شاعری

فشار حسن سے آغوش تنگ مہکے ہے

فشار حسن سے آغوش تنگ مہکے ہے صبا کے لمس سے پھولوں کا رنگ مہکے ہے ادائے نیم نگاہی بھی کیا قیامت ہے کہ بن کے پھول وہ زخم خدنگ مہکے ہے یہ وحشتیں بھی مری خوشبوؤں کا حصہ ہیں کہ مرے خون سے دامان سنگ مہکے ہے ادائے ناز بھی ہے حسن و اہتزاز کی بات کہ تار زلف نہیں انگ انگ مہکے ہے لہو کے ...

مزید پڑھیے

وہی جو راہ کا پتھر تھا بے تراش بھی تھا

وہی جو راہ کا پتھر تھا بے تراش بھی تھا وہ خستہ جاں ہی کبھی آئینہ قماش بھی تھا لہو کے پھول رگ جاں میں جس سے کھلتے تھے وہی تو شیشۂ دل تھا کہ پاش پاش بھی تھا بکھر گئی ہیں جہاں ٹوٹ کر یہ چٹانیں یہیں تو پھول کوئی صاحب فراش بھی تھا اٹھائے پھرتا تھا جس کو صلیب کی صورت وہی وجود تو خود اس ...

مزید پڑھیے

ہے فیض عام پر سائل کہاں ہے

ہے فیض عام پر سائل کہاں ہے لہو گرنے کو ہے قاتل کہاں ہے طلسم دشت کا مارا ہے مجنوں سراب چشم ہے محمل کہاں ہے طلب کی انتہا ہی ابتدا ہے نظر آتی ہے جو منزل کہاں ہے ستاروں سے بھی آگے آ گئی ہوں میری پرواز کا حاصل کہاں ہے گل نرگس نے پوچھا رات مجھ سے تری آنکھوں میں تھا جو تل کہاں ہے میں ...

مزید پڑھیے

اب تیغ کی باتیں ہیں نہ تلوار کی باتیں

اب تیغ کی باتیں ہیں نہ تلوار کی باتیں کرتے نہیں دیوانے بھی اب دار کی باتیں ہر ہاتھ مسیحا ہے تو ہر گود ہے مریم بیمار سمجھ لیتے ہیں بیمار کی باتیں کہتے ہیں مگر غیر سے افسانۂ جاناں جاناں سے کیے جاتے ہیں اغیار کی باتیں آداب رفاقت سے شناسا ہوئی جب سے بلبل نے عقیدت سے سنی خار کی ...

مزید پڑھیے

قفس جسم و جاں میں قید رہے

قفس جسم و جاں میں قید رہے اپنے ہی آشیاں میں قید رہے آرزوئے مکان سے چھوٹے خواہش لا مکاں میں قید رہے نالۂ عندلیب و نغمۂ گل کیوں بہار و خزاں میں قید رہے خواب آنکھوں سے ہو گئے اوجھل دل کی چشم نہاں میں قید رہے سوز اور ساز عقل و دل طلعتؔ سینۂ عاشقاں میں قید رہے

مزید پڑھیے

بزم جاں پھر نگۂ توبہ شکن مانگے ہے

بزم جاں پھر نگۂ توبہ شکن مانگے ہے لمس شعلے کا تو خوشبو کا بدن مانگے ہے قد و گیسو کی شریعت کا وہ منکر بھی نہیں اور پھر اپنے لیے دار و رسن مانگے ہے رقص کاکل کے تصور کی یہ شیریں ساعت شب کے پھولوں سے مہکتا ہوا بن مانگے ہے ٹوٹتے ہیں تو بکھر جاتے ہیں مٹی کے حروف زندگی جن سے چراغوں کا ...

مزید پڑھیے

مری غزل جو نئے ساز سے عبارت ہے

مری غزل جو نئے ساز سے عبارت ہے مرے نفس مری آواز سے عبارت ہے کھٹک رہا ہے جو نشتر جراحت دل میں فریب نرگس طناز سے عبارت ہے حقیقتوں کو فسانہ بنا دیا جس نے یہ سحر بھی ترے اعجاز سے عبارت ہے قفس بھی جیسے دریچہ ہے دل کے زنداں کا نفس بھی لذت پرواز سے عبارت ہے مرے لہو کی یہ گردش اسی کا ...

مزید پڑھیے

لمحہ در لمحہ گزرتا ہی چلا جاتا ہے

لمحہ در لمحہ گزرتا ہی چلا جاتا ہے وقت خوشبو ہے بکھرتا ہی چلا جاتا ہے آبگینوں کا شجر ہے کہ یہ احساس وجود جب بکھرتا ہے بکھرتا ہی چلا جاتا ہے دل کا یہ شہر صدا اور یہ حسیں سناٹا وادئ جاں میں اترتا ہی چلا جاتا ہے اب یہ اشکوں کے مرقعے ہیں کہ سمجھتے ہیں نہیں نقش پتھر پہ سنورتا ہی چلا ...

مزید پڑھیے

مل بھی جاتا جو کہیں آب بقا کیا کرتے

مل بھی جاتا جو کہیں آب بقا کیا کرتے زندگی خود بھی تھی جینے کی سزا کیا کرتے سرحدیں وہ نہ سہی اپنی حدوں سے باہر جو بھی ممکن تھا کیا اس کے سوا کیا کرتے ہم سرابوں میں سدا پھول کھلاتے گزرے یہ بھی تھا آبلہ پائی کا صلا کیا کرتے جس کو موہوم لکیروں کا مرقع کہیے لوح دل پر تھا یہی نقش وفا ...

مزید پڑھیے

دل کے بھولے ہوئے افسانے بہت یاد آئے

دل کے بھولے ہوئے افسانے بہت یاد آئے زندگی تیرے صنم خانے بہت یاد آئے کوزۂ دل کی طرح پہلے انہیں توڑ دیا اب وہ ٹوٹے ہوئے پیمانے بہت یاد آئے وہ جو غیروں کی صلیبوں کو اٹھا لائے تھے خود مسیحا کو وہ دیوانے بہت یاد آئے جسم و جاں کے یہ صنم زاد الٰہی توبہ دل کے اجڑے ہوئے بت خانے بہت یاد ...

مزید پڑھیے
صفحہ 439 سے 4657