مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے
مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے نگاہوں سے بیاں دل کی کہانی اب بھی ہوتی ہے سرور آرا شراب ارغوانی اب بھی ہوتی ہے مرے قدموں میں دنیا کی جوانی اب بھی ہوتی ہے کوئی جھونکا تو لاتی اے نسیم اطراف کنعاں تک سواد مصر میں عنبر فشانی اب بھی ہوتی ہے وہ شب کو مشک بو پردوں میں چھپ ...