شاعری

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو

شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں اک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو دروازہ بھی جیسے مری دھڑکن سے جڑا ہے دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو اک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں اک شام کے ہونے کا ...

مزید پڑھیے

کالی رات کے صحراؤں میں نور سپارا لکھا تھا

کالی رات کے صحراؤں میں نور سپارا لکھا تھا جس نے شہر کی دیواروں پر پہلا نعرہ لکھا تھا لاش کے ننھے ہاتھ میں بستہ اور اک کھٹی گولی تھی خون میں ڈوبی اک تختی پر غین غبارہ لکھا تھا آخر ہم ہی مجرم ٹھہرے جانے کن کن جرموں کے فرد عمل تھی جانے کس کی نام ہمارا لکھا تھا سب نے مانا مرنے والا ...

مزید پڑھیے

دل اب اس شہر میں جانے کو مچلتا بھی نہیں (ردیف .. ا)

دل اب اس شہر میں جانے کو مچلتا بھی نہیں کیا ضروری ہے ضرورت سے الگ ہو جانا عین ممکن ہے سمجھ تم کو نہ آؤں اس سال تم یہی کرنا کہ عجلت سے الگ ہو جانا یہ کہیں چھین نہ لے صبر کی دولت تم سے دل دھواں کرتی قیامت سے الگ ہو جانا وہ تمہیں بھول کے پاگل بھی تو ہو سکتا ہے دیکھ کر وقت سہولت سے الگ ...

مزید پڑھیے

پہلے کچھ دن وفا ہوا تھا کوئی

پہلے کچھ دن وفا ہوا تھا کوئی پھر مسلسل سزا ہوا تھا کوئی اب تو ظلمت بدست پھرتے ہیں کوئی دن تھے ضیا ہوا تھا کوئی کیا یہی بات کر رہے ہیں آپ کبھی عہد وفا ہوا تھا کوئی اب جدائی کی راہ پڑتی ہے بس یہیں تک دعا ہوا تھا کوئی دھند میں بس گئے تھے سب منظر بس اچانک خفا ہوا تھا کوئی برق گرتی ...

مزید پڑھیے

نہ اب وہ پہلی سی طرز گریہ نہ شام غم کی ہما ہمی ہے (ردیف .. ن)

نہ اب وہ پہلی سی طرز گریہ نہ شام غم کی ہما ہمی ہے بے اشک آنکھوں کے رتجگوں میں خیال سارے بجھے ہوئے ہیں سنہری گھڑیوں کا لمس تھا وہ مرے تکلم کے بانکپن میں مگر یہ عالم ہے اب کہ الفاظ ابر غم میں گھرے ہوئے ہیں تمہارے در کو ہی تکتے رہنا مچلتے جذبوں کی شوخیوں میں مگر اب اس چشم ناتواں میں ...

مزید پڑھیے

وحشت کے تلون میں گزری کہ گزار آئے

وحشت کے تلون میں گزری کہ گزار آئے اک عہد بجھا آئے اک عمر کو ہار آئے تم لوگ بھی کیا سمجھو تم لوگ بھی کیا جانو کس خواب اثاثے کو مٹی میں اتار آئے وہ رنگ جو بھیجے تھے اس چشم فسوں گر کو وہ رنگ وہیں اپنی تابانی کو وار آئے اب آبلہ پائی ہے لمحوں کی گرانی ہے خوش باش گئے تھے جو وہ سینہ فگار ...

مزید پڑھیے

بند آنکھوں میں پگھلتی ہوئی اک نظم کے روگ (ردیف .. ن)

بند آنکھوں میں پگھلتی ہوئی اک نظم کے روگ اور مصرعوں میں چھپے درد ہمیں جانتے ہیں یوں گلے ملتے ہیں بچھڑا ہوا جیسے مل جائے تیرے کوچے میں پلے درد ہمیں جانتے ہیں ہم سے شاہان محبت کا پتہ پوچھتے ہو عشق آباد کے بے درد ہمیں جانتے ہیں ایک میلہ سا لگا ہوتا ہے یار آخر شب دل کی سرحد پہ کھڑے ...

مزید پڑھیے

شام کی دھند سے اک حسن نے جھانکا تو کوئی نظم ہوئی

شام کی دھند سے اک حسن نے جھانکا تو کوئی نظم ہوئی بسکہ پھر غم وہی اک غم جو خوش آیا تو کوئی نظم ہوئی دل بے تاب محبت کی ملامت کا امیں ڈر سا گیا رہ بدلنا کبھی اس شخص نے چاہا تو کوئی نظم ہوئی کس کا سایہ تھا کڑی دھوپ میں اک اور الاؤ کا بیاں کون تھا زخم مرا مجھ کو دکھایا تو کوئی نظم ...

مزید پڑھیے

میں کہ خوددار تھا ٹھہرا نہ کسی چھاؤں تلے

میں کہ خوددار تھا ٹھہرا نہ کسی چھاؤں تلے گو کہ رستے میں ملے تھے کئی اشجار گھنے ذہن وہ شہر جہاں نت نیا ہیجان رہے دل وہ بستی کہ جہاں خواب اگیں درد پلے زندگانی یہ تری تیز روی ٹھیک نہیں کوئی چہرہ تو ذرا دیر نگاہوں میں رہے کب شب و روز کے ہنگام نے مہلت بخشی میں نے دوران سفر ہی نئے ...

مزید پڑھیے

آتے جاتے ہوئے ہر شخص کو تکتے کیوں ہو

آتے جاتے ہوئے ہر شخص کو تکتے کیوں ہو گنجلک ہیں سبھی تحریریں تو پڑھتے کیوں ہو صرف سناٹا وہاں راہ تکا کرتا ہے بے سبب شام سے ہی گھر کو پلٹتے کیوں ہو یہ نہیں گاؤں کہ ہر شخص خلوص آگیں ہو شہر میں رہ کے بناوٹ سے بدکتے کیوں ہو

مزید پڑھیے
صفحہ 4363 سے 4657