شاعری

عشق میں جو ہمہ تن دل نہیں ہونے پاتے

عشق میں جو ہمہ تن دل نہیں ہونے پاتے درخور جذبۂ کامل نہیں ہونے پاتے جو تری بزم میں شامل نہیں ہونے پاتے وہ کسی بزم میں داخل نہیں ہونے پاتے جادۂ شوق میں حائل نہیں ہونے پاتے مرحلے سخت بھی مشکل نہیں ہونے پاتے ہر نفس ذکر ترا لب پہ رہا کرتا ہے ہم تری یاد سے غافل نہیں ہونے پاتے حاصل ...

مزید پڑھیے

تری صورت سے میرے دل کی حیرانی نہیں جاتی

تری صورت سے میرے دل کی حیرانی نہیں جاتی کہ یہ پہچان لینے پر بھی پہچانی نہیں جاتی برنگ شمع سوزاں شعلہ سمانی نہیں جاتی پس پردہ بھی تیری شان عریانی نہیں جاتی دل ناکام ارماں کی پریشانی نہیں جاتی کہ جیسے تشنہ لب کی پیاس بے پانی نہیں جاتی یقیں عاجز ہے تجھ سے کیا ٹھکانا تیری ہستی ...

مزید پڑھیے

ہو گئے ہیں اپنے گرد و پیش سے بیگانہ ہم

ہو گئے ہیں اپنے گرد و پیش سے بیگانہ ہم سنتے سنتے سو گئے ہیں زیست کا افسانہ ہم دل نظر احساس سب کچھ ان پہ قرباں کر چکے پیش کرنے کے لیے اب لائیں کیا نذرانہ ہم اک نظر میں بے نیاز جام و صہبا کر دیا کیوں نہ تیرا دم بھریں اے نرگس مستانہ ہم شوق سے ڈھائے ستم کوئی ہماری جان پر ہاں اٹھائیں ...

مزید پڑھیے

اپنے مقصد میں یہ ناکام ہوئی جاتی ہے

اپنے مقصد میں یہ ناکام ہوئی جاتی ہے زندگی موت کا پیغام ہوئی جاتی ہے بے کراں تلخیٔ آلام ہوئی جاتی ہے جاوداں گردش ایام ہوئی جاتی ہے ابتدا صورت انجام ہوئی جاتی ہے ہر سحر میرے لئے شام ہوئی جاتی ہے چیز جو خاص تھی وہ عام ہوئی جاتی ہے عاشقی مفت میں بدنام ہوئی جاتی ہے عشق میں نالہ و ...

مزید پڑھیے

قابل دید تھا جو رنگ بھی تغییر میں تھا

قابل دید تھا جو رنگ بھی تغییر میں تھا لطف دنیا کی بدلتی ہوئی تصویر میں تھا حرف بے کار تھا جو کچھ مری تقدیر میں تھا حل ہر اک عقدۂ دشوار کا تدبیر میں تھا میری تقصیر نے انسان بنایا مجھ کو میری اصلاح کا پہلو مری تعزیر میں تھا اب سزاوار فنا کوئی بنا لے ورنہ مدعا زیست کا مضمر مری ...

مزید پڑھیے

کیسے کیسے ستم اٹھائے ہیں

کیسے کیسے ستم اٹھائے ہیں زخم کھا کر بھی مسکرائے ہیں اشک آنکھوں میں ڈبڈبائے ہیں یا ستارے سے جھلملائے ہیں آپ جب بھی چمن میں آئے ہیں گل تو گل خار مسکرائے ہیں کیوں نہ جانے یہ دل میں آتا ہے آپ اپنے نہیں پرائے ہیں کوئی اپنا مزاج داں نہ ملا ہم نے خود اپنے ناز اٹھائے ہیں جنہیں ...

مزید پڑھیے

محبت کا تجھے عرفان بھی ہے

محبت کا تجھے عرفان بھی ہے محبت کفر بھی ایمان بھی ہے تضاد حضرت انساں نہ پوچھو فرشتہ بھی ہے یہ شیطان بھی ہے یہی ثابت ہوا ہے زندگی سے جو دانا ہے وہی نادان بھی ہے بہت بے ربط ہے روداد ہستی اس افسانے کا کچھ عنوان بھی ہے اسی کا زندگی ہے نام شاید کچھ الجھن بھی کچھ اطمینان بھی ہے نہ ...

مزید پڑھیے

بات دل کی زباں پہ آئی ہے

بات دل کی زباں پہ آئی ہے اب یہ اپنی نہیں پرائی ہے خیر داغ جگر کی ہو یا رب عمر بھر کی یہی کمائی ہے چپ رہیں تو رہا نہیں جاتا کچھ جو کہئے تو جگ ہنسائی ہے عقل دو چار گام تک محدود عشق کی دور تک رسائی ہے متبسم ہوئے ہیں لب کس کے کائنات آج مسکرائی ہے وہ بھی ہے اک مقام عشق جہاں ہم نے اپنی ...

مزید پڑھیے

عقل کا ظرف جدا ہوش کا پیمانہ جدا

عقل کا ظرف جدا ہوش کا پیمانہ جدا حسن اور عشق کا دونوں سے ہے افسانہ جدا عشق کا بار امانت کہاں کم مایہ کہاں دین بلبل کا جدا مشرب پروانہ جدا دل میں ہے کرمک شب تاب کے بھی آگ نہاں لیکن اس آگ سے ہے سوزش پروانہ جدا کب برے وقت میں ہوتا ہے کسی کا کوئی شمع گل ہوتے ہی ہو جاتا ہے پروانہ ...

مزید پڑھیے

محبت ماورائے کفر و دیں ہے

محبت ماورائے کفر و دیں ہے محبت کا کوئی مذہب نہیں ہے محبت حسن ہے حسن آفریں ہے محبت حسن سے بڑھ کر حسیں ہے بدل اس کا زمانہ میں نہیں ہے بڑی دولت مرا حسن یقیں ہے تصور میں وہ زلف عنبریں ہے نظر میں اب نہ دنیا ہے نہ دیں ہے مجھے اس قول پر اپنے یقیں ہے نہ ہو جس سے خیانت وہ امیں ہے بظاہر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 443 سے 4657