حریف گردش ایام تو بنے ہوئے ہیں
حریف گردش ایام تو بنے ہوئے ہیں وہ آئیں گے نہیں آئیں گے ہم سجے ہوئے ہیں بڑا ہی خوشیوں بھرا ہنستا بستا گھر ہے مرا اسی لیے تو سبھی قمقمے جلے ہوئے ہیں وہ خود پسند ہے خود کو ہی دیکھنا چاہے سو اس کے چاروں طرف آئنے لگے ہوئے ہیں یہ کس حسیں کی سواری گزرنے والی ہے جو کائنات کے سب راستے ...