شاعری

آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے

آہ لب تک دل ناکام نہ آنے پائے عظمت عشق پہ الزام نہ آنے پائے ہم سے قائم ترے میخانے کی عظمت ساقی اور ہم تک ہی کوئی جام نہ آنے پائے زیر ترتیب ہے تاریخ روایات وطن حکم ہے اس میں مرا نام نہ آنے پائے تیری آنکھوں کے اگر ہوں نہ اشارے ساقی جام میں بادۂ گلفام نہ آنے پائے مژدہ اے اہل چمن آ ...

مزید پڑھیے

کمان چھوڑ گئے بے نظیر جتنے تھے

کمان چھوڑ گئے بے نظیر جتنے تھے لگے ہیں ٹھیک نشانے پہ تیر جتنے تھے فساد روکنے کم ظرف لوگ پہنچے ہیں گھروں میں رہ گئے روشن ضمیر جتنے تھے انہیں جلا دیا سنجیدگی کے سورج نے ہمارے عہد کے بچے شریر جتنے تھے تھکن اتار رہے تھے نئے سفر کے لئے سفر سے آئے ہوئے راہگیر جتنے تھے مرے بیان پہ ...

مزید پڑھیے

پیار عشق ہمدردی اور دوستی سازش

پیار عشق ہمدردی اور دوستی سازش میرے ساتھ ہوتی ہے روز اک نئی سازش آنے والے لمحوں کے ہم مزاج داں ٹھہرے کیسے کر سکے گی پھر ہم سے زندگی سازش وہ خود اعتمادی کا آئنہ رہا ہوگا ورنہ ایک مدت تک منتظر رہی سازش لے چلی ہیں ساحل پر مجھ کو سرپھری موجیں جیسے یہ بھی طوفاں کی ہو کوئی نئی ...

مزید پڑھیے

ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں

ہجر کی شام سے زخموں کے دوشالے مانگوں میں سیاہی کے سمندر سے اجالے مانگوں جب نئی نسل نئی طرز سے جینا چاہے کیوں نہ اس عہد سے دستور نرالے مانگوں اپنے احساس کے صحرا میں تقدس چاہوں اپنے جذبات کی گھاٹی میں شوالے مانگوں اپنی آنکھوں کے لئے درد کے آنسو ڈھونڈوں اپنے قدموں کے لئے پھول سے ...

مزید پڑھیے

گزرتے دوڑتے لمحے حساب میں لکھیے

گزرتے دوڑتے لمحے حساب میں لکھیے حقیقتوں کی تمنا بھی خواب میں لکھیے اذیتیں ہی نہ اپنی کتاب میں لکھیے سکوں کا پل بھی تو سانسوں کے باب میں لکھیے ہر ایک حرف سے جینے کا فن نمایاں ہو کچھ اس طرح کی عبارت نصاب میں لکھیے ہر ایک جنبش لب اور دل کی ہر دھڑکن سدا یقین بنی انقلاب میں ...

مزید پڑھیے

ہے یقیں مجھے مرا ہم نشیں مری اس ادا سے خفا نہیں

ہے یقیں مجھے مرا ہم نشیں مری اس ادا سے خفا نہیں نہ جھکے گا سر در حسن پر کہ صنم صنم ہے خدا نہیں مری آرزو مری عاشقی ہے جنوں کی شدتوں سے بری یہ مذاق نو ہے بڑا عجب کہ میں صرف تجھ پہ فدا نہیں ذرا دور ہیں مری منزلیں تو نظر اٹھا نہ خفا ہو یوں مرے ہم سفر مرا راستہ ترے راستے سے جدا نہیں ہے ...

مزید پڑھیے

ہم درد نہاں کو محفل میں رسوائے حکایت کر نہ سکے

ہم درد نہاں کو محفل میں رسوائے حکایت کر نہ سکے کہنے کو بہت کچھ تھا لیکن کچھ ان سے خطابت کر نہ سکے اے حسن ذرا دم بھر کے لئے کچھ شوخ تجھے بھی ہونا تھا دو دل تھے فدا آپس میں مگر اظہار محبت کر نہ سکے گزرے ہوئے لمحوں کی یادیں اب شوق وفا سے کہتی ہیں جو شے تھی قریب قلب و جگر اس شے سے رفاقت ...

مزید پڑھیے

صد حیف عدم کو ٹھکرا کر ہستی کی زیارت کر بیٹھے

صد حیف عدم کو ٹھکرا کر ہستی کی زیارت کر بیٹھے ناداں تھے ہم نادانی میں جینے کی حماقت کر بیٹھے خالق نے نوازا روز ازل کس طرح ہمیں کیا بتلائیں لیکن جو امانت پائی تھی ہم اس میں خیانت کر بیٹھے اس دیس میں جب ہر رہزن کو رہبر کا شرف پاتے دیکھا قدروں کے محافظ ہو کر بھی قدروں سے بغاوت کر ...

مزید پڑھیے

ذوق نظر بڑھائیے گلزار دیکھ کر

ذوق نظر بڑھائیے گلزار دیکھ کر الفت کا سودا کیجئے بازار دیکھ کر میں نے جنون عشق سے دامن بچا لیا ہر بوالہوس کو تیرا پرستار دیکھ کر میرے ہی در پہ تھا کوئی سائل کے روپ میں حیرت زدہ رہا مجھے نادار دیکھ کر نغمہ سرا نہ ہو سکا گلشن میں عندلیب طوفان و برق و باد کے آثار دیکھ کر بیتاب دل ...

مزید پڑھیے

بندش الفاظ ہی سے شاعری ہوتی نہیں

بندش الفاظ ہی سے شاعری ہوتی نہیں صرف جی لینے سے جیسے زندگی ہوتی نہیں شاعری کیفیت جذب و جنوں کا نام ہے یہ نہ ہو تو شاعری پھر شاعری ہوتی نہیں جو بھی ہو لیکن ہمارے واسطے یہ شاعری پردہ دار راز ہائے زندگی ہوتی نہیں گرمئ جذبات میں امکاں حسیں دھوکے کا ہے دل کی چنگاری فروغ دائمی ہوتی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4258 سے 4657