شاعری

حریف گردش ایام تو بنے ہوئے ہیں

حریف گردش ایام تو بنے ہوئے ہیں وہ آئیں گے نہیں آئیں گے ہم سجے ہوئے ہیں بڑا ہی خوشیوں بھرا ہنستا بستا گھر ہے مرا اسی لیے تو سبھی قمقمے جلے ہوئے ہیں وہ خود پسند ہے خود کو ہی دیکھنا چاہے سو اس کے چاروں طرف آئنے لگے ہوئے ہیں یہ کس حسیں کی سواری گزرنے والی ہے جو کائنات کے سب راستے ...

مزید پڑھیے

کہتے ہیں ہم ادھر ہیں ستارا ہے جس طرف

کہتے ہیں ہم ادھر ہیں ستارا ہے جس طرف میں جانتا ہوں ان کا اشارا ہے جس طرف سب چاہتے ہیں سطح سمندر پہ لکھے جائیں پر جاتے ہیں ادھر کو کنارا ہے جس طرف یہ کیا ضرور ہے یہاں عمریں گزار دیں اک حادثے نے ہم کو اتارا ہے جس طرف یہ آسمان آئنے کی شکل ہے کوئی ہم اس طرف ہیں اس کا نظارا ہے جس طرف

مزید پڑھیے

دیکھنے کو کوئی تیار نہیں ہے بھائی

دیکھنے کو کوئی تیار نہیں ہے بھائی دشت بھی بے در و دیوار نہیں ہے بھائی ایسا بھی صدق و صفا کا نہیں دعویٰ ہم کو زندگی شیخ کی دستار نہیں ہے بھائی پاک بازوں کی یہ بستی ہے فرشتوں کا نگر کوئی اس شہر میں مے خوار نہیں ہے بھائی عشق کرنا ہے تو چھٹی نہیں کرنی کوئی عشق میں ایک بھی اتوار نہیں ...

مزید پڑھیے

مجھے لکھو وہاں کیا ہو رہا ہے

مجھے لکھو وہاں کیا ہو رہا ہے یہاں تو پھر تماشا ہو رہا ہے ہوا کے دوش پر ہے آشیانہ پرندہ تنکا تنکا ہو رہا ہے ابھی پرواز کی فرصت ہے کس کو ابھی تو دانہ دنکا ہو رہا ہے کوئی نادیدہ انگلی اٹھ رہی ہے مری جانب اشارہ ہو رہا ہے وہ اپنے ہاتھ سیدھے کر رہے ہیں ہمارا شہر الٹا ہو رہا ہے نہ ...

مزید پڑھیے

ترا آنچل اشارے دے رہا ہے

ترا آنچل اشارے دے رہا ہے فلک روشن ستارے دے رہا ہے ہوا سہلا رہی ہے اس کے تن کو وہ شعلہ اب شرارے دے رہا ہے کھلے ہیں پھول ہر سو جیسے کوئی ترا صدقہ اتارے دے رہا ہے گزرنے والے کب تھے ہجر کے دن مگر عاشق گزارے دے رہا ہے جنوبی ایشیا کو جیسے اکبرؔ یہ دن کوئی ادھارے دے رہا ہے

مزید پڑھیے

شرار سنگ جو اس شور و شر سے نکلے گا

شرار سنگ جو اس شور و شر سے نکلے گا جلوس لالہ و نسریں کدھر سے نکلے گا میں جانتا ہوں کہ اس کی خبر نہ آئے گی تناظر اس کا مگر ہر خبر سے نکلے گا سبھی اسیر ہوئے اپنی اپنی صبحوں کے وہ کوئی ہوگا جو قید سحر سے نکلے گا کسی کو اپنے سوا کچھ نظر نہیں آتا جو دیدہ ور ہے طلسم نظر سے نکلے گا جلال ...

مزید پڑھیے

زور و زر کا ہی سلسلہ ہے یہاں

زور و زر کا ہی سلسلہ ہے یہاں لفظ کو کون پوچھتا ہے یہاں پہلا تو اب کسی جگہ بھی نہیں جس طرف دیکھو دوسرا ہے یہاں رات دن پھر رہا ہوں گلیوں میں میرا اک شخص کھو گیا ہے یہاں سحر ہے یا طلسم ہے کیا ہے ہر کوئی راہ بھولتا ہے یہاں ہر کہیں سچ ہی بولنا چاہے شاید اکبرؔ نیا نیا ہے یہاں

مزید پڑھیے

گئی گزری کہانی لگ رہی ہے

گئی گزری کہانی لگ رہی ہے مجھے ہر شے پرانی لگ رہی ہے وہ کہتا ہے کہ فانی ہے یہ دنیا مجھے تو جاودانی لگ رہی ہے یہ ذکر آسماں کیسا کہ مجھ کو زمیں بھی آسمانی لگ رہی ہے وہ اس حسن توجہ سے ملے ہیں یہ دنیا پر معانی لگ رہی ہے غزل دنیا میں رہتا ہوں میں اکبرؔ یہ میری راجدھانی لگ رہی ہے

مزید پڑھیے

تمام عالم امکاں مرے گمان میں ہے

تمام عالم امکاں مرے گمان میں ہے وہ تیر ہوں جو ابھی وقت کی کمان میں ہے ابھی وہ صبح نہیں ہے کہ میرا کشف کھلے وہ حرف شام ہوں جو اجنبی زبان میں ہے ان آنگنوں میں ہیں برسوں سے ایک سے دن رات یہی رکا ہوا لمحہ ہر اک مکان میں ہے یہ عکس آب ہے یا اس کا دامن رنگیں عجیب طرح کی سرخی سی بادبان ...

مزید پڑھیے

رات آئی ہے بچوں کو پڑھانے میں لگا ہوں

رات آئی ہے بچوں کو پڑھانے میں لگا ہوں خود جو نہ بنا ان کو بنانے میں لگا ہوں وہ شخص تو رگ رگ میں مری گونج رہا ہے برسوں سے گلا جس کا دبانے میں لگا ہوں اترا ہوں دیا لے کے نہاں خانۂ جاں میں سوئے سوئے آسیب جگانے میں لگا ہوں پتھر ہوں تو شیشے سے مجھے کام پڑا ہے شیشہ ہوں تو پتھر کے زمانے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4340 سے 4657