غم حیات کہانی ہے قصہ خواں ہوں میں
غم حیات کہانی ہے قصہ خواں ہوں میں دل ستم زدہ ہے رازداں ہوں میں زیادہ اس سے کوئی آج تک بتا نہ سکا کہ ایک نکتۂ ناقابل بیاں ہوں میں نظر کے سامنے کوندی تھی ایک بجلی سی مجھے بتاؤ خدارا کہ اب کہاں ہوں میں خزاں نے لوٹ لیا گلشن شباب مگر کسی بہار کے ارمان میں جواں ہوں میں یہ کہہ رہی ہے ...