شاعری

محسوس کر رہا ہوں تجھے خوشبوؤں سے میں

محسوس کر رہا ہوں تجھے خوشبوؤں سے میں آواز دے رہا ہوں بڑے فاصلوں سے میں مجھ کو مرے وجود سے کوئی نکال دے تنگ آ چکا ہوں روز کے ان حادثوں سے میں یہ اور بات تجھ کو نہیں پا سکا مگر آیا ترے قریب کئی راستوں سے میں طے ہو سکے گا مجھ سے نہ یہ ذات کا سفر مانوس ہو نہ پاؤں گا تنہائیوں سے ...

مزید پڑھیے

وہ خواب سا پیکر ہے گل تر کی طرح ہے

وہ خواب سا پیکر ہے گل تر کی طرح ہے آنکھوں میں گئی شام کے منظر کی طرح ہے احساس دلاتی ہے یہ پھیلی ہوئی خوشبو اس گھر کی محبت بھی مرے گھر کی طرح ہے میں آئینہ جیسا ہوں کوئی توڑ نہ ڈالے ہر شخص مری راہ میں پتھر کی طرح ہے اک میں ہوں کہ لہروں کی طرح چین نہیں ہے اک وہ ہے کہ خاموش سمندر کی ...

مزید پڑھیے

پیار کیا تھا تم سے میں نے اب احسان جتانا کیا

پیار کیا تھا تم سے میں نے اب احسان جتانا کیا خواب ہوئیں وہ پیار کی باتیں باتوں کو دہرانا کیا راہ وفا ہے ہم سفرو پر عزم رہو ہاں تیز چلو چار قدم پہ منزل ہے اب راہ سے واپس جانا کیا سنگ زنی و طعنہ زنی اس دور کا شیوہ ہے یارو اپنے دل میں کھوٹ نہیں جب دنیا سے گھبرانا کیا مے خانے میں دور ...

مزید پڑھیے

ہر قدم پر میرے ارمانوں کا خوں

ہر قدم پر میرے ارمانوں کا خوں زندگی تیرا کہاں تک ساتھ دوں آندھیوں کی زد میں ہے میرا وجود اور میں دیوار کی تصویر ہوں کون ہو تم اور کہاں سے آئے ہو سوچتا ہوں اپنے سائے سے کہوں رنگ کی دنیا سے میں اکتا گیا پھول رت میں زہر پی کر سو رہوں چاہتا ہوں تم کو خوشبو کی طرح اب کہ میں آواز ہی ...

مزید پڑھیے

رقص شرر کیا اب کے وحشت ناک ہوا

رقص شرر کیا اب کے وحشت ناک ہوا جلتے جلتے سب کچھ جل کر خاک ہوا سب کو اپنی اپنی پڑی تھی پوچھتے کیا کون وہاں بچ نکلا کون ہلاک ہوا موسم گل سے فصل خزاں کی دوری کیا آنکھ جھپکتے سارا قصہ پاک ہوا کن رنگوں اس صورت کی تعبیر کروں خواب ندی میں اک شعلہ پیراک ہوا ناداں کو آئینہ ہی عیار ...

مزید پڑھیے

ان آنکھوں میں رنگ مے نہیں ہے

ان آنکھوں میں رنگ مے نہیں ہے کچھ اور ہے یہ وہ شے نہیں ہے کشتی تو رواں ہے کب سے شب کی کس گھاٹ لگے گی طے نہیں ہے کیا دل میں بساؤں تیری صورت آئینے میں عکس ہے نہیں ہے دامن کو ذرا جھٹک تو دیکھو دنیا ہے کچھ اور شے نہیں ہے آہنگ سکوت دم بہ دم سن یہ ساز نفس ہے نے نہیں ہے

مزید پڑھیے

نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا

نہیں آسماں تری چال میں نہیں آؤں گا میں پلٹ کے اب کسی حال میں نہیں آؤں گا مری ابتدا مری انتہا کہیں اور ہے میں شمارۂ مہ و سال میں نہیں آؤں گا ابھی اک عذاب سے ہے سفر اک عذاب تک ابھی رنگ شام زوال میں نہیں آؤں گا وہی حالتیں وہی صورتیں ہیں نگاہ میں کسی اور صورت حال میں نہیں آؤں ...

مزید پڑھیے

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے

سر بسر پیکر اظہار میں لاتا ہے مجھے اور پھر خود ہی تہ خاک چھپاتا ہے مجھے کب سے سنتا ہوں وہی ایک صدائے خاموش کوئی تو ہے جو بلندی سے بلاتا ہے مجھے رات آنکھوں میں مری گرد سیہ ڈال کے وہ فرش بے خوابئ وحشت پہ سلاتا ہے مجھے گم شدہ میں ہوں تو ہر سمت بھی گم ہے مجھ میں دیکھتا ہوں وہ کدھر ...

مزید پڑھیے

فیروزی تسبیح کا گھیرا ہاتھ میں جلوہ افگن تھا

فیروزی تسبیح کا گھیرا ہاتھ میں جلوہ افگن تھا نارنجی شمعوں سے حجرہ خیر کی شب میں روشن تھا راہ رووں نے دشت سفر میں ہر امید سنواری تھی رنج کی راہ پہ چلنے والوں کا ہر خواب مزین تھا رات ہوئی ہے خیمہ تو ناقہ سے اتارا جائے گا دیپ کہاں رکھا ہے جس میں کچھ زیتون کا روغن تھا رنگوں کی یہ ...

مزید پڑھیے

جشن مناؤ رونے والے گریہ بھول کے مست رہیں

جشن مناؤ رونے والے گریہ بھول کے مست رہیں سارنگی کے تیر سماعت میں امشب پیوست رہیں ایرانی غالیچے کے چو گرد نشستیں قائم ہوں کافوری شمعوں سے روشن پیہم اہل ہست رہیں کسوایا جائے گھوڑوں سے لکڑی کے پہیوں کا رتھ طبل علم اسوار پیادے سارے بندوبست رہیں رنگ سپید و سیاہ سنہری سب شکلوں میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4379 سے 4657