شاعری

وہ بھی کیا دن تھے کیا زمانے تھے

وہ بھی کیا دن تھے کیا زمانے تھے روز اک خواب دیکھ لیتے تھے اب زمیں بھی جگہ نہیں دیتی ہم کبھی آسماں پہ رہتے تھے آخرش خود تک آن پہنچے ہیں جو تری جستجو میں نکلے تھے خواب گلیوں میں پھر رہے تھے اور لوگ اپنے گھروں میں سوئے تھے ہم کہیں دور تھے بہت ہی دور اور ترے آس پاس بیٹھے تھے

مزید پڑھیے

ہمارے جسم اگر روشنی میں ڈھل جائیں

ہمارے جسم اگر روشنی میں ڈھل جائیں تصورات زمان و مکاں بدل جائیں ہمارے بیچ ہمیں ڈھونڈتے پھریں یہ لوگ ہم اپنے آپ سے آگے کہیں نکل جائیں یہ کیا بعید کسی آنے والے لمحے میں ہمارے لفظ بھی تصویر میں بدل جائیں ہم آئے روز نیا خواب دیکھتے ہیں مگر یہ لوگ وہ نہیں جو خواب سے بہل جائیں یہ ...

مزید پڑھیے

تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے

تمہارے ہونے کا شاید سراغ پانے لگے کنار چشم کئی خواب سر اٹھانے لگے پلک جھپکنے میں گزرے کسی فلک سے ہم کسی گلی سے گزرتے ہوئے زمانے لگے مرا خیال تھا یہ سلسلہ دیوں تک ہے مگر یہ لوگ مرے خواب بھی بجھانے لگے نجانے رات ترے مے کشوں کو کیا سوجھی سبو اٹھاتے اٹھاتے فلک اٹھانے لگے وہ گھر ...

مزید پڑھیے

بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے

بتائیں کیا کہ کہاں پر مکان ہوتے تھے وہاں نہیں ہیں جہاں پر مکان ہوتے تھے سنا گیا ہے یہاں شہر بس رہا تھا کوئی کہا گیا ہے یہاں پر مکان ہوتے تھے وہ جس جگہ سے ابھی اٹھ رہا ہے گرد و غبار کبھی ہمارے وہاں پر مکان ہوتے تھے ہر ایک سمت نظر آ رہے ہیں ڈھیر پہ ڈھیر ہر ایک سمت مکاں پر مکان ہوتے ...

مزید پڑھیے

وہ حسن سبز جو اترا نہیں ہے ڈالی پر

وہ حسن سبز جو اترا نہیں ہے ڈالی پر فریفتہ ہے کسی پھول چننے والی پر میں ہل چلاتے ہوئے جس کو سوچا کرتا تھا اسی کی گندمی رنگت ہے بالی بالی پر یہ لوگ سیر کو نکلے ہیں سو بہت خوش ہیں میں دل گرفتہ ہوں سبزے کی پائمالی پر اک اور رنگ ملا آ کے سات رنگوں میں شعاع مہر پڑی جب سے تیری بالی ...

مزید پڑھیے

دل شوریدہ کی وحشت نہیں دیکھی جاتی

دل شوریدہ کی وحشت نہیں دیکھی جاتی روز اک سر پہ قیامت نہیں دیکھی جاتی اب ان آنکھوں میں وہ اگلی سی ندامت بھی نہیں اب دل زار کی حالت نہیں دیکھی جاتی بند کر دے کوئی ماضی کا دریچہ مجھ پر اب اس آئینے میں صورت نہیں دیکھی جاتی آپ کی رنجش بے جا ہی بہت ہے مجھ کو دل پہ ہر تازہ مصیبت نہیں ...

مزید پڑھیے

زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے

زندگی کیا ہوئے وہ اپنے زمانے والے یاد آتے ہیں بہت دل کو دکھانے والے راستے چپ ہیں نسیم سحری بھی چپ ہے جانے کس سمت گئے ٹھوکریں کھانے والے اجنبی بن کے نہ مل عمر گریزاں ہم سے تھے کبھی ہم بھی ترے ناز اٹھانے والے آ کہ میں دیکھ لوں کھویا ہوا چہرہ اپنا مجھ سے چھپ کر مری تصویر بنانے ...

مزید پڑھیے

سامان صد ہزار ہیں تو جاگ تو سہی

سامان صد ہزار ہیں تو جاگ تو سہی سب وقف انتظار ہیں تو جاگ تو سہی غافل نظر اٹھا کہ وہ آثار صبح نو گردوں پہ آشکار ہیں تو جاگ تو سہی اوقات تیری قوت بازو پہ منحصر لمحات سازگار ہیں تو جاگ تو سہی تیرا یقین تیرا عمل تیرے ولولے ہستی کا اعتبار ہیں تو جاگ تو سہی او محو خواب دیدۂ بینا کے ...

مزید پڑھیے

میں سمجھتا تھا حقیقت آشنا ہو جائے گا

میں سمجھتا تھا حقیقت آشنا ہو جائے گا کیا خبر تھی میری باتوں سے خفا ہو جائے گا رفتہ رفتہ ابتلائے غم شفا ہو جائے گا درد ہی حد سے گزرنے پر دوا ہو جائے گا ہم پہ تو پہلے ہی ظاہر تھا مآل بندگی پوجنے جاؤ گے جس بت کو خدا ہو جائے گا تجربے کی آنچ سے آخر رقیب رو سیہ ان کی قربت سے ہمارا ہم ...

مزید پڑھیے

ہم ازل سے ان چاہے ضابطوں میں رہتے ہیں

ہم ازل سے ان چاہے ضابطوں میں رہتے ہیں زندگی کا لالچ ہے قاتلوں میں رہتے ہیں ہم عجب مسافر ہیں راستوں سے ڈرتے ہیں منزلوں کی خواہش ہے اور گھروں میں رہتے ہیں آج بھی رہائی کے کچھ بچے کھچے جذبے ہم شکست خوردہ ہم جیدوں میں رہتے ہیں ڈھونڈتے ہیں اپنے کچھ گمشدہ ارادوں کو ہم کہ اپنے خوابوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4292 سے 4657