شاعری

موت اس بیکس کی غایت ہی سہی

موت اس بیکس کی غایت ہی سہی عمر بھر جس نے مصیبت ہی سہی حسن کا انجام دیکھیں اہل حسن عشق میرا بے حقیقت ہی سہی زندگی ہے چشم عبرت میں ابھی کچھ نہیں تو عیش و عشرت ہی سہی دیکھ لیتا ہوں تبسم حسن کا غم پرستی میری فطرت ہی سہی پردہ دار سادگی ہے ہر ادا یہ تصنع بے ضرورت ہی سہی درپئے آزار ہے ...

مزید پڑھیے

یوں سنگ دل حیات سے عہد و وفا کیا

یوں سنگ دل حیات سے عہد و وفا کیا دیوار درمیاں تھی مگر خود کو وا کیا مٹی کا رنگ و نور سے رشتہ قدیم تھا ہر بار زندگی نے نیا تجربہ کیا تھے دسترس میں یوں تو سب اسرار کائنات اس عمر بے وفا نے مگر نارسا کیا ہر اجنبی مقام سے تنہا گزر گئے اپنا ہی نقش پا تھا جسے رہنما کیا چمکا دیا لہو نے ...

مزید پڑھیے

ہر نفس منت کش آلام ہے

ہر نفس منت کش آلام ہے زندگی شاید اسی کا نام ہے ایک آنسو اور وہ بھی صرف ضبط کیا یہی امید کا انجام ہے سرگزشت عشق افسانہ نہیں زینت عنوان تیرا نام ہے حسن کی تفسیر بھی کچھ کیجیئے عشق بے شک اک خیال خام ہے عشق کی بے تابیاں ہوشیار ہوں اہل دل پر ضبط کا الزام ہے

مزید پڑھیے

بدن کی آنچ سے چہرہ نکھر گیا کیسا

بدن کی آنچ سے چہرہ نکھر گیا کیسا یہ میری روح میں شعلہ اتر گیا کیسا ہزار آنکھوں سے میں اس کا منتظر اور وہ مرے قریب سے ہو کر گزر گیا کیسا یہ کس ہوا کی انا توڑتی رہی ہم کو ہمارے خوابوں کی خرمن بکھر گیا کیسا دکھا کے ایک جھلک چاند ہو گیا اوجھل چڑھا نہ تھا کہ یہ دریا اتر گیا کیسا کس ...

مزید پڑھیے

پیہم اک اضطراب عجب خشک و تر میں تھا

پیہم اک اضطراب عجب خشک و تر میں تھا میں گھر میں آ رکا تھا مرا گھر سفر میں تھا کیا روشنی تھی جس کو یہ آنکھیں ترس گئیں کیا آگ تھی کہ جس کا دھواں میرے سر میں تھا بس ایک دھند خوابوں کی فکر و خیال میں بس ایک لمس درد کا شام و سحر میں تھا ہر عہد کو سمیٹے ہوئے چل رہا تھا میں نادیدہ ساعتوں ...

مزید پڑھیے

لفظوں کے ستم لہجوں کے آزار بہت ہیں

لفظوں کے ستم لہجوں کے آزار بہت ہیں کہنے کو تو اس شہر میں غم خوار بہت ہیں کچھ اپنے ہی دنیا میں نہیں اتنے زیادہ کچھ ان میں سے بھی شامل اغیار بہت ہیں ہر سمت سپیرے ہیں جمائے ہوئے ڈیرے اس شہر میں سانپوں کے خریدار بہت ہیں ہر سمت سے طوفان کی آمد کی ہیں خبریں اب مان لو ہم لوگ گنہ گار بہت ...

مزید پڑھیے

دل کی آنکھوں سے نکلتے ہیں جو کم کم آنسو

دل کی آنکھوں سے نکلتے ہیں جو کم کم آنسو جسم کی آنکھ میں آ جائیں نہ یک دم آنسو کیسے پانی پہ کوئی ریت سے بن پائے گا گھر کیسے مسکان سے کر پائیں گے سنگم آنسو جیسے ساون میں کبھی ٹوٹ کے بادل برسے یوں برستے ہیں مری آنکھ سے چھم چھم آنسو میں نے اجداد سے میراث میں پایا کیا ہے چار چھ نوحے ...

مزید پڑھیے

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود

جھوٹا ہے جانتا ہوں مگر اس کے باوجود رونق لگائے رکھتا ہے اک خواب کا وجود اس نے کتاب کھول کے رکھ دی ہے شیلف میں میری قبائے وصل کو کب مل سکا وجود اس بات سے ہی دیکھ لیں قربت ہمارے بیچ پہنا ہے میں نے روح پہ اس شخص کا وجود پھر میں کروں نہ ناز کیوں اپنی بڑائی پر یزداں نے اپنے ہاتھ سے ...

مزید پڑھیے

مشکل کو ذرا چھوڑ کے آسان کے بارے

مشکل کو ذرا چھوڑ کے آسان کے بارے کچھ سوچ مری تنگئ دامان کے بارے اک تیرے بلاوے پہ بہل جاتا ہے ورنہ معلوم ہے مجھ کو دل نادان کے بارے آغاز محبت میں توکل ہے ضروری مت سوچ کسی فائدہ نقصان کے بارے اس شہر میں ہر شخص کو سونے کی پڑی ہے حالانکہ بتایا بھی ہے طوفان کے بارے اس بستیٔ خوش آب ...

مزید پڑھیے

زمانے بھر کا جو سارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے

زمانے بھر کا جو سارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے یقیں کرو جو تمہارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے یہ ساری دنیا ہمارے دکھ سے بھری پڑی ہے یہ چاند سورج ستارہ دکھ ہے ہمارا دکھ ہے تمہاری نسبت سے ہی جو مجھ کو ملا ہوا ہے یہ ہجر بھی کتنا پیارا دکھ ہے ہمارا دکھ ہے یہ دنیا گویا ہے ایک بلڈنگ پہ کام جاری ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4312 سے 4657