شاعری

ایک وہی معمول نبھانا ہوگا پھر

ایک وہی معمول نبھانا ہوگا پھر خود کو کھو کر خود کو پانا ہوگا پھر راہ گزر تنہائی کی ہے دھیان رہے رستے میں ہی ایک زمانہ ہوگا پھر راہ بھٹک جاؤ اب کے یہ ممکن ہے پر اس جنگل میں سے جانا ہوگا پھر جن کی آسانی ہی جن کی مشکل ہے ان لفظوں کو ہی دہرانا ہوگا پھر وہ پھل دار درخت گرایا آندھی ...

مزید پڑھیے

بچھڑنے دیتی نہیں ڈھونڈھ ہی نکالتی ہے

بچھڑنے دیتی نہیں ڈھونڈھ ہی نکالتی ہے عجیب ہے نہ مجھے بے خودی سنبھالتی ہے میں کب کا ہار چکا زندگی تری بازی ہوا میں کس لئے سکہ نیا اچھالتی ہے ہوا ہے شک مری تنہائی کو مجھے لے کر الٹ پلٹ کے ہر ایک چیز کو کھنگالتی ہے جھلس نہ دیں کہیں سچائیاں اسے اک دن وہ خواب آنکھ جسے چھانو چھانو ...

مزید پڑھیے

جوڑ کر رکھی ہوئی سب پائی پائی لے اڑی

جوڑ کر رکھی ہوئی سب پائی پائی لے اڑی دنیا احساسات کی گاڑھی کمائی لے اڑی مطمئن تھے راز دل ہم میں کہیں محفوظ ہے اس کو بھی تنہائی کی پر آوا جائی لے اڑی ایک صدا آئی قفس کے پار بھی کوئی جال ہے آشیاں کی اور جب ہم کو رہائی لے اڑی سچ کی عریانی پہنتی کیوں قبا تحریر کی چھین لی مجھ سے قلم ...

مزید پڑھیے

اڑا کے پھر وہی گرد و غبار پہلے سا

اڑا کے پھر وہی گرد و غبار پہلے سا بلا رہا ہے سفر بار بار پہلے سا وہ ایک دھند تھی آخر کو چھٹ ہی جانا تھی دکھائی دینے لگا آر پار پہلے سا ندی نے راہ سمندر کی پھر وہی پکڑی صدائیں دیتا رہا ریگزار پہلے سا کہیں ڈھلان مقدر نہ ہو بلندی کا چڑھائی پھر نہ ہو اپنا اتار پہلے سا سوال کیوں نہ ...

مزید پڑھیے

دل کی گرہیں کہاں وہ کھولتا ہے

دل کی گرہیں کہاں وہ کھولتا ہے چاہتوں میں بھی جھوٹ بولتا ہے سنگ ریزوں کو اپنے ہاتھوں سے موتیوں کی طرح وہ رولتا ہے کیسا میزان عدل ہے اس کا پھول کانٹوں کے ساتھ تولتا ہے ایسا وہ ڈپلومیٹ ہے اکبرؔ زہر امرت کے ساتھ گھولتا ہے

مزید پڑھیے

ہو بہ ہو آپ ہی کی مورت ہے

ہو بہ ہو آپ ہی کی مورت ہے زندگی کتنی خوبصورت ہے جس طرح پھول کی گلستاں کو زندگی کو مری ضرورت ہے خاص مہماں ہیں آدم و حوا اک نئی دنیا کی مہورت ہے کہتی ہے کچھ زباں سے کہہ اکبرؔ اس طرح کاہے مجھ کو گھورت ہے

مزید پڑھیے

کہا تھا اس نے محبت کی آبرو رکھنا

کہا تھا اس نے محبت کی آبرو رکھنا چبھے ہوں کتنے بھی کانٹے گلوں کی خو رکھنا دلوں کو توڑ نہ ڈالے تمہاری حق گوئی بجائے حرف کے آئینہ روبرو رکھنا جو وقت اہل وفا سے کبھی لہو مانگے تو سب سے پہلے لب تیغ پر گلو رکھنا خزاں سے ہار نہ جانا کسی بھی حالت میں نمو ملے نہ ملے خواہش نمو رکھنا برا ...

مزید پڑھیے

نام اکبرؔ تو مرا ماں کی دعا نے رکھا

نام اکبرؔ تو مرا ماں کی دعا نے رکھا ہاں بھرم اس کا مگر میرے خدا نے رکھا وہ بھی دن تھا کہ ترے آنے کا پیغام آیا تب مرے گھر میں قدم باد صبا نے رکھا کس طرح لوگوں نے مانگیں تھیں دعائیں اس کی کچھ لحاظ اس کا نہ بے مہر ہوا نے رکھا ایسے حالات میں اک روز نہ جی سکتے تھے ہم کو زندہ ترے پیمان ...

مزید پڑھیے

ہنسی میں ساغر زریں کھنک کھنک جائے

ہنسی میں ساغر زریں کھنک کھنک جائے شباب اس کی صدا کا چھلک چھلک جائے دل و نظر میں بسی ہے وہ چاند سی صورت وہ دل کشی ہے کہ بالک ہمک ہمک جائے لباس میں ہے وہ طرز تپاک آرائش جو انگ چاہے چھپانا جھلک جھلک جائے قدم قدم تری رعنائیوں کے در وا ہوں روش روش ترا آنچل ڈھلک ڈھلک جائے نفس نفس ہو ...

مزید پڑھیے

اک لمحے نے جیون دھارا روک لیا

اک لمحے نے جیون دھارا روک لیا جیسے کسی قطرے نے دریا روک لیا کتنا مان گمان ہے دینے والے کو درد دیا ہے اور مداوا روک لیا دونوں عالم مل کے جس کو روکتے ہیں میں نے اس طوفان کو تنہا روک لیا کبھی کبھی تو مجھ کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے میرا حصہ روک لیا وہ تو سب کا دوست ہے میرا کیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4339 سے 4657