شاعری

کر دیا خود کو سمندر کے حوالے ہم نے

کر دیا خود کو سمندر کے حوالے ہم نے تب کہیں گوہر نایاب نکالے ہم نے زندگی نام ہے چلنے کا تو چلتے ہی رہے رک کے دیکھے نہ کبھی پاؤں کے چھالے ہم نے جب سے ہم ہو گئے درویش ترے کوچے کے تب سے توڑے نہیں سونے کے نوالے ہم نے تیری چاہت سی نہیں دیکھی کسی کی چاہت ویسے دیکھے ہیں بہت چاہنے والے ہم ...

مزید پڑھیے

مری دیوانگی کی حد نہ پوچھو تم کہاں تک ہے

مری دیوانگی کی حد نہ پوچھو تم کہاں تک ہے زمیں پر ہوں مگر میری رسائی لا مکاں تک ہے ترا جلوہ تو ایسے عام ہے سارے زمانے میں وہیں تک دیکھ سکتا ہے نظر جس کی جہاں تک ہے کسی کو کیا خبر احساس ہے لیکن مرے دل کو کہ اس کے پیار کی برسات میرے دشت جاں تک ہے ذرا برق ستم سے پوچھ لیتا کاش کوئی ...

مزید پڑھیے

غزل کا حسن ہے اور گیت کا شباب ہے وہ

غزل کا حسن ہے اور گیت کا شباب ہے وہ نشہ ہے جس میں سخن کا وہی شراب ہے وہ اسے نہ دیکھ مہکتا ہوا گلاب ہے وہ نہ جانے کتنی نگاہوں کا انتخاب ہے وہ مثال مل نہ سکی کائنات میں اس کی جواب اس کا نہیں کوئی لا جواب ہے وہ مری ان آنکھوں کو تعبیر مل نہیں پاتی جسے میں دیکھتا رہتا ہوں ایسا خواب ہے ...

مزید پڑھیے

تیرے جلووں کو روبرو کر کے

تیرے جلووں کو روبرو کر کے تجھ سے ملتے ہیں ہم وضو کر کے تیرے کوچے سے لوٹ آئے ہم اپنی آنکھیں لہو لہو کر کے چاک دامن ہے چاک رہنے دے کیا کرے گا اسے رفو کر کے تیرے لہجے میں کیسا جادو ہے ہم بھی دیکھیں گے گفتگو کر کے اپنی دنیا لٹائے بیٹھا ہوں یہ ملا تیری جستجو کر کے کھو دیا ہے چراغ ...

مزید پڑھیے

غموں کی دھوپ میں ملتے ہیں سائباں بن کر

غموں کی دھوپ میں ملتے ہیں سائباں بن کر زمیں پہ رہتے ہیں کچھ لوگ آسماں بن کر اڑے ہیں جو ترے قدموں سے خاک کے ذرے چمک رہے ہیں فلک پر وہ کہکشاں بن کر جنہیں نصیب ہوئی ہے ترے بدن کی نسیم مہک رہے ہیں زمیں پر وہ گلستاں بن کر میں اضطراب کے عالم میں رقص کرتا رہا کبھی غبار کی صورت کبھی ...

مزید پڑھیے

تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں

تم ہمارے ہو ہم تمہارے ہیں جیسے دریا کے دو کنارے ہیں روٹھے روٹھے سے سب نظارے ہیں اک ہمیں ہیں جو غم کے مارے ہیں وہ ملاتے ہیں نظر ہم سے اور کہتے ہیں ہم تمہارے ہیں حوصلہ ہے ہمارے دل میں ابھی ہم کہاں زندگی سے ہارے ہیں کیا بتائیں کہ تیری فرقت میں کس طرح ہم نے دن گزارے ہیں اس کو میری ...

مزید پڑھیے

دوائے درد غم و اضطراب کیا دیتا

دوائے درد غم و اضطراب کیا دیتا وہ میری آنکھوں کو رنگین خواب کیا دیتا تھی میری آنکھوں کی قسمت میں تشنگی لکھی وہ اپنی دید کی مجھ کو شراب کیا دیتا کیا سوال جو میں نے وفا کے قاتل سے زباں پہ قفل لگا تھا جواب کیا دیتا میں چاہتا تھا کہ اس کو گلاب پیش کروں وہ خود گلاب تھا اس کو گلاب کیا ...

مزید پڑھیے

لٹا رہا ہوں میں لعل و گہر اندھیرے میں

لٹا رہا ہوں میں لعل و گہر اندھیرے میں تلاش کرتی ہے کس کو نظر اندھیرے میں وہ جس کی راہ میں میں نے دیئے جلائے تھے گیا وہ شخص مجھے چھوڑ کر اندھیرے میں چراغ کون اٹھا لے گیا مرے گھر سے سسک رہے ہیں مرے بام و در اندھیرے میں تھا تیرگی کے جنازے پہ ایک حشر بپا جو اس کے آنے سے پھیلی خبر ...

مزید پڑھیے

اپنی تنہائیوں کے غار میں ہوں

اپنی تنہائیوں کے غار میں ہوں ایسا لگتا ہے میں مزار میں ہوں تو نے پوچھا کبھی نہ حال مرا مدتوں سے ترے دیار میں ہوں تیری خوشبو ہے میری سانسوں میں جب سے میں تیری رہ گزار میں ہوں مجھ پہ اپنا ہے اختیار کہاں میں تو بس تیرے اختیار میں ہوں مجھ کو منزل سے آشنا کر دے میں تری راہ کے غبار ...

مزید پڑھیے

ہم نے کچھ پنکھ جو دالان میں رکھ چھوڑے ہیں

ہم نے کچھ پنکھ جو دالان میں رکھ چھوڑے ہیں پنچھی آ جائیں گے اس دھیان میں رکھ چھوڑے ہیں سربلندی ہو کہ اے رہ گزر دل ہم نے سارے جھگڑے ہی تری شان میں رکھ چھوڑے ہیں ایسا آشوب توازن تھا کہ پتھر سارے کھینچ کر پلۂ میزان میں رکھ چھوڑے ہیں سوچتا ہوں کہ وہ ایمان ہی لے آئے کبھی رخنے کچھ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4438 سے 4657