شاعری

نظر کا نشہ بدن کا خمار ٹوٹ گیا

نظر کا نشہ بدن کا خمار ٹوٹ گیا کہ اب وہ آئینہ اعتبار ٹوٹ گیا بتائیں کیا تمہیں اب لمحۂ قرار کی بات ذرا سی دیر کو چمکا شرار ٹوٹ گیا کوئی خیال ہے سائے کی طرح ساتھ مرے اکیلے پن کا بھی میرے حصار ٹوٹ گیا شکست کھائی نہ میں نے فریب دنیا سے دل اس نبرد میں گو بار بار ٹوٹ گیا اٹھو کہ اور ...

مزید پڑھیے

بھولی ہوئی راہوں کا سفر کیسا لگے گا

بھولی ہوئی راہوں کا سفر کیسا لگے گا اب لوٹ کے جائیں گے تو گھر کیسا لگے گا ہنگامۂ ہستی سے نمٹ کر جو چلیں گے وہ نیند کا خاموش نگر کیسا لگے گا اس نے تو بلایا ہے مگر سوچ رہا ہوں محفل میں کوئی خاک بسر کیسا لگے گا اندھے ہیں جو دنیا کی چکا چوند سے ان کو سورج کا سوا نیزے پہ سر کیسا لگے ...

مزید پڑھیے

یاد کے دریچوں میں جھانکتا تو ہوگا وہ

یاد کے دریچوں میں جھانکتا تو ہوگا وہ رات بھر مرے غم میں جاگتا تو ہوگا وہ آنسوؤں کے سوتے جب خشک ہو گئے ہوں گے آنکھ میں مجھے بھر کے دیکھتا تو ہوگا وہ کھو گئی جو راتوں میں اس اداس صورت کو صبح کے اجالے میں ڈھونڈھتا تو ہوگا وہ نقش نا مکمل سے بت تراشتا ہوگا توڑ کر اسے پھر سے جوڑتا تو ...

مزید پڑھیے

یار کا پتا لوگو جا بجا نہیں ملتا

یار کا پتا لوگو جا بجا نہیں ملتا جس جگہ پہ کھویا ہو اس جگہ نہیں ملتا شعلۂ جوالہ ہے آگ کا حوالہ ہے مسجدوں کی ٹھنڈک میں اب خدا نہیں ملتا عشق کرنے والے بھی عشق اب نہیں کرتے جوئے شیر لانے کا اب صلہ نہیں ملتا لمبے لمبے رستوں پہ چھوٹے چھوٹے لوگوں کو منزلوں کی قربت سے حوصلہ نہیں ...

مزید پڑھیے

کبھی ذرہ کبھی موج رواں ہے

کبھی ذرہ کبھی موج رواں ہے حقیقت ہے نہاں گرچہ عیاں ہے تغیر سے عبارت یہ جہاں ہے عبارت میں تغیر پر کہاں ہے زماں بھی ہے سفر میں اور مکاں بھی تسلسل میں نہاں اثبات جاں ہے جہاں تخلیق و خالق ہم زباں ہیں وہاں ہر جنبش لب کن‌ فکاں ہے منازل در منازل ہیں سفر میں سفر منزل ہے منزل کارواں ...

مزید پڑھیے

جان جاناں پہ وار دی ہم نے

جان جاناں پہ وار دی ہم نے جان کر جان ہار دی ہم نے رات پھر میکدے میں زاہد کو پارسائی ادھار دی ہم نے سنگ پھینکو تو تاک کر پھینکو سر سے چادر اتار دی ہم نے اب پلٹ آؤ بھی تو کیا حاصل شب ہجراں گزار دی ہم نے رو کے اس کو منا لیا طلعتؔ ہنس کے بگڑی سنوار دی ہم نے

مزید پڑھیے

شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ

شہروں سے شہر یار کی تنہائیاں نہ پوچھ لالے سے لالہ زار کی تنہائیاں نہ پوچھ گلشن میں پھول دیکھ تو سبزے کا رنگ دیکھ بٹتی ہوئی بہار کی تنہائیاں نہ پوچھ جنت بدر ہوئے تو ملے ارض پہ رفیق جنت میں کردگار کی تنہائیاں نہ پوچھ یاران تیز گام تو آگے نکل گئے اڑتے ہوئے غبار کی تنہائیاں نہ ...

مزید پڑھیے

داغ جلتا ہے مرے سینے میں

داغ جلتا ہے مرے سینے میں دل پگھلتا ہے مرے سینے میں شیشہ و سنگ مقابل آئے کچھ چٹختا ہے مرے سینے میں رات بھر راز خرد سر جنوں دل اگلتا ہے مرے سینے میں تیرا خط ہے کہ قلم ہے میرا کچھ تو جلتا ہے مرے سینے میں اس لیے دشت سے مانوس ہوں میں شہر بستا ہے مرے سینے میں بانٹتے رہتے ہیں وہ لعل و ...

مزید پڑھیے

دل تڑپ کر بہل گیا شاید

دل تڑپ کر بہل گیا شاید شوق پھر سے مچل گیا شاید کیوں دریچے پکارتے ہیں مجھے پھر سے موسم بدل گیا شاید ہوش انگڑائی لے کے جاگ اٹھا وصل کا چاند ڈھل گیا شاید تیر جو آخری تھا ترکش میں اپنے ہی دل پہ چل گیا شاید آ رہی ہے ندائے گریۂ سنگ کوئی گر کر سنبھل گیا شاید

مزید پڑھیے

ابھی تو آنکھوں میں نا دیدہ خواب باقی ہیں

ابھی تو آنکھوں میں نا دیدہ خواب باقی ہیں جو وقت لکھ نہیں پایا وہ باب باقی ہیں سزا جو اگلے صحیفوں میں تھی تمام ہوئی مگر صحیفۂ دل کے عذاب باقی ہیں کرو گے جمع بھلا کیسے دل کے شیشوں کو ابھی تو دشت فلک میں شہاب باقی ہیں اڑا کے لے گئی آندھی وہ حرف حرف کتاب جو صفحہ صفحہ ہیں دل کے سراب ...

مزید پڑھیے
صفحہ 438 سے 4657