شاعری

اپنے اجداد کی خو بو آئے

اپنے اجداد کی خو بو آئے کاش بچوں کو بھی اردو آئے ہم چمن میں ہیں تو یہ خواہش ہے اپنے حصے میں بھی خوشبو آئے یاد آئی جو کسی کی تو لگا دست احساس میں جگنو آئے بات نکلی تو گئی دور تلک گفتگو میں کئی پہلو آئے سب ہیں انسان تو پھر ذہنوں میں کیوں یہ تفریق من و تو آئے خشک آنکھوں میں بڑی ...

مزید پڑھیے

شکستہ دل تھا پر ایسا نہیں تھا

شکستہ دل تھا پر ایسا نہیں تھا میں اپنے آپ میں سمٹا نہیں تھا درختوں کے گھنے سائے میں رہ کر چمکتی دھوپ کو بھولا نہیں تھا در و دیوار میرے منتظر تھے مگر میں لوٹ کر آیا نہیں تھا بہت سے لوگ مجھ سے ملتفت تھے کسی کی سمت میں لپکا نہیں تھا دبے پاؤں وہی در آیا دل میں کہ جس کا دور تک کھٹکا ...

مزید پڑھیے

بدن کو چنگ بنا روح کو رباب بنا

بدن کو چنگ بنا روح کو رباب بنا سراپا اپنا بہت کیف اضطراب بنا اک اشتہار کی صورت میں پڑھ کے آگے نکل نہ اپنے واسطے ہر شخص کو کتاب بنا مرے سوالوں کو سن لے یہی بہت ہوگا جواب دے کے مجھے یوں نہ لا جواب بنا فسردہ رہ کے ہمہ وقت کیا ملے گا تجھے کبھی کبھار تو چہرے کو تو گلاب بنا ضمیر پر جو ...

مزید پڑھیے

دھواں اٹھ رہا ہے جو باہر میاں

دھواں اٹھ رہا ہے جو باہر میاں سلگتا ہے کچھ اپنے اندر میاں میں خود تو بھٹکنے کا قائل نہیں گھماتا پھرے ہے مقدر میاں گماں بیٹھے بیٹھے یہ اکثر ہوا گیا ہے ابھی کوئی اٹھ کر میاں یہ مانا کہ دیوار و در ہیں وہی مگر اب یہ لگتا نہیں گھر میاں مرے رخ پہ تحریر کیا کچھ نہیں کبھی کوئی دیکھے ...

مزید پڑھیے

کوئی آہٹ کوئی دستک کوئی جھنکار تو ہو

کوئی آہٹ کوئی دستک کوئی جھنکار تو ہو اس کی جانب سے کسی بات کا اظہار تو ہو بخل سے کام نہ لوں گا میں سراہوں گا اسے کوئی چہرہ ترے مانند طرحدار تو ہو زخم سہہ لوں گا منڈیروں پہ لگے شیشوں کے کوئی شے دید کے قابل پس دیوار تو ہو چند لمحوں کی مسافت ہو کہ برسوں کا سفر کیف پرور ہیں سبھی سنگ ...

مزید پڑھیے

شیشے شیشے کو پیوست جاں مت کرو

شیشے شیشے کو پیوست جاں مت کرو چند تنکوں کو اتنا گراں مت کرو روشنی جس جگہ جھانکتی بھی نہیں اس اندھیرے کو تم آسماں مت کرو ایک کمرے میں رہنا ہے سب کو یہاں گیلے پتے جلا کر دھواں مت کرو دشمنی تو ہواؤں میں موجود ہے کوئی زحمت پئے دوستاں مت کرو کیا پتہ کس کے دامن تلے آگ ہے سب کے چہروں ...

مزید پڑھیے

گھر گھر آپس میں دشمنی بھی ہے

گھر گھر آپس میں دشمنی بھی ہے بس کھچا کھچ بھری ہوئی بھی ہے ایک لمحے کے واسطے ہی سہی کالے بادل میں روشنی بھی ہے نیند کو لوگ موت کہتے ہیں خواب کا نام زندگی بھی ہے راستہ کاٹنا ہنر تیرا ورنہ آواز ٹوٹتی بھی ہے خوبیوں سے ہے پاک میری ذات میرے عیبوں میں شاعری بھی ہے

مزید پڑھیے

کاغذ کی ناؤ ہوں جسے تنکا ڈبو سکے

کاغذ کی ناؤ ہوں جسے تنکا ڈبو سکے یوں بھی نہیں کہ آپ سے یہ بھی نہ ہو سکے برسات تھم چکی ہے مگر ہر شجر کے پاس اتنا تو ہے کہ آپ کا دامن بھگو سکے اے چیختی ہواؤ کے سیلاب شکریہ اتنا تو ہو کہ آدمی سولی پہ سو سکے دریا پہ بند باندھ کر روکو جگہ جگہ ایسا نہ ہو کہ آدمی جی بھر کے رو سکے ہلکی سی ...

مزید پڑھیے

یہ کس کرنی کا پھل ہوگا کیسی رت میں جاگے ہم

یہ کس کرنی کا پھل ہوگا کیسی رت میں جاگے ہم تیز نکیلی تلواروں کے بیچ میں کچے دھاگے ہم ٹہنی ٹہنی جھول رہی ہیں لاشیں زندہ پتوں کی کیا اس نظارے کی خاطر جنگل جنگل بھاگے ہم جلتی دھوپیں پیاسا پنچھی نہر کنارے اترے گا جب بھی کوئی زخم دکھا ہے انگ پیا کے لاگے ہم اپنی ہی پہچان نہیں تو سائے ...

مزید پڑھیے

جہاں شیشہ ہے پتھر جاگتے ہیں

جہاں شیشہ ہے پتھر جاگتے ہیں ضرر ایجاد گھر گھر جاگتے ہیں صدف آسودگی کی نیند سوئے مگر پیاسے سمندر جاگتے ہیں اڑی افواہ اندھی بستیوں میں ستاروں سے مقدر جاگتے ہیں لٹیروں کے لیے سوتی ہیں آنکھیں مگر ہم اپنے اندر جاگتے ہیں اندھیروں میں کھنڈر سوتا پڑا ہے ابابیلوں کے لشکر جاگتے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4364 سے 4657