کنارے جا رہے ہیں نہیں باطن پہ اب کوئی توجہ فقط ظاہر سنوارے جا رہے ہیں شب غم میں رخ روشن کے جلوے اندھیروں کو نکھارے جا رہے ہیں کہیں ...

مزید پڑھیے

یہ حقیقت ہے وہ کمزور ہوا کرتی ہیں

یہ حقیقت ہے وہ کمزور ہوا کرتی ہیں اپنی تقدیر کا قومیں جو گلہ کرتی ہیں ریت پر جب بھی بناتا ہے گھروندا کوئی سر پھری موجیں اسے دیکھ لیا کرتی ہیں میں گلستاں کی حفاظت کی دعا کرتا ہوں بجلیاں میرے نشیمن پہ گرا کرتی ہیں جانے کیا وصف نظر آتا ہے مجھ میں ان کو تتلیاں میرے تعاقب میں رہا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4437 سے 4657