شاعری

نہ پلکیں جھکاؤ نہ نظریں چراؤ

نہ پلکیں جھکاؤ نہ نظریں چراؤ نگاہوں سے میری نگاہیں ملاؤ اشاروں اشاروں میں کیا کہہ رہے ہو لبوں کو دو جنبش زباں تو ہلاؤ ستم کر رہی ہیں یہ ان کی ادائیں مرے رب حسینوں سے ہم کو بچاؤ غم زندگی زندگی بھر رہے گا اسے بھول کر تم ذرا مسکراؤ جو پہلے ہوا تھا وہی ہو رہا ہے سیاست کہ خاطر ہمیں ...

مزید پڑھیے

ایسے ہی نہیں اتنی یہ شوقین ہوئی ہے

ایسے ہی نہیں اتنی یہ شوقین ہوئی ہے تحریر مری خون سے رنگین ہوئی ہے اے عقل گنہ گار تری بات میں آ کر شہر دل جذبات کی توہین ہوئی ہے گزرے گی قیامت ابھی اک سمت گماں سے آنکھوں کو کھلا رکھنے کی تلقین ہوئی ہے اس شہر دل آزار کے ہر کوچے گلی میں خوابوں کی بڑی دھوم سے تدفین ہوئی ہے اٹھتا ہے ...

مزید پڑھیے

وحشت دل مری کشکول گدائی مانگے

وحشت دل مری کشکول گدائی مانگے جسم کی قید سے تدبیر رہائی مانگے کتنی حساس عدالت ہے مرے ملک تری جو کہ مظلوم سے آہوں کی صفائی مانگے ایک قطرہ نہ پلائیں کبھی دیدار کا جو دل مرا ایسے حسینوں سے دہائی مانگے کیا میں دوں گا اسے رسوائی و ذلت کے سوا باپ میرا کبھی میری جو کمائی مانگے ابھی ...

مزید پڑھیے

احسان ایک مجھ پہ یہ کر جانا چاہئے

احسان ایک مجھ پہ یہ کر جانا چاہئے ان کو محبتوں سے مکر جانا چاہئے عاشق کوئی ستم یہ بھلا کب تلک سہے زلفوں کو خود بخود ہی سنور جانا چاہئے دیکھو زمانہ پہلے سے کتنا بدل گیا اب زاہدو تمہیں بھی سدھر جانا چاہئے لشکر تمام مد مقابل میں ایک کے دشمن کو میرے شرم سے مر جانا چاہئے ہجرت سہی ...

مزید پڑھیے

ستم شعار زمانے پہ خوف طاری رکھ

ستم شعار زمانے پہ خوف طاری رکھ ملے تو جب بھی شریفوں سے انکساری رکھ تجھے ملے گا ترا مدعا ضرور اک دن مگر ہے شرط مسلسل تلاش جاری رکھ یہ تیرا حسن کہیں حادثہ نہ بن جائے ستم ظریف زمانے سے ہوشیاری رکھ سفر پہ کب تجھے جانا پڑے یہ کیا معلوم جو کام وقت پہ آئے وہی سواری رکھ تجھے وقار ...

مزید پڑھیے

زمانے کے ہمیں دستور اپنانے بھی ہوتے ہیں

زمانے کے ہمیں دستور اپنانے بھی ہوتے ہیں مسائل ہوں اگر الجھے تو سلجھانے بھی ہوتے ہیں خوشی ملتی ہے جن کو ان کو غم پانے بھی ہوتے ہیں جو پاتے ہیں عروج ان پر زوال آنے بھی ہوتے ہیں غزل گوئی سے ہم بھی ربط رکھتے ہیں اسی باعث کبھی دل دوستوں کے ہم کو بہلانے بھی ہوتے ہیں ہماری عزت و ناموس ...

مزید پڑھیے

تلاش کر مری بربادیوں کا حل بابا

تلاش کر مری بربادیوں کا حل بابا جو تو کہے گا کروں گا وہی عمل بابا طرح طرح کے یہ چولے نہ تو بدل بابا تجھے جو فیصلہ کرنا ہے کر اٹل بابا فقیر بن نہیں سکتا تو اوڑھ کر کملی خودی کو دل سے مٹا نفس کو کچل بابا نشے میں زر کے بہت پگڑیاں اچھالی ہیں ضرور تجھ کو ملے گا کیے کا پھل بابا تری ...

مزید پڑھیے

سورج ڈوبا نکلا چاند

سورج ڈوبا نکلا چاند چھت پر آیا میرا چاند عید کا سب نے دیکھا چاند ہم نے دیکھا اپنا چاند دیوانے بے تاب ہوئے جب پردے سے جھانکا چاند اس کا دشمن کوئی نہیں سب کے لئے ہے پیارا چاند عہد جوانی میں اکثر ہوتا ہے شرمیلا چاند دیکھتے ہی اس کا چہرہ بادل میں چھپ جاتا چاند آپ کے آنگن میں ...

مزید پڑھیے

جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے

جو دکھ رہا اسی کے اندر جو ان دکھا ہے وہ شاعری ہے جو کہہ سکا تھا وہ کہہ چکا ہوں جو رہ گیا ہے وہ شاعری ہے یہ شہر سارا تو روشنی میں کھلا پڑا ہے سو کیا لکھوں میں وہ دور جنگل کی جھونپڑی میں جو اک دیا ہے وہ شاعری ہے دلوں کے مابین گفتگو میں تمام باتیں اضافتیں ہیں تمہاری باتوں کا ہر توقف ...

مزید پڑھیے

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے جب اپنی اپنی محبتوں کے عذاب جھیلے تو لوگ سمجھے وہ جن درختوں کی چھاؤں میں سے مسافروں کو اٹھا دیا تھا انہیں درختوں پہ اگلے موسم جو پھل نہ اترے تو لوگ سمجھے اس ایک کچی سی عمر والی کے فلسفہ کو کوئی نہ سمجھا جب اس کے کمرے سے لاش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4362 سے 4657