شاعری

کیا کسی بات کی سزا ہے مجھے

کیا کسی بات کی سزا ہے مجھے راستہ پھر بلا رہا ہے مجھے زندہ رہنے کی مجھ کو عادت ہے روز مرنے کا تجربہ ہے مجھے اتنا گم ہوں کے اب مرا سایا میرے اندر بھی ڈھونڈتا ہے مجھے چاند کو دیکھ کر یوں لگتا ہے چاند سے کوئی دیکھتا ہے مجھے پہلے تو جستجو تھی منزل کی اب کوئی کام دوسرا ہے مجھے یے ...

مزید پڑھیے

تنہا تنہا سہمی سہمی خاموشی

تنہا تنہا سہمی سہمی خاموشی جیسی ہیں آوازیں ویسی خاموشی تنہائی میں چونکا دیتی ہے اکثر سناٹے سے باتیں کرتی خاموشی بے مقصد محفل سے بہتر تنہائی بے مطلب باتوں سے اچھی خاموشی دو آوازے ہم راہی اک رستہ کی اور دونوں کے بیچ میں چلتی خاموشی چپکے چپکے گھر کو ڈستی رہتی ہے دروازے کی ...

مزید پڑھیے

کبھی جو مل نہ سکی اس خوشی کا حاصل ہے

کبھی جو مل نہ سکی اس خوشی کا حاصل ہے یہ درد ہی تو مری زندگی کا حاصل ہے میں اپنے آپ سے پیچھا نہیں چھڑا پایا مرا وجود مری بے بسی کا حاصل ہے یہ تیرگی بھی کسی روشنی سے نکلی ہے یہ روشنی بھی کسی تیرگی کا حاصل ہے ہزار کاوشیں کیں پر نہیں سمجھ پایا کوئی بتائے تو کیا آدمی کا حاصل ہے مرا ...

مزید پڑھیے

رات بھر رونے کا دن تھا

رات بھر رونے کا دن تھا پھر جدا ہونے کا دن تھا فصل گل آنے کہ شب تھی خوشبوئیں بونے کا دن تھا تشنگی پینے کہ شب تھی آب جو ہونے کا دن تھا گفتگو کرنے کہ شب تھی خامشی ڈھونے کا دن تھا قافلہ چلنے کہ شب تھی حادثہ ہونے کا دن تھا رات کے جنگل سے آگے چین سے سونے کا دن تھا

مزید پڑھیے

رات اک حادثہ ہوا مجھ میں

رات اک حادثہ ہوا مجھ میں ایک دروازہ سا کھلا مجھ میں میرے اندر چراغ جلتے ہیں رقص کرتی ہے اک ہوا مجھ میں پھر سے آکار لے رہا ہے کہیں ایک چہرہ نیا نیا مجھ میں مجھ کو یہ کام خود ہی کرنا تھا عمر بھر کون جاگتا مجھ میں اب بھی سینہ جلا رہا ہے مرا ایک سورج بجھا ہوا مجھ میں جانے وہ کون ہے ...

مزید پڑھیے

قلب کی بنجر زمیں پر خواہشیں بوتے ہوئے

قلب کی بنجر زمیں پر خواہشیں بوتے ہوئے خود کو اکثر دیکھتا ہوں خواب میں روتے ہوئے دشت ویراں کا سفر ہے اور نظر کے سامنے معجزے در معجزے در معجزے ہوتے ہوئے گامزن ہیں ہم مسلسل اجنبی منزل کی اور زندگی کی آرزو میں زندگی کھوتے ہوئے کل مرے ہم زاد نے مجھ سے کیا دل کش سوال کس کو دیتا ہوں ...

مزید پڑھیے

کوئی نہ ڈوبے میں یوں سہارے بنا رہا ہوں

کوئی نہ ڈوبے میں یوں سہارے بنا رہا ہوں جہاں بھنور ہے وہیں کنارے بنا رہا ہوں یہ غزلیں سن کے تو اپنے اوپر غرور مت کر میں واہ واہ ہی کو استعارے بنا رہا ہوں یہ میں ہی کہتا تھا پھول مت توڑ پر یہ گجرے میں اس کے غصے کے ڈر کے مارے بنا رہا ہوں سوا ہمارے کوئی نہ سمجھے ہماری باتیں یوں گفتگو ...

مزید پڑھیے

دشمنوں کی کبھی فہرست بڑھاتا نہیں میں

دشمنوں کی کبھی فہرست بڑھاتا نہیں میں عشق کس سے ہے کسی کو بھی بتاتا نہیں میں اس نے اس طرح پکارا کہ پلٹنا ہی پڑا ورنہ اک بار چلا جاؤں تو آتا نہیں میں تیری قسمت کہ تو اس دل میں رہا کرتا ہے یہ وہ مسند ہے جہاں سب کو بٹھاتا نہیں میں میرے صیاد مجھے اب تو رہا مت کرنا تیرے دانے کے سوا کچھ ...

مزید پڑھیے

یہاں پہ ڈھونڈے سے بھی فرشتے نہیں ملیں گے

یہاں پہ ڈھونڈے سے بھی فرشتے نہیں ملیں گے زمیں ہے صاحب یہاں تو اہل زمیں ملیں گے پریشاں مت ہو کہ یار ٹیڑھی لکیریں ہیں ہم کہاں کا تو کچھ پتا نہیں پر کہیں ملیں گے کچھ ایسے غم ہیں جو دل میں ہرگز نہیں ٹھہرتے مکان ہوتے ہوئے سڑک پر مکیں ملیں گے زمیں پہ ملنے نہ دیں گے ہم کو زمانے ...

مزید پڑھیے

خزاں میں سوکھ بھی سکتی ہے پھلواری ہماری

خزاں میں سوکھ بھی سکتی ہے پھلواری ہماری سخن کاری میں دیکھے کوئی گلکاری ہماری اک ایسی صنف پہ مبنی ہے فن کاری ہماری چھپانے سے نہیں چھپتی ہے دل داری ہماری نہیں ملتے جو ہم ان سے بھی ملنا چاہتے ہیں بہت رسوا کراتی ہے ملن ساری ہماری تمہارے آنے کے امکاں نظر آتے ہیں ہم کو زیادہ کھل رہی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4377 سے 4657