خمار شب میں زمیں کا چہرہ نکھر رہا تھا
خمار شب میں زمیں کا چہرہ نکھر رہا تھا کوئی ستاروں کی پالکی میں اتر رہا تھا نہا رہے تھے شجر کسی جھیل کے کنارے فلک کے تختے پہ چاند بیٹھا سنور رہا تھا ہوائیں دیوار و در کے پیچھے سے جھانکتی تھیں دھواں لپیٹے کوئی گلی سے گزر رہا تھا کھڑا تھا میری گلی سے باہر جہان سارا میں خواب میں ...