شاعری

نہ بے کلی کا ہنر ہے نہ جاں فزائی کا

نہ بے کلی کا ہنر ہے نہ جاں فزائی کا ہمیں تو شوق ہے بس یوں ہی نے نوائی کا جب اس کو جاننے نکلے تو کچھ نہیں جانا خدا سے ہم کو بھی دعویٰ تھا آشنائی کا رہ حیات میں کوئی نہیں تو کیا شکوہ ہمیں گلہ ہے تو بس اپنی بے وفائی کا ہماری آنکھوں سے شبنم ٹپک رہی ہے ابھی یہی تو وقت ہے اس گل کی ...

مزید پڑھیے

نظارگئ شوق نے دیدار میں کھینچا

نظارگئ شوق نے دیدار میں کھینچا پھر میں نے اسے اپنے ہوس زار میں کھینچا کھلتی نظر آتی ہے قبائے گل مقصد احساس طلب نے جو اسے خار میں کھینچا ہے دیدنی گل کارئ احساس و تخیل کیا عارض گل کو لب اظہار میں کھینچا تصویر سی اک بن گئی کیا جانیے کس کی قطروں نے نم اپنا مری دیوار میں ...

مزید پڑھیے

نئی زمینوں کو ارض گماں بناتے ہیں

نئی زمینوں کو ارض گماں بناتے ہیں خدا کے بعد کوئی سائباں بناتے ہیں وہ ایک لمحہ جسے تم نے مختصر جانا ہم ایسے لمحے میں اک داستاں بناتے ہیں پرانے رشتے پھر آنے لگے ہیں اپنے قریب نئے سرے سے چلو دوریاں بناتے ہیں خرد نہیں ہے یہاں بس جنون کا سودا ہم اس جنون سے آگے مکاں بناتے ہیں وہ عشق ...

مزید پڑھیے

بہت مشکل تھا مجھ کو راہ کا ہموار کر دینا

بہت مشکل تھا مجھ کو راہ کا ہموار کر دینا تو میں نے طے کیا اس دشت کو دیوار کر دینا تو کیوں اس بار اس نے میرے آگے سر جھکایا ہے اسے تو آج بھی مشکل نہ تھا انکار کر دینا پھر آخرکار یہ ثابت ہوا منظور تھا تجھ کو ہمارے عرصۂ ہستی کو بس بیکار کر دینا اسے ہے روز پانی کی طرح میری طرف آنا اور ...

مزید پڑھیے

اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھ چلتا ہے

اٹھا لیتا ہے اپنی ایڑیاں جب ساتھ چلتا ہے وہ بونا کس قدر میرے قد و قامت سے جلتا ہے کبھی اپنے وسائل سے نہ بڑھ کر خواہشیں پا لوں وہ پودا ٹوٹ جاتا ہے جو لا محدود پھلتا ہے مسافت میں نہیں حاجت اسے چھتنار پیڑوں کی بیاباں کی دہکتی گود میں جو شخص پلتا ہے میں اپنے بچپنے میں چھو نہ پایا جن ...

مزید پڑھیے

ہم جبر محبت سے گریزاں نہیں ہوتے

ہم جبر محبت سے گریزاں نہیں ہوتے زلفوں کی طرح تیری پریشاں نہیں ہوتے اے عشق تری راہ میں ہم چل تو رہے ہیں کچھ مرحلے ایسے ہیں جو آساں نہیں ہوتے داناؤں کے بھی ہوش اڑے راہ طلب میں ناداں جنہیں کہتے ہو وہ ناداں نہیں ہوتے جلووں کے ترے ہم جو تماشائی رہے ہیں سو جلوے ہوں نظروں میں تو حیراں ...

مزید پڑھیے

سوال کیا ہے جواب کیا ہے

سوال کیا ہے جواب کیا ہے یہ عذر خانہ خراب کیا ہے میں اپنی ہستی بدل رہا ہوں یہ سب حساب و کتاب کیا ہے تری محبت کے نام سب کچھ مرا کوئی انتساب کیا ہے کنارہ خود سے ہی کر لیا ہے اب اور حد اجتناب کیا ہے سفر ہی بس کار زندگی ہے عذاب کیا ہے ثواب کیا ہے

مزید پڑھیے

یوں بھی تو تری راہ کی دیوار نہیں ہیں

یوں بھی تو تری راہ کی دیوار نہیں ہیں ہم حسن طلب عشق کے بیمار نہیں ہیں یا تجھ کو نہیں قدر ہم آشفتہ سروں کی یا ہم ہی محبت کے سزاوار نہیں ہیں کیا حاصل کار غم الفت ہے کہ مجنوں اب دشت نوردی کو بھی تیار نہیں ہیں اکثر مرے شعروں کی ثنا کرتے رہے ہیں وہ لوگ جو غالب کے طرفدار نہیں ہیں اب ...

مزید پڑھیے

تمام شہر ہی تیری ادا سے قائم ہے

تمام شہر ہی تیری ادا سے قائم ہے حصول کارگہہ غم دعا سے قائم ہے تسلسل اس کے سوا اور کیا ہو مٹی کا یہ ابتدا بھی مری انتہا سے قائم ہے خدا وجود میں ہے آدمی کے ہونے سے اور آدمی کا تسلسل خدا سے قائم ہے تمام جوش محبت تمام حرص و ہوس وفا کے نام پہ ہر بے وفا سے قائم ہے یہ فاصلہ فقط ایک ریت ...

مزید پڑھیے

یہ کار بے ثمر ہے اگر کر لیا تو کیا

یہ کار بے ثمر ہے اگر کر لیا تو کیا اک دائرے میں ہم نے سفر کر لیا تو کیا دنیا سے میں نے بھی کوئی رغبت نہیں رکھی اس نے بھی مجھ سے صرف نظر کر لیا تو کیا خوشبو کبھی گرفت میں آئی نہ آئے گی پھولوں کو تو نے زیر اثر کر لیا تو کیا ڈھیروں ستارے اب بھی ترے آس پاس ہیں میں نے پسند ایک شرر کر لیا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 432 سے 4657