شاعری

کہہ ڈالے غزلوں نظموں میں افسانے کیا کیا

کہہ ڈالے غزلوں نظموں میں افسانے کیا کیا دل میں پھر بھی دھڑکتا رہتا ہے جانے کیا کیا داغ کو چاند آنسو کو موتی زخم کو پھول کہیں ہم کو بھی انداز سکھائے دنیا نے کیا کیا چاند ایسے چہروں والے ہیں چاند اتنے ہی دور جن کے سپنے دیکھتے ہیں ہم دیوانے کیا کیا سوکھے لب پھیکے رخسار اور الجھے ...

مزید پڑھیے

ہم سے پہلے تو کہیں پیار نہ تھا شہر بہ شہر

ہم سے پہلے تو کہیں پیار نہ تھا شہر بہ شہر اپنے ہم راہ یہ سیلاب گیا شہر بہ شہر ایسے بدنام ہوئیں اپنی مہکتی غزلیں جیسے آوارگیٔ موج صبا شہر بہ شہر لوگ کیا کیا نہ گئے توڑ کے پیمان وفا دل کی دھڑکن نے مگر ساتھ دیا شہر بہ شہر ہم کہ معصومؔ ہیں دیہات کے رہنے والے ڈھونڈتے پھرتے ہیں کیا ...

مزید پڑھیے

دلوں پہ زخم لگا کے ہزار گزری بہار

دلوں پہ زخم لگا کے ہزار گزری بہار گئی ہے چھوڑ کے اک یادگار گزری بہار مرے قریب جو کوئی گل بدن مہکا تو آئی یاد کوئی خوش گوار گزری بہار کسی طرح مجھے پاگل نہ کر سکی ورنہ ترے بغیر بھی آئی بہار گزری بہار ہر ایک سرو رواں پر گماں کہ جیسے وہی ہو میرا ماضی مری یادگار گزری بہار مرے نصیب ...

مزید پڑھیے

لگتی ہیں گالی بلڈنگیں

لگتی ہیں گالی بلڈنگیں ساری خیالی بلڈنگیں تم بھی نہ ٹھہرو گے یہاں کہتی ہیں خالی بلڈنگیں میرا پتہ آسیب جاں جن بھوت والی بلڈنگیں سڑکوں پہ سو جاتا ہوں میں منحوس کالی بلڈنگیں چلتی ہوا کے سامنے ٹھہریں مثالی بلڈنگیں

مزید پڑھیے

خون کی ہر بوند پتھر ہو چکی

خون کی ہر بوند پتھر ہو چکی زندگی خطرے سے باہر ہو چکی آندھیوں کی زد پہ اے ریگ رواں بے گھری تیرا مقدر ہو چکی میں نکل آیا حصار جسم سے سرد جب شعلوں کی چادر ہو چکی احتیاطوں سے بھی کچھ حاصل نہیں اب تو یہ مٹی بھی بنجر ہو چکی سایۂ عکس نوا بھی مٹ گیا دھوپ بھی مٹھی برابر ہو چکی

مزید پڑھیے

من کے برگد تلے انگاروں کی مالا بھی جپی

من کے برگد تلے انگاروں کی مالا بھی جپی مجھ سے گوتم کی طرح آگ میں چمپا نہ کھلی رات تنہائی نے کمرے میں جو کروٹ بدلی نیند آنکھوں کو کسی سانپ کے پھن جیسی لگی میرے ہی سانس سے میرے ہی بدن کی چادر کون سمجھائے کسے آئے یقیں کیسے جلی اس بھرے شہر میں اپنایا کسی نے نہ جسے میں نے دیکھا تو ...

مزید پڑھیے

اب کوئی دوست تو ایسا بھی بنایا جائے

اب کوئی دوست تو ایسا بھی بنایا جائے جس کو ہر رنج و مصیبت میں بلایا جائے توڑ ڈالے ہیں زمانے سے مراسم سارے حال دل کس سے کہیں کس کو سنایا جائے میں نے کرنی ہے ستاروں سے کوئی راز کی بات ابھی کچھ اور مرے قد کو بڑھایا جائے جس کی فطرت میں ہو بس ایک خدا کی پوجا ایسی مٹی سے کوئی بت نہ ...

مزید پڑھیے

عجب نہیں کہ زمیں پاؤں سے سرک جائے (ردیف .. ن)

عجب نہیں کہ زمیں پاؤں سے سرک جائے ہمارے سر پہ کئی دن سے آسماں بھی نہیں شریف رہ کے گزاری گئی جوانی کا اگرچہ فائدہ کم ہے مگر زیاں بھی نہیں اسے قریب سے دیکھے ہوئے زمانہ ہوا سنا ہے دیکھنے والوں سے اب جواں بھی نہیں میں کوئی دیر کو آیا ہوں اس خرابے میں مری نشست نہیں ہے مرا مکاں بھی ...

مزید پڑھیے

اسیر عشق ہوں درد نہاں سونے نہیں دیتا

اسیر عشق ہوں درد نہاں سونے نہیں دیتا مجھے ڈستی ہے تنہائی مکاں سونے نہیں دیتا جو بخشے تھے بہاروں نے ابھی وہ زخم تازہ ہیں کہ بوئے گل طلسم گلستاں سونے نہیں دیتا مجھے آفاق کی سب منزلیں تسخیر کرنی ہیں یہی جوش جنوں عزم جواں سونے نہیں دیتا نہ وہ سوچوں سے اترے گا نہ آنکھیں چین پائیں ...

مزید پڑھیے

موت ہے اور موت کے خدشات ہیں

موت ہے اور موت کے خدشات ہیں سنسنی ہے ان دکھے خدشات ہیں خوف پھیلا ہے وبا کے روپ میں قریہ قریہ پل رہے خدشات ہیں گر کوئی تریاق ہے وہ ہے یقیں زہر کی صورت لیے خدشات ہیں اس صدی کے آدمی تو ہیں خدا تو نے ہی پیدا کیے خدشات ہیں دائرہ در دائرہ تشکیک ہے بے طرح پھیلے ہوئے خدشات ہیں تجھ میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4378 سے 4657