شاعری

مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے

مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہے سرور آرا شراب ارغوانی اب بھی ہوتی ہے مرے قدموں میں دنیا کی جوانی اب بھی ہوتی ہے کوئی جھونکا تو لاتی اے نسیم اطراف کنعاں تک سواد مصر میں عنبر فشانی اب بھی ہوتی ہے وہ شب کو مشک بو پردوں میں چھپ ...

مزید پڑھیے

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں

وہ کہتے ہیں رنجش کی باتیں بھلا دیں محبت کریں خوش رہیں مسکرا دیں غرور اور ہمارا غرور محبت مہ و مہر کو ان کے در پر جھکا دیں جوانی ہو گر جاودانی تو یا رب تری سادہ دنیا کو جنت بنا دیں شب وصل کی بے خودی چھا رہی ہے کہو تو ستاروں کی شمعیں بجھا دیں بہاریں سمٹ آئیں کھل جائیں کلیاں جو ہم ...

مزید پڑھیے

نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی

نہ وہ خزاں رہی باقی نہ وہ بہار رہی رہی تو میری کہانی ہی یادگار رہی وہی نظر ہے نظر جو بایں ہمہ پستی ستارہ گیر رہی کہکشاں شکار رہی شب بہار میں تاروں سے کھیلنے والے کسی کی آنکھ بھی شب بھر ستارہ بار رہی تمام عمر رہا گرچہ میں تہی پہلو بسی ہوئی مرے پہلو میں بوئے یار رہی کوئی عزیز نہ ...

مزید پڑھیے

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں

ان کو بلائیں اور وہ نہ آئیں تو کیا کریں بے کار جائیں اپنی دعائیں تو کیا کریں اک زہرہ وش ہے آنکھ کے پردوں میں جلوہ گر نظروں میں آسماں نہ سمائیں تو کیا کریں مانا کہ سب کے سامنے ملنے سے ہے حجاب لیکن وہ خواب میں بھی نہ آئیں تو کیا کریں ہم لاکھ قسمیں کھائیں نہ ملنے کی سب غلط وہ دور ہی ...

مزید پڑھیے

مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں

مری شام غم کو وہ بہلا رہے ہیں لکھا ہے یہ خط میں کہ ہم آ رہے ہیں ٹھہر جا ذرا اور اے درد فرقت ہمارے تصور میں وہ آ رہے ہیں غم عاقبت ہے نہ فکر زمانہ پئے جا رہے ہیں جئے جا رہے ہیں نہیں شکوۂ تشنگی مے کشوں کو وہ آنکھوں سے مے خانے برسا رہے ہیں وہ رشک بہار آنے والا ہے اخترؔ کنول حسرتوں ...

مزید پڑھیے

کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے

کس کو دیکھا ہے یہ ہوا کیا ہے دل دھڑکتا ہے ماجرا کیا ہے اک محبت تھی مٹ چکی یا رب تیری دنیا میں اب دھرا کیا ہے دل میں لیتا ہے چٹکیاں کوئی ہائے اس درد کی دوا کیا ہے حوریں نیکوں میں بٹ چکی ہوں گی باغ رضواں میں اب رکھا کیا ہے اس کے عہد شباب میں جینا جینے والو تمہیں ہوا کیا ہے اب دوا ...

مزید پڑھیے

یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں

یقین وعدہ نہیں تاب انتظار نہیں کسی طرح بھی دل زار کو قرار نہیں شبوں کو خواب نہیں خواب کو قرار نہیں کہ زیب دوش وہ گیسوئے مشکبار نہیں کلی کلی میں سمائی ہے نکہت سلمیٰ شمیم حور ہے یہ بوئے نو بہار نہیں کہاں کہاں نہ ہوئے ماہ رو جدا مجھ سے کہاں کہاں مری امید کا مزار نہیں غموں کی فصل ...

مزید پڑھیے

بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا (ردیف .. ن)

بجھا سا رہتا ہے دل جب سے ہیں وطن سے جدا وہ صحن باغ نہیں سیر ماہتاب نہیں بسے ہوئے ہیں نگاہوں میں وہ حسیں کوچے ہر ایک ذرہ جہاں کم ز آفتاب نہیں وہ باغ و راغ کے دلچسپ و دل نشیں منظر کہ جن کے ہوتے ہوئے خلد مثل خواب نہیں وہ جوئبار رواں کا طرب فزا پانی شراب سے نہیں کچھ کم اگر شراب ...

مزید پڑھیے

نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر

نکہت زلف سے نیندوں کو بسا دے آ کر میری جاگی ہوئی راتوں کو سلا دے آ کر فکر فردا و غم دوش بھلا دے آ کر پھر اسی ناز سے دیوانہ بنا دے آ کر عشق کو نغمۂ امید سنا دے آ کر دل کی سوئی ہوئی قسمت کو جگا دے آ کر کس قدر تیرہ و تاریک ہے دنیائے حیات جلوۂ حسن سے اک شمع جلا دے آ کر عشق کی چاندنی ...

مزید پڑھیے

سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے

سوئے کلکتہ جو ہم بہ دل دیوانہ چلے گنگناتے ہوئے اک شوخ کا افسانہ چلے شہر سلمیٰ ہے سر راہ گھٹائیں ہم راہ ساقیا آج تو دور مے و پیمانہ چلے اس طرح ریل کے ہم راہ رواں ہے بادل ساتھ جیسے کوئی اڑتا ہوا مے خانہ چلے شہر جاناں میں اترنے کی تھی ہم پر قدغن یوں چلے جیسے کوئی شہر سے بیگانہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4260 سے 4657