شاعری

اب تو ہر ایک اداکار سے ڈر لگتا ہے

اب تو ہر ایک اداکار سے ڈر لگتا ہے مجھ کو دشمن سے نہیں یار سے ڈر لگتا ہے کیسے دشمن کے مقابل وہ ٹھہر پائے گا جس کو ٹوٹی ہوئی تلوار سے ڈر لگتا ہے وہ جو پازیب کی جھنکار کا شیدائی ہو اس کو تلوار کی جھنکار سے ڈر لگتا ہے مجھ کو بالوں کی سفیدی نے خبردار کیا زندگی اب تری رفتار سے ڈر لگتا ...

مزید پڑھیے

اشک آنکھوں میں لئے آٹھوں پہر دیکھے گا کون

اشک آنکھوں میں لئے آٹھوں پہر دیکھے گا کون ہم نہیں ہوں گے تو تیری رہ گزر دیکھے گا کون شمع بھی بجھ جائے گی پروانہ بھی جل جائے گا رات کے دونوں مسافر ہیں شجر دیکھے گا کون سونے اور چاندی کے برتن کی نمائش ہے یہاں میں ہوں کوزہ گر مرا دست ہنر دیکھے گا کون جس قدر ڈوبا ہوا ہوں خود میں ...

مزید پڑھیے

جو مری آرزو نہیں کرتا

جو مری آرزو نہیں کرتا اس کی میں جستجو نہیں کرتا ہجر جاناں میں اپنے اشکوں سے کون ہے جو وضو نہیں کرتا وہ تو تیرا کلیم تھا ورنہ سب سے تو گفتگو نہیں کرتا سیدالانبیا تھے وہ ورنہ سب کو تو روبرو نہیں کرتا تیری نسبت ملی مجھے جب سے میں کوئی آرزو نہیں کرتا ہر گھڑی جس کی بات کرتا ...

مزید پڑھیے

یہ بتا دے مجھ کو میرے دل کسے آواز دوں

یہ بتا دے مجھ کو میرے دل کسے آواز دوں خود مسیحا ہے مرا قاتل کسے آواز دوں جتنے ساقی تھے مرے سب نذر طوفاں ہو گئے اور کوسوں دور ہے ساحل کسے آواز دوں لے گیا وہ ساتھ اپنے گلشن دل کی بہار سونی سونی ہے مری محفل کسے آواز دوں حال میرا خنجر‌ ماضی سے زخمی ہو گیا رو رہا ہے میرا مستقبل کسے ...

مزید پڑھیے

یوں علاج دل بیمار کیا جائے گا

یوں علاج دل بیمار کیا جائے گا شربت‌ دید سے سرشار کیا جائے گا حسرت دید میں بینائی گنوا بیٹھے جو اس سے کیسے ترا دیدار کیا جائے گا سو رہا ہوں میں زمانے سے ترا خواب لیے نیند سے کب مجھے بیدار کیا جائے گا ٹوٹ جائے گا بھرم پریوں کی شہزادی کا جب ترے حسن کو شہکار کیا جائے گا خود کشی کی ...

مزید پڑھیے

بلندی سے کبھی وہ آشنائی کر نہیں سکتا

بلندی سے کبھی وہ آشنائی کر نہیں سکتا جو تیرے آستانے کی گدائی کر نہیں سکتا زباں رکھتے ہوئے بھی لب کشائی کر نہیں سکتا کوئی قطرہ سمندر سے لڑائی کر نہیں سکتا تو جگنو ہے فقط راتوں کے دامن میں بسیرا کر میں سورج ہوں تو مجھ سے آشنائی کر نہیں سکتا خودی کی دولت عظمیٰ خدا نے مجھ کو بخشی ...

مزید پڑھیے

ہر نغمۂ پر درد ہر اک ساز سے پہلے

ہر نغمۂ پر درد ہر اک ساز سے پہلے ہنگامہ بپا ہوتا ہے آغاز سے پہلے دل درد محبت سے تو واقف بھی نہیں تھا جاناں ترے بخشے ہوئے اعزاز سے پہلے شعلوں پہ چلاتی ہے محبت دل ناداں انجام ذرا سوچ لے آغاز سے پہلے اب میری تباہی کا اسے غم بھی نہیں ہے جس نے مجھے چاہا تھا بڑے ناز سے پہلے شاہین وہ ...

مزید پڑھیے

آنچل میں نظر آتی ہیں کچھ اور سی آنکھیں

آنچل میں نظر آتی ہیں کچھ اور سی آنکھیں چھا جاتی ہیں احساس پہ بلور سی آنکھیں رہتی ہے شب و روز میں بارش سی تری یاد خوابوں میں اتر جاتی ہیں گھنگھور سی آنکھیں پیمانے سے پیمانے تلک بادۂ لعلیں آغاز سے انجام تلک دور سی آنکھیں لے کر کہاں رہتی رہی موتی سی وہ صورت لے کر کہاں پھرتا رہا ...

مزید پڑھیے

ہے اسی شہر کی گلیوں میں قیام اپنا بھی

ہے اسی شہر کی گلیوں میں قیام اپنا بھی ایک تختی پہ لکھا رہتا ہے نام اپنا بھی بھیگتی رہتی ہے دہلیز کسی بارش میں دیکھتے دیکھتے بھر جاتا ہے جام اپنا بھی ایک تو شام کی بے مہر ہوا چلتی ہے ایک رہتا ہے ترے کو میں خرام اپنا بھی کوئی آہٹ ترے کوچے میں مہک اٹھتی ہے جاگ اٹھتا ہے تماشا کسی ...

مزید پڑھیے

سبو اٹھاؤں تو پینے کے بیچ کھلتی ہے

سبو اٹھاؤں تو پینے کے بیچ کھلتی ہے کوئی گلی میرے سینے کے بیچ کھلتی ہے تمام رات ستارے تلاش کرتے ہیں وہ چاندنی کسی زینے کے بیچ کھلتی ہے تو دیکھتا ہے تو تشکیل پانے لگتا ہوں مری بساط نگینے کے بیچ کھلتی ہے گرفت ہوش نہیں سہل دست برداری گرہ یہ سخت قرینے کے بیچ کھلتی ہے کنارۂ مہ و ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4435 سے 4657