یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے
یوں جو کھلتا ہے زمانے کا بھرم اچھا ہے ہم پہ ہوتے ہیں زمانے کے ستم اچھا ہے وہ قدم کیا جو تجسس میں رہے منزل کے بڑھ کے خود چوم لے منزل وہ قدم اچھا ہے ہے تمنائے اسیری تو کبھی اس میں الجھ گیسوئے وقت کا پیچ اچھا ہے خم اچھا ہے امن و انصاف و مساوات کی خاطر لوگو تم اٹھاؤ جو بغاوت کا علم ...