شاعری

یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے

یہ زندگانی کسی کی یادوں سے متصل ہے سو اس کے جانے پہ دل مرا مجھ سے مشتعل ہے خصوصی باتیں جو شاعری کی ہیں ایک ان میں یہ خون پیتی ہے اور پیتی بھی مستقل ہے ہمارا ہر دن کتاب کا ایک باب ہے اور کتاب وحشت کی داستانوں پہ مشتمل ہے ہے ایک خواہش کہ بہتے پانی میں جو ہے مضمر ہے ایک حسرت کہ جو ...

مزید پڑھیے

عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا

عشق میں نام کمائے گا تو چھا جائے گا تو کبھی دشت میں آئے گا تو چھا جائے گا بات سے بات گھمانے پہ تجھے داد ملی پھر تو تو شعر سنائے گا تو چھا جائے گا رقص فرقت میں کروں گا تو کیے جاؤں گا ابر وحشت کا جو چھائے گا تو چھا جائے گا وصل میں جان سے جائے گا تو مر جائے گا ہجر میں جان سے جائے گا تو ...

مزید پڑھیے

آیا ہوں ترے خواب کنارے پہ لگا کر

آیا ہوں ترے خواب کنارے پہ لگا کر طوفان سے تعبیر کی کشتی کو بچا کر جینے کا مزہ تجھ کو بھی آ جائے گا لیکن جو تجھ سے دغا کرتے ہیں تو ان سے وفا کر گاؤں کی روایت کو رکھا قائم و دائم اس شہر میں ہر موڑ پہ اک پیڑ لگا کر اس شہر کی گلیاں بھی مجھے کہتی ہیں عاجز لے جائے ہمیں اس کے محلے میں ...

مزید پڑھیے

مصائب کو چھپانا جانتا ہے

مصائب کو چھپانا جانتا ہے یہ لڑکا مسکرانا جانتا ہے تجھے وہ حور بھی لکھتا رہا ہے قلابوں کو ملانا جانتا ہے انا کو قتل کر دیتا ہے اپنی وہ روٹھوں کو منانا جانتا ہے تمہیں تو ہم اکیلے جانتے ہیں ہمیں سارا زمانہ جانتا ہے تعلق ختم کر ڈالا ہے جس نے روابط کو نبھانا جانتا ہے

مزید پڑھیے

ایقان کے ہم راہ کچھ اوہام پڑے تھے

ایقان کے ہم راہ کچھ اوہام پڑے تھے ہم ان کی گلی میں جو سر شام پڑے تھے میں مان نہیں پایا مگر دیکھ رہا تھا اس شخص کی چوکھٹ پہ در و بام پڑے تھے میں ایک صدی بعد کا غم دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی دن رات کے آلام پڑے تھے لاکھوں میں چنا ہم نے اسی ایک کو ورنہ پینے کو تو محفل میں کئی جام پڑے ...

مزید پڑھیے

ویرانی کے بادل چھانے لگ گئے ہیں

ویرانی کے بادل چھانے لگ گئے ہیں پنچھی اب اس گاؤں سے جانے لگ گئے ہیں اس کو جب سے دیکھا مجھ کو ہوش نہیں یارو میرے ہوش ٹھکانے لگ گئے ہیں شہر سے آئے مجنوں نے اک بات کہی اور دیوانے خاک اڑانے لگ گئے ہیں ساقی تیرے ایک اشارہ کرنے پر مے کش بھی اذان سنانے لگ گئے ہیں ہم نے اب اک اور محبت ...

مزید پڑھیے

تیرا خیال جاں کے برابر لگا مجھے

تیرا خیال جاں کے برابر لگا مجھے تو میری زندگی ہے یہ اکثر لگا مجھے دریا ترے جمال کے ہیں کتنے اس میں گم سوچا تو اپنا دل بھی سمندر لگا مجھے لوٹا جو اس نے مجھ کو تو آباد بھی کیا اک شخص رہزنی میں بھی رہبر لگا مجھے کیا بات تھی کہ قصۂ فرہاد کوہ کن اپنی ہی داستان‌‌ سراسر لگا مجھے آمد ...

مزید پڑھیے

خوش رنگ کس قدر خس و خاشاک تھے کبھی

خوش رنگ کس قدر خس و خاشاک تھے کبھی ذرے بھی زیب و زینت افلاک تھے کبھی اب ڈھونڈتے ہیں راہ تخاطب کے سلسلے کیا ہم وہی ہیں تم سے جو بے باک تھے کبھی گو دے سکے نہ سوز دروں کا ہمارے ساتھ یہ دیدہ ہائے خشک بھی نمناک تھے کبھی کچھ اور بھی عزیز ہوئی ہیں نشانیاں دامن وہ تار تار ہیں جو چاک تھے ...

مزید پڑھیے

حسن ہی کے دم سے ہیں یہ کہانیاں ساری

حسن ہی کے دم سے ہیں یہ کہانیاں ساری عشق ہی سکھاتا ہے خوش بیانیاں ساری خواب اور خوشبو کو چاہتوں کے جادو کو قید کر کے دکھلائیں پاسبانیاں ساری دل کی دھڑکنوں پر ہے انحصار افسانہ ایک سی نہیں ہوتیں نوجوانیاں ساری اک تبسم پنہاں اک نگاہ دزدیدہ اور پھر کہانی تھیں سر گرانیاں ساری یاد ...

مزید پڑھیے

سزا ہے کس کے لیے اور جزا ہے کس کے لیے

سزا ہے کس کے لیے اور جزا ہے کس کے لیے پتا نہیں در زنداں کھلا ہے کس کے لیے صراحئ مئے ناب و سفینہ ہائے غزل یہ حرف‌ حسن مقدر لکھا ہے کس کے لیے فقط شنید ہے اب تک جو دید ہو تو بتائیں بہار سبزہ و رقص صبا ہے کس کے لیے نہیں جو اپنے لیے باوجود ذوق نظر صحیفۂ رخ و رنگ حنا ہے کس کے لیے مٹا ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4313 سے 4657