شاعری

غم حیات کہانی ہے قصہ خواں ہوں میں

غم حیات کہانی ہے قصہ خواں ہوں میں دل ستم زدہ ہے رازداں ہوں میں زیادہ اس سے کوئی آج تک بتا نہ سکا کہ ایک نکتۂ ناقابل بیاں ہوں میں نظر کے سامنے کوندی تھی ایک بجلی سی مجھے بتاؤ خدارا کہ اب کہاں ہوں میں خزاں نے لوٹ لیا گلشن شباب مگر کسی بہار کے ارمان میں جواں ہوں میں یہ کہہ رہی ہے ...

مزید پڑھیے

شعلے بھڑکاؤ دیکھتے کیا ہو

شعلے بھڑکاؤ دیکھتے کیا ہو جل اٹھے گھاؤ دیکھتے کیا ہو غرق خوناب ہونے والی ہے درد کی ناؤ دیکھتے کیا ہو دل کسی یاد نے چھوا ہوگا آگے بڑھ جاؤ دیکھتے کیا ہو انجم چرخ فکر آدم کا چل گیا داؤ دیکھتے کیا ہو پیے بیٹھے ہیں زہر دوراں ہم جام اٹھواؤ دیکھتے کیا ہو حسن سے لو نظر کی بھیک ...

مزید پڑھیے

دل فسردہ میں کچھ سوز و ساز باقی ہے

دل فسردہ میں کچھ سوز و ساز باقی ہے وہ آگ بجھ گئی لیکن گداز باقی ہے نیاز کیش بھی میری طرح نہ ہو کوئی امید مر چکی ذوق نیاز باقی ہے وہ ابتداے محبت کی لذتیں واللہ کہ اب بھی روح میں اک اہتزاز باقی ہے نہ ساز دل ہے اب اخترؔ نہ حسن کی مضراب مگر وہ فطرت نغمہ نواز باقی ہے

مزید پڑھیے

سینہ خوں سے بھرا ہوا میرا

سینہ خوں سے بھرا ہوا میرا اف یہ بد مست مے کدہ میرا نا رسائی پہ ناز ہے جس کو ہائے وہ شوق نا رسا میرا دل غم دیدہ پر خدا کی مار سینہ آہوں سے چھل گیا میرا یاد کے تند و تیز جھونکے سے آج ہر داغ جل اٹھا میرا یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا منت چرخ سے بری ہوں میں نہ ہوا ...

مزید پڑھیے

چیر کر سینے کو رکھ دے گر نہ پائے غم گسار (ردیف .. ے)

چیر کر سینے کو رکھ دے گر نہ پائے غم گسار دل کی باتیں دل ہی سے کوئی بیاں کب تک کرے مبتلائے درد ہونے کی یہ لذت دیکھیے قصۂ غم ہو کسی کا دل مرا دھک دھک کرے سب کی قسمت اک نہ اک دن جاگتی ہے ہاں بجا زندگی کیوں کر گزارے وہ جو اس میں شک کرے

مزید پڑھیے

دن مرادوں کے عیش کی راتیں

دن مرادوں کے عیش کی راتیں ہائے کیا ہو گئیں وہ برساتیں رات کو باغ میں ملاقاتیں یاد ہیں جیسے خواب کی باتیں حسرتیں سرد آہیں گرم آنسو لائی ہے برشگال سوغاتیں خوار ہیں یوں مرے شباب کے دن جیسے جاڑوں کی چاندنی راتیں دل یہ کہتا ہے کنج راحت ہوں دیکھنا غم نصیب کی باتیں جن کے دم سے شباب ...

مزید پڑھیے

جزو‌ و‌ کل کا ہم اس انداز سے رشتہ سمجھے

جزو‌ و‌ کل کا ہم اس انداز سے رشتہ سمجھے دیکھ کر قطرے کو ماہیت دریا سمجھے ہر ادا تیری ہم آہنگ تھی دل سے اتنی ہر ادا کو تری ہم دل کا تقاضا سمجھے ہم وہ خودبیں ہیں کہ ہنگامۂ دل کے آگے سارے ہنگامۂ گیتی کو تماشا سمجھے ہم کو مٹی کے گھروندوں کی حقیقت معلوم جسم کی خاک کو ہم نفس کا سایہ ...

مزید پڑھیے

اک جل تھل تھی کل تک یہ زمیں یہ دشت بھی کل تک دریا تھے

اک جل تھل تھی کل تک یہ زمیں یہ دشت بھی کل تک دریا تھے یہ شور تھا کل اک سناٹا یہ شہر بھی کل تک صحرا تھے آغاز اپنا وحشت بصری انجام اپنا شوریدہ سری ہم آج بھی ہیں بدنام بہت ہم کل بھی نہایت رسوا تھے تنہائی ذات کا سایہ ہے تنہائی اپنا ورثہ ہے ہم آج بھی ہیں تنہا تنہا ہم کل بھی تنہا تنہا ...

مزید پڑھیے

کس چمن کی خاک میں پھولوں کا مستقبل نہیں

کس چمن کی خاک میں پھولوں کا مستقبل نہیں دوربیں نظروں میں رنگ و بو ہیں آب و گل نہیں شوخیاں ہیں جس کی ہر جنبش میں لاکھوں بے نقاب کیوں وہ دزدیدہ نگاہی حق شناس دل نہیں جبر سہتا ہوں مگر کب تک سہوں انسان ہوں صبر کرتا ہوں مگر دل صبر کے قابل نہیں اے حوادث آشنا ایذا‌ طلب دل مژدہ باد جا ...

مزید پڑھیے

کیا کہوں جذبات کا طوفان کتنا تیز ہے

کیا کہوں جذبات کا طوفان کتنا تیز ہے دل بہ حد بے خودی احساس سے لبریز ہے عشق کی دنیا میں ہر تکلیف راحت خیز ہے اضطراب دل بھی اک حد تک سکوں آمیز ہے دیدنی ہے اب شکست ضبط کی بے چارگی مسکراتا ہوں مگر دل درد سے لبریز ہے دل نگاہ ناز کے اٹھنے سے پہلے اٹھ گیا میرے احساسات کی رفتار کتنی تیز ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4311 سے 4657