شاعری

مرے لبوں پہ تو برسوں سے اک صدا بھی نہیں

مرے لبوں پہ تو برسوں سے اک صدا بھی نہیں یہ کیسی چیخ تھی گھر میں تو دوسرا بھی نہیں تری کتاب میں رکھی تھی تتلیاں جس نے وہ میں ہی تھا یہ بتانے کا حوصلہ بھی نہیں وہ احتیاط سے خود کو سنبھالے رکھتا ہے میں ٹوٹ پھوٹ گیا اس کو کچھ ہوا بھی نہیں ذرا سی بات پہ خنجر نکال لیتا ہے کسی کو عشق ...

مزید پڑھیے

اپنی ہی آواز کے قد کے برابر ہو گیا

اپنی ہی آواز کے قد کے برابر ہو گیا مرتبہ انساں کا پھر بالا و برتر ہو گیا دل میں در آیا تو مثل گل معطر ہو گیا میرے شعروں کا سراپا جس کا پیکر ہو گیا ڈھلتے سورج نے دیا ہے کتنی یادوں کو فروغ چاند یوں ابھرا کہ ہر ذرہ اجاگر ہو گیا اب تو اپنے جسم کے سائے سے بھی لگتا ہے ڈر گھر سے باہر بھی ...

مزید پڑھیے

ذہن کا سفر تنہا دل کی رہ گزر تنہا

ذہن کا سفر تنہا دل کی رہ گزر تنہا آدمی ہوا یارو آج کس قدر تنہا مقتدر سہاروں کی ہر قدم پہ حاجت ہے کب مقام پاتا ہے اپنا یہ ہنر تنہا پھر مجھے ڈرائیں گی خامشی کی آوازیں پھر مجھے ہے طے کرنا رات کا سفر تنہا جس کے سائے نے ہم کو بارہا پناہیں دیں آج بھی کھڑا ہے وہ راہ میں شجر تنہا دور بے ...

مزید پڑھیے

مآل سوز طلب تھا دل تپاں معلوم

مآل سوز طلب تھا دل تپاں معلوم ستم کی آگ بھی ہونے لگی دھواں معلوم شکستہ پا بھی پہنچ ہی گئے سر منزل نہ راستے کی خبر تھی نہ کارواں معلوم شمیم دوست بڑھاتی ہے زندگی لیکن ہمیں حقیقت ہستی ابھی کہاں معلوم نہ جانے فتنہ گروں نے لگائی تھی کب آگ ہمیں تو آنچ ہوئی اس کی ناگہاں معلوم گزر ...

مزید پڑھیے

جدھر سے وادیٔ حیرت میں ہم گزرتے ہیں

جدھر سے وادیٔ حیرت میں ہم گزرتے ہیں ادھر تو اہل تمنا بھی کم گزرتے ہیں ترے حضور جو انفاس غم گزرتے ہیں عجب حیات کے عالم سے ہم گزرتے ہیں رواں ہے برق کا شعلہ سحاب رحمت میں نقاب ڈال کے اہل ستم گزرتے ہیں حیات روک رہی ہے کوئی قدم نہ بڑھائے کہ آج منزل ہستی سے ہم گزرتے ہیں للک بڑھا کے ...

مزید پڑھیے

تجھے اپنا بنانا چاہتا ہوں

تجھے اپنا بنانا چاہتا ہوں مگر خود کو بھی پانا چاہتا ہوں تمہاری یاد کو دل میں بسا کر میں سب کچھ بھول جانا چاہتا ہوں ذرا میری طرف بھی ہو توجہ میں حال دل سنانا چاہتا ہوں جو ہر انسان کو سرشار کر دے میں ایسا گیت گانا چاہتا ہوں میں ٹھکرا کر جہاں کی ساری دولت فقط اب تجھ کو پانا چاہتا ...

مزید پڑھیے

لہو لہان سا منظر ہماری آنکھ میں ہے

لہو لہان سا منظر ہماری آنکھ میں ہے ہمارا جلتا ہوا گھر ہماری آنکھ میں ہے فساد میں جو تباہی ہوئی ہمارے یہاں اسی کا آج بھی اک ڈر ہماری آنکھ میں ہے ہماری سمت اچھالا گیا تھا جو اک دن لہو سے سرخ وہ پتھر ہماری آنکھ میں ہے نظام ہند کا بگڑا ہے جب سے اے احسنؔ تبھی سے سرخ سمندر ہماری آنکھ ...

مزید پڑھیے

خوف جاں آس پاس رہتا ہے

خوف جاں آس پاس رہتا ہے دل یوں ہی کب اداس رہتا ہے دیکھ کر اب لہو کی ارزانی ہر کوئی بد حواس رہتا ہے سارے انساں بچھڑ گئے تو کیا میرا غم میرے پاس رہتا ہے جب سے دل کو دیئے ہیں اس نے زخم کرب و غم آس پاس رہتا ہے آدمی جا بسے گا سورج پر ایسا بھی کیا قیاس رہتا ہے خوف دریا اسے نہیں ہوتا جو ...

مزید پڑھیے

عجیب کرب سا ہے زندگی کے چہرے پر

عجیب کرب سا ہے زندگی کے چہرے پر اندھیرا جیسے کسی روشنی کے چہرے پر یقین کیسے کروں میں تمہاری باتوں کا کہ قطرے اشک کے ہیں شعلگی کے چہرے پر چھپا ملا مجھے غم کی سیاہ راتوں میں جسے میں ڈھونڈ رہا ہوں خوشی کے چہرے پر زمانے بھر میں ہوئے حادثے جو روز و شب نمایاں ہیں وہ مری شاعری کے چہرے ...

مزید پڑھیے

بے چین دل ہے پھر بھی چہرے پہ دل کشی ہے

بے چین دل ہے پھر بھی چہرے پہ دل کشی ہے مفلس کی زندگی میں جو کچھ ہے قدرتی ہے احساس کا پرندہ جاگا ہے میرے اندر اس کی عطا سے خوش ہوں دل محو بندگی ہے صحراؤں سے تو پیاسے لوٹے نہیں کبھی ہم دریا کے بیچ میں ہیں تو پیاس لگ رہی ہے ہم سوچتے ہیں اکثر کیوں حشر سا ہے برپا جذبوں میں ہے طراوت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4366 سے 4657