شاعری

یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے

یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے ہم پہ ہوتے ہیں زمانے کے ستم اچھا ہے وہ قدم کیا جو تجسس میں رہے منزل کے بڑھ کے خود چوم لے منزل وہ قدم اچھا ہے ہے تمنائے اسیری تو کبھی اس میں الجھ گیسوئے وقت کا پیچ اچھا ہے خم اچھا ہے امن و انصاف و مساوات کی خاطر لوگو تم اٹھاؤ جو بغاوت کا علم ...

مزید پڑھیے

جو سخت تر ہے وہ مشکل ابھی نہیں آئی

جو سخت تر ہے وہ مشکل ابھی نہیں آئی بڑھو کہ سرحد منزل ابھی نہیں آئی حیات ڈھونڈے گی جائے اماں نہ پائے گی وہ آزمائش قاتل ابھی نہیں آئی سن بلوغ کو پہونچا نہیں جنوں شاید کہ قید طوق و سلاسل ابھی نہیں آئی نہ جانے ہوں گے یہاں قتل کتنے حق والے سمجھ میں سازش باطل ابھی نہیں آئی خدا کا ...

مزید پڑھیے

حال دل بھی سنا کے کیا ہوگا

حال دل بھی سنا کے کیا ہوگا بے وفا کیسے با وفا ہوگا درد حد سے اگر سوا ہوگا جان جائے گی اور کیا ہوگا نا توانوں پہ سو طرح کے ستم سوچ انجام ظلم کیا ہوگا جان دے دیں گے راہ الفت میں یوں محبت کا حق ادا ہوگا ہم تو جور و جفا کے خوگر ہیں آپ سے اس کا کیا گلہ ہوگا سود در سود بڑھتا جاتا ...

مزید پڑھیے

شہر کا شہر جلا اور اجالا نہ ہوا

شہر کا شہر جلا اور اجالا نہ ہوا سانحہ کیا یہ مقدر کا نرالا نہ ہوا ہے فقط نام کو آزادئ اظہار خیال ورنہ کب کس کے لبوں پر یہاں تالا نہ ہوا ٹوٹتے شیشے کو دیکھا ہے زمانے بھر نے دل کے ٹکڑوں کا کوئی دیکھنے والا نہ ہوا جس نے پرکھا انہیں وہ تھی کوئی بے جان مشین دل کے زخموں کا بشر دیکھنے ...

مزید پڑھیے

حسن والوں کا اعتبار نہ کر

حسن والوں کا اعتبار نہ کر خوش جمالوں کا اعتبار نہ کر سازش تیرگی میں جو ہوں شریک ان اجالوں کا اعتبار نہ کر کب بدل جائیں یہ نہیں معلوم ہم خیالوں کا اعتبار نہ کر راہزن راہبر کے بھیس میں ہیں ان کی چالوں کا اعتبار نہ کر جن کا الجھا سا ہر جواب ملے ان سوالوں کا اعتبار نہ کر جو خود ...

مزید پڑھیے

آہ دل پر اثر نہ ہو جائے

آہ دل پر اثر نہ ہو جائے حسن کی آنکھ تر نہ ہو جائے داغ دل کی ترقیاں توبہ یہ ستارہ قمر نہ ہو جائے آشیاں تو بنا رہا ہوں مگر بجلیوں کو خبر نہ ہو جائے ڈر ہے گلشن کا آشیاں کا نہیں نذر برق و شرر نہ ہو جائے راز دل اس لئے نہیں کہتا عشق نا معتبر نہ ہو جائے دل سے ان کو بھلا تو دوں ...

مزید پڑھیے

جہان بے ثباتی میں تماشائے جہاں کب تک

جہان بے ثباتی میں تماشائے جہاں کب تک چمکتے مہر و مہ تارے زمین و آسماں کب تک شب غم میں تجلی پر نہ اترا اے دل مضطر ستاروں کی یہ چشمک اور رقص کہکشاں کب تک سمندر کی خموشی ایک طوفاں ساتھ لائے گی کسی نا مہرباں کی یہ نگاہ مہرباں کب تک بڑھائے جا قدم تو بڑھ کے سرگرم عمل ہو جا یوں ہی تکتا ...

مزید پڑھیے

دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا

دل میں خیال نرگس جانانہ آ گیا پھولوں سے کھیلتا ہوا دیوانہ آ گیا بادل کے اٹھتے ہی مے و پیمانہ آ گیا بجلی کے ساتھ ساتھ پری خانہ آ گیا مستوں نے اس ادا سے کیا رقص نو بہار پیمانہ کیا کہ وجد میں مے خانہ آ گیا اس چشم مئےفروش کی تاثیر کیا کہوں ہونٹوں تک آج آپ ہی پیمانہ آ گیا معلوم کس کو ...

مزید پڑھیے

دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا

دل مہجور کو تسکین کا ساماں نہ ملا شہر جاناں میں ہمیں مسکن جاناں نہ ملا کوچہ گردی میں کٹیں شوق کی کتنی راتیں پھر بھی اس شمع تمنا کا شبستاں نہ ملا پوچھتے منزل سلمیٰ کی خبر ہم جس سے وادیٔ نجد میں ایسا کوئی انساں نہ ملا یوں تو ہر راہ گزر پر تھے ستارے رقصاں جس کی حسرت تھی مگر وہ مہ ...

مزید پڑھیے

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں

لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں زندگانی پھر کہاں ناداں جوانی پھر کہاں دو گھڑی مل بیٹھنے کو بھی غنیمت جانئے عمر فانی ہی سہی یہ عمر فانی پھر کہاں آ کہ ہم بھی اک ترانہ جھوم کر گاتے چلیں اس چمن کے طائروں کی ہم زبانی پھر کہاں ہے زمانہ عشق سلمیٰ میں گنوا دے زندگی یہ زمانہ پھر کہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4259 سے 4657