فشار حسن سے آغوش تنگ مہکے ہے
فشار حسن سے آغوش تنگ مہکے ہے صبا کے لمس سے پھولوں کا رنگ مہکے ہے ادائے نیم نگاہی بھی کیا قیامت ہے کہ بن کے پھول وہ زخم خدنگ مہکے ہے یہ وحشتیں بھی مری خوشبوؤں کا حصہ ہیں کہ مرے خون سے دامان سنگ مہکے ہے ادائے ناز بھی ہے حسن و اہتزاز کی بات کہ تار زلف نہیں انگ انگ مہکے ہے لہو کے ...